تحریر: مولانا سید ذہین علی کاظمی نجفی
حوزہ نیوز ایجنسی I خطے کے سیاسی حالات کے تناظر میں مختلف بین الاقوامی رپورٹس، تجزیاتی مباحث اور سیاسی حلقوں میں یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ امریکہ اور اس کے بعض اتحادی، ایران کے مقابلے میں اپنی پالیسیوں کی ناکامی اور واضح شکست کے بعد اب ایک نئے انداز سے خطے میں فرقہ واریت اور شدت پسندی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو باہمی اختلافات میں الجھا کر اسلامی دنیا کی داخلی قوت کو کمزور کرنا ہے۔
اہلِ فکر کے مطابق ایران کے خلاف محاذ آرائی میں واضح شکست اور مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد بعض قوتیں اب نئے ذرائع سے دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں، جن میں فرقہ وارانہ ماحول سازی ایک نمایاں پہلو بن کر سامنے آ رہا ہے۔ ان کے مطابق بدلتی ہوئی علاقائی سیاسی صورتحال میں داخلی انتشار پیدا کرنا بیرونی قوتوں کے لیے ایک آزمودہ طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
امریکہ کے مختلف صحافیوں، بعض تجزیہ نگاروں اور سیاسی شخصیات کی گفتگو اور رپورٹس میں بھی اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ماضی میں بعض ممالک کے اندر مخصوص شدت پسند اور فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والے گروہوں کو سپورٹ کر کے علاقائی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہی طرزِ عمل مختلف ادوار میں کئی مسلم ممالک کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت بھی خاص طور پر ایسے ممالک کو ہدف بنایا جا رہا ہے جہاں مذہبی تنوع موجود ہے، تاکہ سنی و شیعہ کے درمیان کشیدگی پیدا کر کے داخلی استحکام کو متاثر کیا جا سکے۔ پاکستان کے حوالے سے بھی اطلاعات ہیں کہ بعض عناصر کو متحرک کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے، حالانکہ پاکستان کی اکثریت ہمیشہ مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور باہمی احترام کو ترجیح دیتی رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فرقہ واریت اور شدت پسندی ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعے استعمار کم خرچ میں عالمِ اسلام کے خلاف تیزی سے مؤثر نتائج حاصل کر سکتا ہے، کیونکہ جب مسلمان اندرونی اختلافات میں الجھ جائیں تو بیرونی قوتوں کے لیے اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
دانشور حلقے اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ مسلمان اعتدال پسندی سے کام لیں، جذباتی ردعمل سے بچیں، اور دشمن کی ان نئی چالوں کو سمجھتے ہوئے داخلی اتحاد کو مضبوط بنائیں۔ ان کے مطابق مسلم امہ اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ یہود و نصاریٰ کی سازشوں کے مقابلے میں یکجا ہو کر سیاسی، فکری اور سماجی سطح پر مؤثر حکمتِ عملی اختیار کریں تاکہ فرقہ وارانہ فضا پیدا کرنے والی ہر کوشش ناکام بنائی جا سکے۔









آپ کا تبصرہ