تحریر: طلال علی مہدوی ( ماہر تعلیم، ماہر نفسیات، اسلامی اسکالر)
حوزہ نیوز ایجنسی I مشرقِ وسطیٰ میں جاری موجودہ کشیدگی کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے لیے اصل مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام نہیں، بلکہ ایران کا وہ "مزاحمتی بیانیہ" ہے جس نے پورے خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو مفلوج کر دیا ہے۔
1. امریکی تجزیہ نگاروں کا اعتراف: "ایران ایک ناقابلِ تسخیر رکاوٹ"
مشہور امریکی سیاسی مفکر اور "The Israel Lobby and U.S. Foreign Policy" کے مصنف جان میئر شائمر (John Mearsheimer) نے بارہا اپنے تجزیوں میں یہ واضح کیا ہے کہ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ میں خارجہ پالیسی آزادانہ نہیں بلکہ اسرائیلی مفادات کے تابع ہے۔ ان کے مطابق: "امریکہ ایران کو اس لیے توڑنا چاہتا ہے کیونکہ ایران واحد طاقت ہے جو اسرائیل کے 'علاقائی غلبے' (Regional Hegemony) کے خواب کو چیلنج کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔"
اسی طرح بروس ریڈل (Bruce Riedel)، جو سی آئی اے کے سابق افسر اور بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینیئر فیلو ہیں، اپنی رپورٹس میں لکھتے ہیں کہ ایران نے حماس، حزب اللہ اور حوثیوں کے ذریعے اسرائیل کے گرد جو "آگ کا گھیرا" (Ring of Fire) بنایا ہے، اس نے صیہونی ریاست کی نفسیاتی برتری کو ختم کر دیا ہے۔
2. رینڈ کارپوریشن (RAND) اور "نظام کی تبدیلی" کی تحقیق
امریکی دفاعی ادارے رینڈ کارپوریشن کی ایک خفیہ تحقیق (جو حالیہ برسوں میں بحث کا مرکز رہی) کے مطابق، عالمِ اسلام کو اپنے سامنے جھکانے کے لیے تین مراحل ضروری قرار دیے گئے تھے:
عرب ممالک کی غیر فعالی: (جو ابراہیمی معاہدوں کے ذریعے کافی حد تک حاصل کر لی گئی)۔
مزاحمتی تحریکوں کا خاتمہ: (حماس اور حزب اللہ کے خلاف جاری مہم)۔
مرکزِ مزاحمت (ایران) کا خاتمہ: رپورٹ کے مطابق جب تک ایران ایک مستحکم ریاست کے طور پر موجود ہے، عالمِ اسلام میں "امریکہ مخالف" جذبات کو منظم قیادت ملتی رہے گی۔ لہٰذا، ایران کا ٹوٹنا یا مکمل جھکنا صیہونی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ناگزیر ہے۔
3. اسرائیل کا "کاسپین ایجنڈا" اور گریٹر اسرائیل
اسرائیلی انٹیلی جنس ویب سائٹ DEBKAfile اور سکیورٹی ماہرین کے مطابق، اسرائیل کا ہدف صرف غزہ یا لبنان نہیں بلکہ نیل سے فرات تک کے تصور (Greater Israel) کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ایران اس نقشے کے درمیان میں ایک آہنی دیوار بن کر کھڑا ہے۔
ثبوت: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ میں کئی بار وہ نقشہ دکھایا ہے جس میں ایران کو "شر کا محور" (Axis of Evil) قرار دیا گیا، جبکہ ان ممالک کو "برکت" (Blessing) کہا گیا جو اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔ یہ تقسیم واضح کرتی ہے کہ جنگ مذہب اور افکار کی ہے۔
4. اقتصادی و اسٹریٹجک ناکہ بندی: پیٹرو ڈالر کا تحفظ
امریکہ کے لیے ایران کا جھکنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ایران نے چین اور روس کے ساتھ مل کر "ڈالر کی بالادستی" کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، اگر ایران اپنا تیل چینی کرنسی (Yuan) میں فروخت کرتا ہے، تو یہ امریکی معیشت کے لیے ایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک ہوگا۔ عالمِ اسلام کو معاشی طور پر غلام رکھنے کے لیے ایران کی خود مختاری کا خاتمہ امریکہ کی ترجیحِ اول ہے۔
5. عالمی تھنک ٹینکس کی تازہ ترین رپورٹس (2025-2026)
چیتھم ہاؤس (Chatham House): اپنی رپورٹ "Iran's Strategic Defiance" میں لکھتا ہے کہ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مغربی پابندیوں کے باوجود ٹیکنالوجی اور عسکری میدان میں ترقی کر سکتا ہے۔ یہ نمونہ (Model) باقی مسلم ممالک کے لیے "خطرناک حد تک پرکشش" ہے، جسے مغرب ہر صورت ناکام دیکھنا چاہتا ہے۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ (ICG): ان کی تحقیقات کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کا اتحاد ایران کو اس مقام پر لانا چاہتا ہے جہاں وہ یا تو "لیبیا" کی طرح اپنے ہتھیار ڈال دے یا "شام" کی طرح داخلی خانہ جنگی کا شکار ہو جائے۔
نتیجہ اور تجزیہ:
مذکورہ بالا تمام ثبوتوں اور امریکی ماہرین کے اعترافات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ جنگ صرف "جمہوریت" کی نہیں بلکہ "ارادوں کی جنگ" ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ایران کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ صیہونی ریاست کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکاری ہے اور مظلوم فلسطینیوں و کشمیریوں کی آواز بن کر کھڑا ہے۔ اگر ایران (خدا نخواستہ) کمزور پڑتا ہے، تو عالمِ اسلام کی رہی سہی غیرت اور خود مختاری کا سودا کرنا مغرب کے لیے نہایت آسان ہو جائے گا









آپ کا تبصرہ