اقوامِ متحدہ یعنی کاٹھ کا اُلّو نظام

حوزہ/ اقوامِ متحدہ کا قیام ایک عظیم مقصد کے تحت ہوا تھا، مگر موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ادارہ اپنی اصل روح سے دور ہو چکا ہے۔ جب تک عالمی طاقتوں کی اجارہ داری ختم نہیں ہوتی اور انصاف کو حقیقی معنوں میں نافذ نہیں کیا جاتا، تب تک یہ نظام اسی طرح تنقید کی زد میں رہے گا۔

تحریر: مولانا غلام شبّر خان

حوزہ نیوز ایجنسی | دنیا میں بے شمار سیاسی و بین الاقوامی نظام رائج ہیں، مگر ان سب میں سب سے زیادہ نمایاں اور بظاہر مؤثر نظام اقوامِ متحدہ United Nations) ) ہے، جس کے زیرِ سایہ دنیا کے تقریباً تمام ممالک شامل ہیں۔ یہ ادارہ دوسری عالمی جنگ کے بعد اس امید کے ساتھ قائم کیا گیا تھا کہ آئندہ دنیا ظلم، جبر اور طاقت کے اندھے استعمال سے محفوظ رہے گی۔ مگر عملی صورتِحال اس کے برعکس نظر آئی۔

اگر اس ادارے کی کارکردگی کو ابتدا سے لے کر آج تک دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ نظام بتدریج سیرِ نزولی کا شکار ہوتا چلا گیا ہے۔ آج اس کی حیثیت ایک حقیقی عالمی نظام کے بجائے ایک ایسے ڈھانچے کی سی ہو گئی ہے جو عملاً چند طاقتور ممالک، بالخصوص امریکہ اور اسرائیل، کے مفادات کا محافظ ہے، جبکہ باقی ممالک محض تماشائی، یا بالفاظِ دیگر ’’کاٹھ کے اُلّو‘‘ بن کر رہ گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ: عالمی نظام یا امریکی و اسرائیلی نظام؟

اگرچہ اقوامِ متحدہ کو ایک بین الاقوامی اور غیر جانبدار ادارہ کہا جاتا ہے، لیکن عملی حقیقت اس سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا اختیار اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ اصل طاقت چند مخصوص ممالک کے ہاتھ میں مرکوز ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی معاملہ امریکہ یا اسرائیل کے مفادات سے ٹکراتا ہے، تو اقوامِ متحدہ یا تو خاموش ہو جاتا ہے یا اس کی آواز دب جاتی ہے۔ اس تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ نظام عالمی نہیں بلکہ امریکی و اسرائیلی نظام بن چکا ہے، اور اس کی غیر فعالیت اسے ’’کاٹھ کا اُلّو نظام‘‘ بنا دیتی ہے۔

ظلم و بربریت کے مناظر اور اقوامِ متحدہ کی خاموشی

ماضی بعید کے مناظر سے قطع نظر ماضی قریب اور حالیہ مناظر کی چند مثالوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو مذکورہ دعویٰ بالکل سچ نظر آتا ہے:

1. غزہ: ظلم، بربریت اور عالمی بے حسی

غزہ میں جاری مظالم، جہاں نہتے شہریوں پر بمباری، قتل و غارتگری، بنیادی سہولیات کی بندش، اور انسانی حقوق کی پامالی کھلے عام ہوتی رہی، اس نظام کی بے بسی کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک نے احتجاج کیا، آواز اٹھائی، مگر اقوامِ متحدہ ایک بے جان تماشائی کی طرح کھڑا رہا۔

یہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب معاملہ اسرائیل سے متعلق ہو تو یہ نظام اپنی تمام تر فعالیت کھو دیتا ہے اور عملا کاٹھ کا الّو بن جاتا ہے۔

2. بین الاقوامی عدالت اور نیتن یاہو: فیصلہ بے اثر

بین الاقوامی سطح پر عدالتوں کی کارروائیاں بظاہر امید کی کرن دکھاتی ہیں، مگر جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف مقدمہ کیا گیا تو فیصلہ نیتن یاہو کے خلاف ہوا اور اسے مجرم قرار دے کر گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا، مگر یہ اقدامات بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان عدالتوں کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟

یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے، جبکہ طاقتور اس سے بالاتر ہیں، اور یہی ’’کاٹھ کا اُلّو نظام‘‘ کی اصل پہچان ہے۔

3. وینزویلا: طاقت کا ناجائز استعمال اور عالمی خاموشی

وینزویلا کے معاملے میں امریکہ کی کھلی بےجا اور غیر معقول و غیر قانونی مداخلت، پابندیاں، اور وہاں کے صدر کے خلاف سخت اقدامات، اور انہیں یرغمال بنا لینا یا انہیں ایک مجرم کی طرح گرفتار کر کے لے جانا، بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

مگر حیرت انگیز طور پر اقوامِ متحدہ اس پورے عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہا۔ نہ کوئی فیصلہ کن اقدام، نہ کوئی مضبوط ردعمل، گویا ایک بار پھر یہ نظام محض تماشائی کاٹھ کا الّو بن کر رہ گیا۔

4. ایران: حملہ، شہادت اور خاموش عالمی نظام

ایران کے خلاف حالیہ کارروائیاں، جن میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ اور مبیّنہ بے بنیاد حملہ اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی سامنے آئے، اس نظام کے لیے ایک اور امتحان کی گھڑی تھی۔ اس وحشیانہ حملے میں ایران کی اعلیٰ قیادت، حتیٰ کہ سپریم لیڈر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (رح) کو شہید کردیا گیا، اس کے باوجود اقوامِ متحدہ کی جانب سے کوئی واضح، مؤثر اور فیصلہ کن ردعمل دیکھنے میں نہ آیا۔

یہ خاموشی محض بے بسی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتی ہے جو طاقتور کے سامنے جھک چکا ہے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔

مجموعی طور پر ان تمام مثالوں کو یکجا کیا جائے تو ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے:

یہ نظام سامراجی طاقتوں کے تابع ہے۔

اس نظام میں عدل و انصاف کا جنازہ نکل چکا ہے۔

اس نظام میں مظلوموں کے حقوق کی پامالی درجہ عروج پر پہنچ چکی ہے۔

اس نظام میں امن و سلامتی کا قانون جنگل راج میں تبدیل ہوچکا ہے وغیرہ۔

بنابریں، اقوامِ متحدہ ایک فعال عالمی ادارہ کم، اور ایک علامتی، غیر مؤثر، اور ’’کاٹھ کا اُلّو‘‘ نظام زیادہ دکھائی دیتا ہے۔

نتیجہ

اقوامِ متحدہ کا قیام ایک عظیم مقصد کے تحت ہوا تھا، مگر موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ادارہ اپنی اصل روح سے دور ہو چکا ہے۔ جب تک عالمی طاقتوں کی اجارہ داری ختم نہیں ہوتی اور انصاف کو حقیقی معنوں میں نافذ نہیں کیا جاتا، تب تک یہ نظام اسی طرح تنقید کی زد میں رہے گا۔

اور اگر حالات یہی رہے، تو یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ موجودہ عالمی نظام، (اقوامِ متحدہ) درحقیقت ایک “کاٹھ کا اُلّو نظام” ہے، جو دیکھتا سب کچھ ہے مگر کرتا کچھ نہیں۔ لہٰذا ایسے نظام کے پرچم تلے رہنے کے بجائے تمام ممالک کو ایک ایسے منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل کی فکر کرنی چاہیے جس میں تمام ممالک کو اس کے برابری سے حقوق مل سکیں اور کسی کے حقوق پامال نہ ہوں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha