حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، محترمہ فاطمہ فرحات نے حوزہ نیوز کے میڈیا اور سائبر اسپیس سنٹر سے وابستہ "امت مبعوث" موکب پر، علاقائی پیشرفت میں میڈیا کے کردار کا ذکر کیا اور بیانیے کی جنگ اور ٹارگٹڈ سرگرمیوں کے خلاف ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج اصلی جنگ، میڈیا وار اور رائے عامہ کے درمیان ہے اور مزاحمتی محاذ حقائق کا کچھ حصّہ دنیا تک پہنچانے میں کامیاب رہا ہے۔

انہوں نے اپنے خاندان کے میڈیا سرگرمیوں میں کردار کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے قیام کے بعد سے ہی میرے والد، سپاہیوں اور مجاہدین سے متعلق فوٹو گرافی اور میڈیا سرگرمیوں کے ذمہ دار تھے۔ میں نے بھی بچپن سے ہی اس شعبے میں دلچسپی لی اور اپنے والد سے میڈیا کا کام سیکھا۔ میرے والد کی شہادت کے بعد میں نے محسوس کیا کہ میرے کندھوں پر ذمہ داری آ گئی ہے اور مجھے اس راستے کو جاری رکھنا چاہیے۔

مغربی میڈیا اور بیانیہ کی جنگ
لبنانی میڈیا ایکٹوسٹ نے مغربی میڈیا کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں خبریں مغربی سیاسی اور اقتصادی طاقتوں کے زیرِ انتظام ہیں۔ مغربی میڈیا نے دنیا کی خبروں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے بے تحاشہ اخراجات کیے ہیں اور بہت سی خبریں صرف ان چینلز کے ذریعے شائع ہوتی ہیں جو ان کے منظور شدہ ہیں۔
محترمہ فرحات نے فلسطین کے حالات میں سوشل نیٹ ورکس کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ فلسطینیوں پر غاصب صیہونی حکومت کے حملوں کے دوران، سوشل نیٹ ورک ٹک ٹاک صیہونی حکومت کے جرائم کی حقیقی تصاویر اور بیانات شائع کرنے کا ایک پلیٹ فارم بن گیا تھا؛ اس کی وجہ سے وہ اس جگہ کو کنٹرول کرنے اور اس کی ملکیت اور انتظام لینے کی کوشش کرنے لگے۔
انہوں نے سائبر اسپیس میں جعلی خبروں کی اشاعت کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کی بدقسمتی سے بہت سے لوگ خبروں کے سچ ہونے پر یقین حاصل کیے بغیر مواد کو شائع کرتے ہیں اور یہ موضوع جھوٹ کے پھیلاؤ اور نفسیاتی کاروائیوں کا باعث بنتا ہے؛ لہٰذا لوگوں کو سچی اور جعلی خبروں میں فرق کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔
سائبر اسپیس میں فعال موجودگی
لبنانی ثقافتی ایکٹوسٹ نے سوشل نیٹ ورکس پر عوامی طاقتوں اور مزاحمتی تحریک کی فعال موجودگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سائبر اسپیس کے میدان کو دشمنوں کے لیے خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر ہم ایک فعال اور بیدار طور پر حاضر رہیں تو ہم رائے عامہ تک حقیقی بیانیہ پہنچا سکتے ہیں۔
انہوں نے امریکہ کی طاقت کی تصویر کشی میں سینما اور ہالی ووڈ کے کردار کی طرف نیز اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ برسوں سے ہالی ووڈ کی فلموں نے یہ تصور پیش کیا جاتا رہا کہ امریکہ ناقابلِ تسخیر اور دنیا کا نجات دہندہ ہے؛ لیکن ایران کی اسلامی مزاحمت نے دکھا دیا یہ تصور ایک دھوکا ہے اور ان کے دعوے حقیقت سے دور ہیں۔
محترمہ فرحات نے مزید کہا کہ آج ایران کے مختلف شہروں میں میڈیا ایکٹوسٹ مواد تیار کر رہے ہیں اور میدان میں عوام کی وسیع موجودگی کی عکاسی کر رہے ہیں اور یہ تصاویر دنیا تک پہنچ رہی ہیں۔ ایرانی عوام کے صبر، استقامت اور مزاحمت نے بہت سی قوموں کو متاثر کیا ہے۔
ایرانی میڈیا پروڈکشنز کی عالمی سطح پر عکاسی
انہوں نے ایرانی میڈیا پروڈکشنز بالخصوص اینیمیشنز اور ویڈیوز، جنہیں "لیگو فلمز" کہا جاتا ہے، کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئے طریقوں اور مؤثر مواد کے استعمال کی وجہ سے عالمی سطح پر مخاطبین کی طرف سے ان کاموں کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔
محترمہ فرحات نے مزید کہا کہ میں امریکی پیجزز کو فالو کرتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ یہ ویڈیوز بڑے پیمانے پر امریکی عوام میں دوبارہ شائع ہوتی ہیں اور یہاں تک کہ مغربی مخاطبین بھی ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
انہوں نے ایران میں حالیہ برسوں کے واقعات اور عوام کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیے غیر ملکی میڈیا کے عزائم کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مہسا امینی اور "عورت، زندگی، آزادی" کے فتنے میں ایرانی عوام کو تقسیم کرنے کی بڑی کوشش کی گئی، لیکن آج ایرانی خواتین نے ان میں سے بہت سے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
ایران-لبنان یکجہتی بیانیہ
لبنانی میڈیا ایکٹوسٹ نے ایران میں اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی اور لبنانی عوام کے درمیان گہری ہمدردی کا ذکر کیا اور کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے ساتھ جب لبنان پر غاصب صیہونی حکومت کے حملوں اور بے گناہ لوگوں کی شہادت کے بعد، میں نے دیکھا کہ ایرانی عوام حزب اللہ کے پرچم اٹھائے ہوئے ہمارے موکب میں آئے تو میں نے محسوس کیا کہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے ایرانیوں نے مجھے ہمدردی اور یکجہتی کے پیغامات بھیجے اور یہ حمایت لبنانی عوام کے لیے قابلِ قدر تھی۔
محترمہ فرحات نے شہید سید حسن نصراللّٰه کی شہادت اور لبنانی عوام پر اس کے اثرات کے بارے میں کہا کہ سید حسن نصراللّٰه کی شہادت سے چار دن پہلے میرے والد شہید ہو گئے تھے۔ جب میرے والد شہید ہوئے تو ہم نے کہا کہ سید حسن ہیں؛ لیکن جب سید حسن نصراللّٰه شہید ہوئے تو ہم نے کہا کہ ابھی امام خامنہ ای ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم تین ہفتے تک سید حسن نصرالله کی شہادت پر یقین نہیں کر سکے۔ یہاں تک کہ ان کے جنازے کے وقت، جب تک ان کی میت اسٹیڈیم میں داخل نہیں ہوئی، تب تک بھی کچھ لوگوں کو یقین نہیں آیا کہ وہ شہید ہو چکے ہیں۔
مزاحمت کا راستہ جاری رہے!
لبنانی میڈیا ایکٹوسٹ نے مزاحمت کے راستے کو جاری رکھنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ سید حسن نصرالله کی شہادت ہمارے لیے اپنے والد کی شہادت سے بڑھ کر بہت بھاری تھی، لیکن ہم ان کے راستے کو جاری رکھیں گے اور ان کے خون کو رائیگاں جانے نہیں دیں گے۔
انہوں نے رہبرِ انقلابِ اسلامی شہید امام خامنہ ای کے لبنانی عوام میں مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ انقلابِ اسلامی شہید امام خامنہ ای سے حزب الله لبنان کے عوام کی عقیدت بہت گہری ہے اور یہ محبت شہید سید حسن نصرالله کی تاکید اور ان سے عقیدت کی وجہ سے کافی حد تک قائم ہوئی ہے۔
محترمہ فاطمہ فرحات نے کہا کہ جب میں نے ایران میں رہبرِ انقلابِ اسلامی شہید امام خامنہ ای سے لبنانی عوام کی عقیدت کی سطح کے بارے میں بات کی تو بعض نے اس پر یقین نہیں کیا۔ ان کی شخصیت، استکبار مخالف جذبہ اور امریکہ کے خلاف مزاحمت میں خطے کی قوموں کے لیے متاثر کن ہے۔
آخر میں انہوں نے ایرانی عوام کی مزاحمت کو خطے کی قوموں کے لیے ایک اہم نمونہ قرار دیا اور کہا کہ ایرانی عوام کی مزاحمت اور میدان میں موجودگی ہمارے لیے بہت قیمتی اور متاثر کن ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومیں ایمان اور اتحاد پر بھروسہ کرکے دباؤ کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔









آپ کا تبصرہ