حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمع علمائے پاکستان (حوزۂ علمیہ قم المقدسہ) کے زیرِ اہتمام، پاکستانی علماء، فضلاء اور خاندانوں کی بھرپور شرکت کے ساتھ امام خمینیؒ کمپلیکس کے قدس ہال میں منعقد ہوئی۔
مکمل تصاویر دیکھیں:
قم المقدسہ میں مجمع علمائے پاکستان (حوزۂ علمیہ) کے زیرِ اہتمام "دفاعِ اُمت کانفرنس" کا انعقاد
اس تقریب میں حجت الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان نے بطورِ مرکزی مقرر خطاب فرمایا۔ اس کے علاوہ آیتاللہ وطنخواه، حجتالاسلام والمسلمین شمسیپور (جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ میں پاکستان کے نمائندے)، حجتالاسلام والمسلمین متولی (وزارتِ ثقافت و روابط کے معاونت سے) اور ڈاکٹر حمید رضا مقصودی بھی شریک تھے۔

اپنے خطاب کے دوران حجتالاسلام پناہیان نے ملتِ پاکستان کی بین الاقوامی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستانی عوام دنیا بھر میں موجود ہیں اور وہ حالیہ علاقائی تبدیلیوں کے حقائق کو واضح کرنے، رھبر مسلمین جہاں کا تعارف کرانے اور دشمنوں کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ کانفرنس حالیہ علاقائی حالات کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے مؤقف کو واضح کرنے اور باہمی اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کے مقصد سے منعقد کی گئی۔ اختتام پر مجمع علمائے پاکستان کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔

اعلامیہ کے اہم نکات:
جنت البقیع کی مسماری کی برسی پر گہرے رنج و غم کا اظہار اور تعزیت۔
امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات کی شدید مذمت۔
شہید رہبر کو عالمی مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے دفاع کے حق کو مکمل طور پر جائز اور مسلم تسلیم کیا گیا۔
نئی قیادت کے ساتھ تجدیدِ بیعت کا اعلان اور ایران کے ساتھ پاکستانی عوام کی مکمل حمایت کا اعادہ۔
موجودہ حالات میں خاموشی یا غیرجانبداری کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔
ملتِ ایران کی وحدت، بصیرت اور استقامت کو عالمِ اسلام کے لیے نمونہ قرار دیا گیا۔
پاکستان میں اتحاد کو فروغ دینے اور تفرقہ انگیزی کے خلاف کھڑے ہونے پر زور۔
ایران کے اقدامات کے بارے میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی یا تحریف کو مسترد کیا گیا۔
شیعہ و سنی جید علماء کے جرات مندانہ مؤقف کی حمایت۔
پاکستان کے دینی رہنماؤں سے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی اپیل۔
پاکستان کے استحکام کی اہمیت اور اصولی طور پر صہیونیت مخالف موقف پر قائم رہنے کی تاکید۔
امتِ مسلمہ سے اپیل کہ بیداری، اتحاد اور استقامت کے ساتھ ظلم کے خلاف ڈٹی رہے۔

کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں مسلم اُمہ کو اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ مقررین نے میڈیا اور عالمی بیانیے میں موجود یکطرفہ معلومات کا مقابلہ کرنے کے لیے علمی، ثقافتی اور تبلیغی میدان میں فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ اجتماع پاکستانی طلبہ اور علماء کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، ایران و پاکستان کے مذہبی و فکری روابط کو مضبوط بنانے اور امتِ مسلمہ کے مشترکہ اہداف کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔









آپ کا تبصرہ