پیر 30 مارچ 2026 - 13:13
ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی کا پاکستانی آرمی چیف کے نام کھلا خط!

حوزہ/حالیہ دنوں اسلامی جمہوریہ ایران پر غاصب اسرائیل اور شیطان بزرگ امریکہ کی جارحیت کے خلاف احتجاج کیے جانے پر پاکستانی آرمی چیف نے شیعہ علماء سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن کو ایران سے ہمدردی ہے وہ ایران چلے جائیں؛ اس خطاب پر پاکستان کے معروف عالم دین اور خطیب علامہ ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی نے آرمی چیف کے نام ایک خط لکھا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علامہ ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی کے خط کا متن مندرجہ ذیل ہے۔

بسم الله الرحمٰن الرحیم

آرمی چیف جناب سید عاصم منیر صاحب

السلامُ علیکم!

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے لاکھوں بے گناہ انسانوں کے قاتل، بین الاقوامی مجرم، بدمعاش امریکہ اور اسرائیل کا اسلامی جمہوریہ ایران پر ناجائز حملہ، اسی طرح تمام انسانی اقدار کو پامال کرتے ہوئے اس صدی کے عظیم الشان رہنما امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی المناک شہادت نیز میناب اسکول کی 175 مقتول بچیوں اور ہزاروں دوسرے بے گناہ انسانوں کے قاتل کے خلاف پاکستان میں احتجاج اور ہمدردی کا اظہار، زندہ ضمیری کی علامت اور قابلِ تعریف عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہم اور آپ بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ فرمایا: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى؛

مؤمنوں کی ایک دوسرے سے محبت، ایک دوسرے کے ساتھ رحم دلی اور ایک دوسرے کی طرف التفات و تعاون کی مثال ایک جسم کی طرح ہے، جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو باقی سارا جسم بیداری اور بخار کے ذریعے سے (سب اعضاء کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر) اس کا ساتھ دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6586]

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ

ایمان والوں میں باہم ایسی محبت و مودت، ایسی رحمت و شفقت اور ہمدردی و خیرخواہی اور ایسا دلی تعلق ہونا چاہیے کہ دیکھنے والی آنکھ ان کو اس حالت میں دیکھے کہ اگر ان میں سے کوئی دکھ، درد یا تکلیف و مشکل میں مبتلا ہے تو سب اس کو اپنا دکھ، درد اور مصیبت خیال کریں اور سب اس کی پریشانی و بے قراری میں مبتلا ہوں اور اس کو اپنے دکھ، درد کی طرح دور کرنے کی کوشش کریں۔

اسلامی دنیا سیرت و فرمان نبوی صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو فراموش کرنے کی وجہ سے آج استعمار کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے، جبکہ دشمن اسلامی دنیا کو مزید تقسیم اور کمزور کرنے کی ناپاک جسارت اور شیطانی منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔

شیعہ علماء سے آپ کا خطاب سنا، لیکن نہایت افسوس ہوا جب آپ نے ایران کی حمایت کرنے والوں کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا! پھر تو سارا پاکستان اس جرم میں مبتلا ہے سب کو ملک چھوڑنا پڑے گا۔

جرنل صاحب! کسی مظلوم سے ہمدردی ایک فطری عمل ہے اگر حق کا ساتھ نہیں دے سکتے تو باطل کا ساتھ بھی نہیں دینا چاہیے۔ آپ تو ایک ایٹمی ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے محافظ اور اس کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے نگہبان ہیں آپ سے تو دشمن مایوس ہونا چاہیے تھا، لیکن آپ نے مظلومین سے یکجہتی کے جرم میں ہمیں پاکستان چھوڑنے کا کہا!

ہم کہیں گے امریکہ اور اسرائیل سے ہمدردی رکھنے والوں کو پاکستان چھوڑنا چاہیے کیونکہ پاکستان لا الہ اللہ کی بناد پر وجود میں آیا ہے جو ہمیشہ مظلومین کانفرنس ساتھ دیتا رہے گا۔حافظ صاحب! قرآن مجید ہمیں کفار کے خلاف متحد کرتا ہے آپ حافظ قرآن مجید بھی ہیں تو ضرور یاد ہوگا:"مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ "(سورہ فتح، آیت29)۔آج ہم بالکل قرآنی اصولوں کے خلاف چل رہے ہیں۔فلسطین کے 74ہزار شہیدوں کے قاتلوں سے ہم بےزار ہیں۔ان قاتلوں سے دوستی حرام ہے اور جرم۔

آپ کو ہماری تاریخ کا تو پتہ ہوگا؟

ہم نے 14سو سال سے موت کو شکست دی ہے ہم غدیری، عاشورائی اور خیبری ہیں۔ہم مرنے سے نہیں ڈرتے، کیونکہ شہید کا خون موجیں ایجاد کرتا ہے جیسا کہ آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت کے بعد دنیا اس حقیقت کو دیکھ رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل جیسے درندوں کو اب منہ چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی۔ان دونوں کے لیے تو ایران اور حزب اللہ کافی ہے۔ان کو نہ ہماری اور نہ ہی آپ کی شاید ضرورت ہی نہ پڑے!جو قوم اللہ کے آگے جھکتی ہو وہ کسی اور کے آگے بھلا کیسے جھک سکتی ہے!

چیف صاحب! یہ وقت امت کو توڑنے کا نہیں، بلکہ جوڑنے کا ہے

آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ پاکستان کو بنانے والے شیعوں سے کبھی مادر وطن کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا البتہ ڈالروں کے پیچھے قومی عزت اور ملکی وقار کا سودا کرکے استعمار کے آگے لیٹنے والوں سے پاکستان کو خطرہ ضرور ہے۔یاد رکھیں غزه کے قاتلوں سے دوستی دنیا اور آخرت دونوں کی بربادی اور رسوائی کی صورت میں نکلے گی۔ احادیث کی رو سے ایرانی اور اہل مشرق ہی فلسطین کو آزادی دلائیں گے اب وہ وقت زیادہ دور نہیں ایران کا محافظ تو اللہ ہے وہی اسے بچائے گا اس بہادر قوم نے آیت الله شہید سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد موجودہ سپریم لیڈر آیت الله مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی قیادت میں امریکہ اور اسرائیل کا وہ حشر کیا ہے جس کا تذکرہ خود امریکہ میں اور پوری دنیا میں ہو رہا ہے دہرانے کی اب ضرورت باقی نہیں رہی۔ اب ایران کو دنیا کا سپر طاقت بننے سے امریکہ کا باپ بھی نہیں روک سکتا جناب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

اب اسلامی نیو ورلڈ آرڈر جاری ہونے کو ہے اسلامی مشرقی وسطی وجود میں آنے کو ہے امریکہ اپنے آپ کو بچانے سے عاجز نظر آتا ہے جو امریکہ سپر پاور کہلاتا تھا اب وہ کاغذی شیر لگ رہا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالٰی کا وعدہ ہے:

"سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِينَ"( آل عمران، 151)۔ہم کل بھی مظلومین عالم کے حامی تھے ہم آج بھی ان کے ساتھ ہیں اور آئندہ بھی حامی رہیں گے۔

پاکستان زندہ باد!

و سلام علی عباد الله الصالحين

محمد یعقوب بشوی حوزہ علمیہ قم

29 مارچ 2026

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha