حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کی حمایت پر سخت تنقید کی۔
انہوں نے کہا: یہ انتہائی حیران کن پالیسی ہے کہ ایک ایسا شخص، جس نے 2015ء کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کی اور اب ایران پر جنگ مسلط کرکے نئے معاہدے کی کوشش کر رہا ہے، اسے امن کا علمبردار قرار دیا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے غزہ کی صورتحال پر بھی امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے صہیونی رجیم کے ساتھ مل کر غزہ میں فلسطینیوں کے قتلِ عام میں معاونت کی جبکہ اسرائیل کو مالی اور عسکری حمایت فراہم کر کے خطے میں جنگ کو مزید وسعت دی گئی، جس کے اثرات ایران تک پہنچے۔









آپ کا تبصرہ