منگل 9 جون 2026 - 18:32
تنزانیہ میں ’’غدیر؛ امتِ مسلمہ کا نقطۂ اشتراک‘‘ کے عنوان سے علمی نشست کا انعقاد

حوزہ/ تنزانیہ کے شہر دارالسلام میں ’’غدیر؛ امتِ مسلمہ کا نقطۂ اشتراک‘‘ کے عنوان سے ایک علمی و ثقافتی نشست منعقد ہوئی، جس میں شیعہ و سنی علماء، یونیورسٹیوں کے اساتذہ، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے واقعۂ غدیر کو امتِ مسلمہ کے درمیان مکالمے، باہمی احترام اور وحدت کے فروغ کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تنزانیہ کے شہر دارالسلام میں ’’غدیر؛ امتِ مسلمہ کا نقطۂ اشتراک‘‘ کے عنوان سے ایک علمی و ثقافتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں واقعۂ غدیر کے مختلف پہلوؤں کا شیعہ اور اہل سنت کے نقطۂ نظر سے جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینیؒ کی رحلت کی سینتیسویں برسی کی مناسبت سے بھی انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

اس پروگرام میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر حاج ہمت پناہ، استاد خلیفہ خمیس، حجۃ الاسلام والمسلمین کندیچہ، ڈاکٹر علی دینا، شیخ علی کنیائی اور جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ تنزانیہ کے نمائندے سمیت متعدد علمی، دینی اور سماجی شخصیات نے خطاب کیا۔

جامعۃ المصطفیٰ کے نمائندے نے اپنے خطاب میں کہا کہ غدیر خم اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور متفقہ واقعہ ہے، جس کا ذکر نہ صرف شیعہ بلکہ اہل سنت کی معتبر کتب میں بھی موجود ہے۔ انہوں نے حدیثِ غدیر «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس کے مفہوم کی تشریح میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں، لیکن حضرت علی علیہ السلام کے فضائل، عظمت، علمی مقام اور اسلامی خدمات پر تمام مسلمان متفق ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ غدیر کو اختلاف کا محور بنانے کے بجائے باہمی گفتگو، اسلامی اخوت اور امت کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں امتِ مسلمہ کو اتحاد، تعاون اور مشترکہ چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مقررین نے اپنے خطابات میں امام خمینیؒ کی وحدتِ امت کے حوالے سے خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ مختلف اسلامی مذاہب کے درمیان قربت اور مشترکات کو فروغ دینا ان کے فکری ورثے کا اہم حصہ ہے۔

نشست میں بین المذاہب علمی مکالمے، پُرامن بقائے باہمی، انتہاپسندی کے سدباب اور عالمِ اسلام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

تقریب کی ایک نمایاں اور روح پرور جھلک امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے متبرک پرچم کی آمد تھی، جس نے محفل کو مزید روحانی فضا عطا کی۔ شرکاء نے اس موقع پر حضرت علی علیہ السلام سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا اور ایسے پروگراموں کے تسلسل کو امتِ مسلمہ کے اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کے لیے ضروری قرار دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha