منگل 9 جون 2026 - 22:01
اسلام آباد؛ “امام حسینؑ سیرت النبیؐ کے ترجمان اور نوجوان نسل کے لیے نمونہ عمل” کے عنوان سے سیمینار

حوزہ/وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد پاکستان میں “امام حسینؑ سیرت النبیؐ کے ترجمان اور نوجوان نسل کے لیے نمونہ عمل” کے عنوان سے ایک عظیم الشان سیمینار منعقد ہوا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد پاکستان میں “امام حسینؑ سیرت النبیؐ کے ترجمان اور نوجوان نسل کے لیے نمونہ عمل” کے عنوان سے ایک شاندار فکری پروگرام منعقد ہوا۔ تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری، یونیورسٹی کے پروفیسرز، انتظامی ذمہ داران اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اسلام آباد؛ “امام حسینؑ سیرت النبیؐ کے ترجمان اور نوجوان نسل کے لیے نمونہ عمل” کے عنوان سے سیمینار

تقریب میں مختلف مقررین نے امام حسین علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ، سیرت، فضائل اور واقعۂ کربلا کے پیغام پر روشنی ڈالی۔

نیشنل رحمت للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے رکن علامہ عارف حسین واحدی نے اپنے خطاب میں امام حسین علیہ السلام کی عظیم شخصیت، ان کے فضائل، قیامِ کربلا کے اہداف و مقاصد اور امتِ مسلمہ کے لیے اس کے عملی پیغام کو تفصیل سے بیان کیا۔

اسلام آباد؛ “امام حسینؑ سیرت النبیؐ کے ترجمان اور نوجوان نسل کے لیے نمونہ عمل” کے عنوان سے سیمینار

انہوں نے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کو اتحاد و وحدت کی جتنی ضرورت ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ فرقہ واریت ملک کے امن، قومی وحدت اور امت کے اتحاد کے لیے ایک ناسور بن چکی ہے۔

انہوں نے طلبہ، اساتذہ اور دانشور طبقے سے اپیل کی کہ نوجوان نسل کو فرقہ واریت، تکفیر اور شدت پسندی سے دور رکھا جائے اور انہیں اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرایا جائے۔

علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ اسلام میں فرقوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں فرقوں کا وجود نہیں تھا، خلفائے راشدین کے دور میں بھی فرقوں کا نام و نشان نہیں تھا، حتیٰ کہ امام حسین علیہ السلام کے قیام کے وقت بھی کسی فرقے کا نام نہیں ملتا بلکہ اسلام ہی مسلمانوں کی شناخت تھا۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم فرقوں کو اس قدر اہمیت دے چکے ہیں کہ مساجد بھی اسلام کے بجائے مختلف فرقوں کی شناخت سے جانی جاتی ہیں، جس کا تدارک ناگزیر ہے۔

اسلام آباد؛ “امام حسینؑ سیرت النبیؐ کے ترجمان اور نوجوان نسل کے لیے نمونہ عمل” کے عنوان سے سیمینار

انہوں نے کہا کہ اہل بیت اطہارؑ اور صحابۂ کرامؓ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو بازو ہیں۔ انہی کے ذریعے اسلام کا پیغامِ امن، محبت، عدل اور انسانیت پوری دنیا تک پہنچا۔ اسلام ایک جامع اور عادلانہ نظامِ حیات ہے جو انسانی حقوق کا محافظ اور طبقاتی تفریق، ظلم اور ناانصافی کا مخالف ہے۔

علامہ واحدی نے مزید کہا کہ اتحادِ امت کے لیے کام کرنا اور فرقہ واریت کے خاتمے کی جدوجہد کرنا موجودہ دور کی عظیم ترین عبادت ہے۔ پاکستان کو داخلی و خارجی سطح پر درپیش چیلنجز کا مقابلہ بھی اسی وقت ممکن ہے جب قوم اتحاد، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دے گی۔

اسلام آباد؛ “امام حسینؑ سیرت النبیؐ کے ترجمان اور نوجوان نسل کے لیے نمونہ عمل” کے عنوان سے سیمینار

بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر طاہر الاسلام عسکری نے خطاب کرتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور پاکستان کی ترقی، استحکام اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے اپنا پیغام پیش کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے علم، وحدت اور قومی ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے حضرت علی علیہ السلام کے فرامین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قوموں کی حقیقی زندگی علم سے وابستہ ہے، جبکہ جہالت زوال اور پسماندگی کا سبب بنتی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوان نسل کو علم، تحقیق اور مثبت فکر کی جانب راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اسلام آباد؛ “امام حسینؑ سیرت النبیؐ کے ترجمان اور نوجوان نسل کے لیے نمونہ عمل” کے عنوان سے سیمینار

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو فرقہ واریت کے ناسور کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا اور ایک متحد قوم کی حیثیت سے آگے بڑھنا ہوگا۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر علامہ عارف حسین واحدی نے پروگرام کے منتظمین، سیرت النبی چیئر کے ذمہ داران، یونیورسٹی انتظامیہ اور بالخصوص وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ خان شنواری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے علمی و فکری پروگرام مستقبل میں بھی نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کریں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha