حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آج بدھ کے روز مرکزی انجمن امامیہ گلگت، انجمن امامیہ بلتستان و انجمن امامیہ استور اور صدر ہیئت آئمہ جمعہ و جماعت گلگت کا اہم اجلاس زیر صدارت سید راحت حسین الحسینی، مرکزی امامیہ جامع مسجد گلگت کے مرکزی دفتر میں منعقد ہوا جس میں تینوں ڈویژن کے صدور انجمن و کابینہ اراکین سمیت علمائے کرام نے شرکت کی۔ اجلاس میں عالمی جنایت کار امریکہ اور اس غاصب صہیونی ریاست کے ہاتھوں رہبر معظم، اْمید مستصفین جہان، مدافع فلسطین و غزہ حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی اہل خانہ سمیت دلسوز شہادت کے نتیجے میں پوری دنیا میں بالعموم اور بالخصوص گلگت بلتستان اور ملک عزیز پاکستان میں ہونے والے استعمار مخالف احتجاجی پروگرامات کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان میں احتجاجی مظاہروں کے دوران رونما ہونے والے دلخراش سانحے میں کمسن نوجوانوں کے قتل عام اور سینکڑوں نوجوانوں کو زخمی کرنے نیز سرکاری املاک کو نذر آتش کرنے جیسے واقعات کا بغور جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں رہبر معظم کی شہادت کو قلب اسلام پر وار قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ اس دن پوری ملت اسلامیہ بالاخص مکتب تشیع سوگوار تھی، لاکھوں کے احتجاجی مظاہرے متوقع تھے مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رہبر معظم کی شہادت کی عوام الناس سے پہلے خبر ملنے کے باوجود ضروری حفاظتی اقدامات کئے اور نہ ہی سوگواروں کے جذبات کا صحیح اندازہ لگایا نیز اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے نہتے نوجوانوں کا گلگت اور سکردو میں قتل عام کیا گیا اور 12 سال سے 24 سال کے درمیان نوجوانوں کے سینے اور سروں پر سیدھی گولیاں مار کر اور سینکڑوں سوگواروں کو شہید اور زخمی کر کے رہبر معظم کی شہادت کے زخم پر مرہم رکھنے کے بجائے مکتب تشیع کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں اس بربریت کی ملت جعفریہ ہرگز مستحق نہیں تھی، ضلعی انتظامیہ اور حکومت گلگت بلتستان کے پاس درجنوں حفاظتی اقدامات کی دستیابی کے باوجود صرف نظر کرکے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ظلم و بربریت کا بازار گرم کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اپنی مجرمانہ غفلت کی سزاء ملت جعفریہ کے سوگوار نوجوانوں کو دی گئی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ ستم بالائے ستم فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدارت میں منعقد ہونے والے سرکردہ بزرگ علماء کے اجلاس میں علماء کرام کی توہین، نوجوانوں کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کرنے، ملکِ عزیز چھوڑ کر ایران ہجرت کرنے کی گفتگو نے ملتِ جعفریہ کی سوگواری میں نہ صرف مزید اضافہ کیا بلکہ بہت سارے سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ کیا ملکِ عزیز کو بنانے میں بنیادی کردار ادا کرنے اور اس کی تا ایندم نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنے والی اس مکتب کے ساتھ اس قسم کا توہین آمیز رویہ مناسب تھا؟ علاوہ ازیں گلگت اور بلتستان میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں غیر ملکی ہاتھ تلاش کرنے، سانحہ 9 مئی سے جوڑنے، منظم سازش کا شاخسانہ قرار دینے، جلاو گھیراو کے بیانیہ کی آڑ میں بے گناہ سینکڑوں نوجوانوں کو شہید و زخمی کرنے، فوجی عدالتوں کے قیام کی بازگشت، پولیس اور جی بی اسکاوٹس پر عدم اعتماد کرتے ہوئے ایف سی کی تعیناتی جیسے بیانات و اقدامات نے ملت تشیع گلگت بلتستان کو انتہائی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
لہذا ملتِ جعفریہ گلگت بلتستان جیسے مثالی پُرامن خطے میں ان واقعات کا رونما ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ اقدامات گزشتہ 78 سال کی تمام تر محرومیوں کا نتیجہ ہے۔ ملتِ جعفریہ یہ سمجھتی ہے کہ جنرل ضیاء الحق سے تا ایندم ریاستی پالیسیوں کے ہاتھوں مکتبِ تشیع کے قائدین اور عوام کا قتلِ عام جس میں شہید قائد سید عارف حسین الحسینی، سانحہ شہید سید ضیاء الدین رضوی کا قتل، سانحہ 1988ء، سانحہ کوہستان، سانحہ چلاس، سانحہ لولوسر اور سانحہ ہڈور جیسے واقعات میں ملوث دہشت گردوں کی عدم گرفتاری، ملتِ تشیع کے ہاتھوں بلا شرکت غیرے ڈوگروں سے آزاد کردہ سرزمین گلگت بلتستان کو متنازعہ قرار دے کر 78 سالوں سے بے آئینی کی کیفیت میں رکھنا، گلگت بلتستان کے قدرتی معدنی وسائل پر ناجائز قبضوں کی کوشش، بیوروکریسی میں عدم توازن، من پسند حکومتوں کے قیام اور برخاستگی، ڈیموگریفک تبدیلیاں، اے ٹی اے و فوجی عدالتوں کا قیام، شیڈول فور جیسے کالے قوانین کا نفاذ، کمزور جمہوری نظام، بے روزگاری اور ایران نوازی کے بے جا الزامات نے ملتِ تشیع اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے پیدا کیے ہیں۔
بالخصوص شہید رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای، فلسطین و غزہ و حماس کے قاتل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل پرائز کے لیے نامزدگی، غزہ پیس آف بورڈ میں شرکت، پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے کی آڑ میں ایران امریکہ جنگ میں فریق بننے کی کوشش، اور مورخہ یکم مارچ، 2026ء قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں بے گناہ کمسن نوجوانوں کے قتل عام نے اعتماد کی فضا کو بھی مزید متاثر کیا ہے۔ ملتِ تشیع نے ملک کی سالمیت کے لیے کماحقہ مسلح افواج کی ضرورت سے کبھی انکار نہیں کیا ا ور نہ ہی ریاست اور مکتبِ تشیع کے درمیان فاصلوں کو نیک شگون قرار دیا ہے۔ بلکہ 1965ء کی جنگ 1971ء کی جنگ، کارگل کی جنگ سمیت دشمن کے ساتھ ہونے والی جنگوں میں مکتب تشیع ہمیشہ اپنی پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے۔ ہمارے ہزاروں شہداء اور غازیان اس امر کا بین ثبوت ہے۔ لہٰذا اعتمادِ باہمی کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ مذکورہ امور کی جانب سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔
ملتِ جعفریہ کو سرکاری اور فوجی تنصیبات کے مالی نقصانات پر انتہائی افسوس ہے اور ان نقصانات کی عزت و حرمت کے قائل بھی ہیں، مگر انسانی جانوں کی عزت و حرمت سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس لیے قرآنِ مجید میں ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ لہذامکتبِ جعفریہ واضح کرتی ہے کہ ہم جلاؤ گھیراؤ کی آڑ میں اپنے بے گناہ نہتے نوجوانوں کے خون کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور حصولِ انصاف کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹائیں گے، اور ہر قسم کا جمہوری و قانونی احتجاج کرنے کے ساتھ ساتھ اگر ضرورت پڑی تو کارگل سے خنجراب تک پورے گلگت بلتستان کو ِ جام کرنے کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ اجلاس رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای (قدس سرہ) کی مظلومانہ شہادت کے موقع پر گلگت بلتستان کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی تنظیمات، علمائے کرام، سیاسی شخصیات، عمائدین و اکابرین، سرکاری آفیسران بالخصوص وہ تمام اہلِ سنت و اسماعیلی براداری نور بخشہ اور اہل حدیث جو تعزیت کی غرض سے گلگت، سکردو اور استور مراکز پر تشریف لائے اور تعزیت وتسلیت پیش کی۔
نیز سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرنگ میڈیا کے ذریعے تعزیتی پیغامات دینے، اسلام اور کفر کی حالیہ جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھڑے ہونے پر شکریہ اور خراج تحسین پیش کرتا ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ہم امت مسلمہ متحد ہو کر ملکِ عزیز پاکستان میں اتحادِ امت کی فضا کو مزید مستحکم کرنے اور امریکی و اسرائیلی مفادات سے ملکِ عزیز کو پاک کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
اجلاس میں مشترکہ چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا جو درج ذیل ہیں:
1: یکم مارچ 2026ء کے واقعات کی آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے کسی بھی قسم کے دباؤ سے جوڈیشل کمیشن کو محفوظ رکھا جائے نیز واقعات کی تحقیقات متعلقہ اضلاع میں کی جائیں۔
2: جوڈیشل کمیشن کے تحت تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی قسم کی گرفتاری غیر قانونی ہے، لہٰذا کسی بھی قسم کی گرفتاری سے گریز کیا جائے۔
3: گلگت بلتستان اور ملک عزیز پاکستان کے تمام شہداء کو صوبائی حکومت فوری طور پر مروجہ قوانین کے تحت دیت ادا کرے نیز تمام زخمیوں کو پچاس پچاس لاکھ روپے فی کس ادا کرتے ہوئے شہداء کے خانوادوں کو ایک ایک ملازمت فراہم کرے۔
4: فوجی عدالتوں کا تجربہ ماضی کا ایک سیاہ باب ہے، لہٰذا متنازعہ خطہ ہونے کے ناطے فوجی عدالتوں کے قیام سے گریز کیا جائے۔
5: ایف سی کی تعیناتی، پولیس اور جی بی اسکاوٹس پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ ماضی میں ایف سی پر اسلحہ، منشیات اسمگلنگ اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں، لہٰذا ایف سی کی تعیناتی کے عمل کو واپس لیا جائے۔
6: قانون نافذ کرنے والے ادارے شہداء کے خانوادوں سے معافی طلب کریں۔
7: جن سیکورٹی فورسز کے ذمہ داروں کی سرپرستی میں مظلوم نہتے سوگوار روزہ داروں پر سیدھی فائرنگ کر کے شہید اور زخمی کیا گیا اور انتظامی طور پر جن اداروں نے غفلت برتی ہے اْن کو بھی شامل تفتیش کرکے ATA کے تحت قانونی کاروائی کی جائے۔









آپ کا تبصرہ