حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید احمد خاتمی نے تہران کے مصلیٰ امام خمینی میں نماز جمعہ کے خطبے میں کہا کہ آج عالمِ اسلام میں موجود تکفیری گروہ ایک بڑی مصیبت ہیں، جو دشمنانِ اسلام کا مقابلہ کرنے کے بجائے انہی کے مفادات کو تقویت دیتے ہیں۔
آیت اللہ خاتمی نے جامعہ الازہر سے منسوب ایک بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس بیان پر نہ کسی سربراہ کے دستخط ہیں اور نہ ہی دستخط کنندگان کے نام درج ہیں، لہٰذا امکان ہے کہ یہ حکومتی دباؤ کے تحت جاری کیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بیان درست بھی ہو تو ایران نے کسی ملک کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ صرف ان امریکی اڈوں کو ہدف بنایا ہے جو ہمسایہ ممالک میں موجود ہیں اور جنہیں ایران کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، اور یہ اقدام ایران کا جائز حقِ دفاع ہے۔
انہوں نے اس بیان کو قرآن کی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مظلوم کو دفاع کا حق حاصل ہے اور اسلامی سرزمین کا دفاع سب پر واجب ہے۔ ان کے بقول بعض عناصر مظلوم کا ساتھ دینے کے بجائے ظالم کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ ایران کے اہل سنت علماء بھی الازہر کے اس مؤقف کے خلاف بیان جاری کر چکے ہیں۔
امام جمعہ تہران نے کہا کہ امریکی صدر بار بار مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں پیغامات بھیجے جا رہے ہیں، لیکن یہ سب بے بنیاد ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کی قیادت مذاکرات کی نفی پر متحد ہے اور عوام بھی بھرپور انداز میں میدان میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہادر ایرانی قوم مسلسل کئی راتوں سے میدان میں موجود ہے اور دشمن کے خلاف مضبوط مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اس وقت مشکلات میں گھرا ہوا ہے اور سفارتی سطح پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مذاکرات کو مسلط کیا جا سکے، لیکن جس ملک نے دورانِ مذاکرات دو بار حملہ کیا ہو، اس پر اعتماد ممکن نہیں۔
آیت اللہ خاتمی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایک الٰہی امانت ہے اور عوام نے اس کی بہترین حفاظت کی ہے۔ انہوں نے عوام کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایرانی میزائل دشمن کے اہم شہروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ کامیابیاں اللہ کی مدد سے حاصل ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ایران اس پوزیشن میں ہے کہ دشمن کو ناکام بنا سکتا ہے، جبکہ امریکی صدر خود سفارتی ذرائع سے مذاکرات کی اپیل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ کے بیانات قابلِ اعتماد نہیں اور وہ مسلسل متضاد دعوے کرتے رہے ہیں۔
امام جمعہ تہران نے آخر میں عوام کو اللہ پر توکل کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اسی یقین کے ساتھ رسول اکرم (ص) نے میدانوں کی قیادت کی اور آج بھی یہی ایمان کامیابی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ قوم کی استقامت کے نتیجے میں مستقبل مزید روشن ہوگا۔









آپ کا تبصرہ