حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے حجتالاسلام والمسلمین سید محمد صادق ابطحی نے آیت کریمہ «فَإِذا جاءَ وَعْدُ أُولاهُما بَعَثْنا عَلَیْکُمْ عِباداً لَنا أُولی بَأْسٍ شَدیدٍ» کی تفسیر پیش کی اور کہا: یہ آیت ایسے سخت جان اور طاقتور افراد کے اٹھائے جانے کی نوید دیتی ہے جو سرکشوں کے خلاف جنگ کریں گے۔
اُنہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی معتبر روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: جب راوی نے ان مجاہدوں کی پہچان دریافت کی تو امام نے تین مرتبہ فرمایا: «هُمْ وَاللّٰهِ أَهْلُ قُم» یعنی "خدا کی قسم، وہ اہلِ قم ہیں"۔ یہ روایت اس خطے کی تقدیس اور ظہور سے پہلے حق طلب قیاموں میں اس کے محوری کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین ابطحی نے کہا: شہر مقدس قم سے انقلابِ اسلامی کے پیش قدم اور محرک انجن کا کردار، اس روایت کے ساتھ حیرت انگیز طور پر ہم آہنگ ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ الٰہی ارادہ ایرانیوں اور بالخصوص علم و فقاہت کے مراکز کو استکبار کے خلاف جنگ کا پرچم بردار بننے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
اس دینی ماہر نے سورۂ مائدہ کی آیت 54 کا حوالہ دیتے ہوئے اسلام میں آنے والی قوم کی نمایاں خصوصیات گنوائیں اور کہا: پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صریح فرمان کے مطابق، ایرانی وہی قوم ہے جو مومنین کے سامنے عاجزی، کافروں کے سامنے سختی اور راہِ جہاد میں کسی ملامت سے نہیں ڈرتی۔









آپ کا تبصرہ