پیر 8 جون 2026 - 15:22
یہ کیسی جنگ بندی ہے جو ہماری سرزمین پر صیہونی قبضے کو تو نظر انداز کرتی لیکن ہمیں اپنے دفاع سے روکتی ہے؟!

حوزہ/ لبنانی اعلیٰ اسلامی شیعہ کونسل کے نائب سربراہ نے کہا: لبنانی (حاکم) قوت کا اپنے مذاکرات کاروں کے ذریعے واشنگٹن بیانیہ سے اتفاق کرنا اور اس کی تفصیلات کو قبول کرنا ہمارے لیے حیران کن ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی اعلیٰ اسلامی شیعہ کونسل کے نائب سربراہ حجت الاسلام والمسلمین شیخ علی الخطیب نے کہا: واشنگٹن سے مذاکرات کے بارے میں جاری کردہ بیان نے ہمیں حیران نہیں کیا لیکن لبنانی (حاکم) قوت کا اپنے مذاکرات کاروں کے ذریعے واشنگٹن بیانیہ سے اتفاق کرنا اور اس کی تفصیلات کو قبول کرنا ہمارے لیے حیران کن ہے۔

انہوں نے کہا: یہ بیانیہ ایک داخلی فتنے کو جنم لینے کا سبب ہے جس کے بارے میں ہم نے ہمیشہ خبردار کیا ہے اور کر رہے ہیں اور یہ دشمن کے ان اہداف میں سے ہے جس میں وہ مقاومت کو شکست دینے میں ناکام رہا ہے اور رہے گا۔

شیخ الخطیب نے لبنانی اعلیٰ اسلامی شیعہ کونسل کے صدر دفتر "حازمیہ" میں اس گفتگو کے دوران عید غدیر کی مناسبت اور امام خمینی (رہ) کی برسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں اس دن سے سرفراز کیا اور اپنے عہد و پیمان کے وفاداروں میں سے قرار دیا اور شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں امیرالمؤمنین اور ائمہ علیہم السلام کی ولایت سے وابستہ رہنے والوں میں سے قرار دیا۔" یہ وہ دعا ہے جو مومنین عید غدیر کے موقع پر مبارکباد میں ایک دوسرے کو دیتے ہیں؛ وہ دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خدا کے حکم پر عمل کیا۔

لبنان کی اعلیٰ اسلامی شیعہ کونسل کے نائب صدر نے لبنان کی صورت حال کے بارے میں کہا: فتنہ انگیز بیان جو گزشتہ منگل اور بدھ کو واشنگٹن میں ہونے والی مذاکرات سے جاری ہوا، نے ہمیں حیران نہیں کیا لیکن جو چیز ہمارے لیے حیران کن ہے، وہ لبنان کے حکمرانوں کا اپنے مذاکرات کاروں کے ذریعے اس بیانیہ سے اتفاق اور اس کے دلائل کو قبول کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: کیا یہ عقلی بات ہے کہ یہ بیان، اس مخلص گروہ کو جو اپنی سرزمین پر قابض صیہونی دشمن سے جنگ کر رہا ہے، "لبنان کا دشمن" قرار دے؟ اور یہ کیسی جنگ بندی ہے جو ہماری سرزمین پر صیہونی قبضے کو نظر انداز کرتی ہے اور شرط رکھتی ہے کہ لبنانی اپنی سرزمین سے قابض افواج کے فائدے کے لیے پیچھے ہٹ جائیں؟ اس کے علاوہ یہ بیان صیہونی دشمن کو لبنان میں نسل کشی جنگ جاری رکھنے کی کھلی اجازت دینا ہے، داخلی فتنے کے دروازے کھولنا ہے جس کے بارے میں ہم نے ہمیشہ خبردار کیا ہے اور یہ وہی مقصد ہے جس میں دشمن ناکام ہو چکا ہے اور مقاومت کو شکست دینے میں ناکام رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha