حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نائب امام جمعہ والجماعت جامع مسجد سکَردو بلتستان حجت الاسلام والمسلمین آغا سید باقر الحسینی نے خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے عالمِ اسلام کو درپیش چیلنجز، خطے کی صورتحال، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور مقامی امن و امان سے متعلق اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر آج مسلمان متحد اور منظم ہوتے تو دنیا بھر میں ذلت و خواری کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
انہوں نے ایران کو ایک عملی اسلامی ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے منظم قیادت اور عوامی اعتماد کے ذریعے دنیا کے سامنے ایک مثال قائم کی ہے جہاں عوام اپنی قیادت پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں، رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کی شہادت کے بعد بھی ایران استقامت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، رہبر معظم کی شہادت نے اس انقلاب کو مزید جلا بخشی ہے۔
آغا باقر حسینی نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے اتحاد و وحدت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اختلافات کو ختم کر کے منظم ہونا ہی کامیابی کی ضمانت ہے، بصورت دیگر نقصان کی ذمہ داری خود عوام پر عائد ہوگی۔ انہوں نے قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "وَالَّذِیۡنَ جَاهَدُوۡا فِیۡنَا لَنَهۡدِیَنَّهُمۡ سُبُلَنَا ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ" (العنکبوت: 69) اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کی کامیابی کی ضمانت دی ہے۔ انہوں نے ایران پر عائد طویل اقتصادی پابندیوں کے باوجود اس کی خودمختاری اور استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران نے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا اور آج عالمی طاقتیں اس کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہیں۔
آغا باقر حسینی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان آج خطے میں امن کے قیام اور عالمی سطح پر توازن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس کی بدولت امریکہ سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے ہیں جبکہ بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے، ہم پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے بلتستان کے حالات میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار کھل رہے ہیں اور سیاحت بحال ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلتستان میں سیاحت کی مخالفت نہیں بلکہ صرف موجودہ حالات کے پیش نظر امریکہ اور اسرائیل کے شہریوں کے داخلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج سے کسی قسم کا اختلاف نہیں بلکہ قوم اور فوج ایک ہیں، البتہ بعض پالیسیوں پر اختلاف رائے ممکن ہے جو آئندہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حالیہ واقعات کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی نظریں اس کمیشن پر ہیں اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کیے جانے چاہئیں، بصورت دیگر ایسے فیصلوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ آغا باقر حسینی نے بعض نام نہاد سوشل ایکٹیوسٹس اور یوٹیوبرز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر سکردو اور بلتستان کا منفی چہرہ پیش کر کے خطے کو بدنام کر رہے ہیں جو قابل مذمت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انجمن امامیہ کی جانب سے کسی قسم کے چندے کا اعلان نہیں کیا گیا اور اگر کیا گیا تو تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر کیا جائے گا۔ انہوں نے انتظامیہ کو خبردار کیا کہ بے جا گرفتاریاں اور پرانے مقدمات کو دوبارہ کھولنے سے اجتناب کیا جائے بصورت دیگر حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور بلتستان جیسے حساس سرحدی علاقے میں ایسے اقدامات دشمن کو پروپیگنڈے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے زور دیا کہ امن و بھائی چارے کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں ورنہ عوام ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔









آپ کا تبصرہ