حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کراچی پاکستان کے تاریخی نشتر پارک میں آج، 7 جون 2026 کو، امام خمینیؒ کی 37 ویں برسی کے موقع پر "امام امت کانفرنس" کا عظیم الشان انعقاد کیا گیا۔ اس اہم کانفرنس میں شہر بھر کے جید شیعہ اور سنی علمائے کرام نے شرکت کی، جس نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یگانگت کا ایک روشن پیغام دنیا کو دیا۔

یہ عظیم الشان کانفرنس، تحریکِ بیداریِ امتِ مصطفیٰ کے تحت منعقد ہوئی؛ جس میں شیعہ سنی علمائے کرام سمیت خواتین و حضرات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔


کانفرنس کے دوران مقررین نے امام خمینیؒ کی زندگی، ان کی جدوجہد اور امتِ مسلمہ کے لیے ان کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ امام خمینیؒ کا اصل مقصد، مسلمانوں کو رنگ، نسل اور فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر ایک مضبوط امت بنانا تھا۔ مقررین نے موجودہ عالمی حالات میں امت کے اتحاد اور مظلوموں کی حمایت کے حوالے سے امام خمینی کے پیغام کو مشعلِ راہ قرار دیا۔

اس کانفرنس میں نہ صرف امام خمینیؒ کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، بلکہ کراچی کے تاریخی مقام پر شیعہ و سنی علماء کے ایک ساتھ بیٹھنے سے فرقہ وارانہ سازشوں کے خلاف ہم آہنگی کا ایک طاقتور عملی نمونہ بھی پیش کیا گیا۔

واضح رہے کہ کراچی کے نشتر پارک میں امام خمینیؒ کی 37 ویں برسی کے موقع پر منعقدہ "امام امت کانفرنس" کی سب سے بڑی خصوصیت، شیعہ و سنی علماء کا اتحاد تھا۔
اس موقع پر تحریکِ بیداریِ امتِ مصطفیٰ پاکستان کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے آنلائن خطاب کیا۔

امام امت کانفرنس کے نمایاں نکات مندرجہ ذیل ہیں:
شیعہ اور سنی جید علماء نے ایک ہی پلیٹ فارم سے خطاب کیا۔
امام خمینیؒ کی تعلیمات اور اتحادِ امت پر زور دیا گیا۔
کراچی میں فرقہ وارانہ سازشوں کے خلاف ہم آہنگی کا ایک تاریخی منظر دیکھا گیا۔
مظلوموں کی آواز اور امت کی وحدت کے لیے ایک عظیم اجتماع!











آپ کا تبصرہ