حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ خوجہ مسجد ممبئی، حجۃ الاسلام والمسلمین سید احمد علی عابدی نے خطبہ جمعہ میں نوجوانوں کی تربیت اور ان کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قوموں کی ترقی کا دار و مدار نوجوان نسل پر ہے، لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ حکمت اور شعور کے ساتھ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں۔
ممبئی میں نماز جمعہ کے خطبہ سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا بلکہ اسے بلند مقامات حاصل کرنے اور قیادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اپنی اولاد کی صحیح رہنمائی کریں اور ان کے وقت کے درست استعمال پر توجہ دیں تو نوجوان بھی دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ قیامت کے دن انسان سے چند اہم سوالات کیے جائیں گے، جن میں اہلبیتؑ کی محبت، مال کے حصول اور خرچ کا طریقہ، عمر کے استعمال اور خصوصاً جوانی کے مصرف کے بارے میں بازپرس شامل ہے۔
امام جمعہ ممبئی نے قوم کی ترجیحات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج لوگ اس بات پر زیادہ فکر مند ہیں کہ کون سی عمارت وقف میں شامل ہوئی یا نہیں، لیکن انہیں اس بات کی فکر نہیں کہ ان کے نوجوان کس راستے پر گامزن ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم پتھروں کی حفاظت میں لگے ہیں مگر اپنی نسل کی تربیت سے غافل ہیں۔
انہوں نے سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نبی اکرمؐ نے ہمیشہ نوجوانوں پر اعتماد کیا۔ فتح مکہ جیسے حساس موقع پر بھی ایک 21 سالہ نوجوان کو ذمہ داری سونپی گئی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام نوجوانوں کی صلاحیتوں پر یقین رکھتا ہے۔ اسی طرح حضرت علی علیہ السلام کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ کم عمری میں بھی انہوں نے رسول اکرمؐ کی نصرت کا اعلان کیا اور تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
حجۃالاسلام سید احمد علی عابدی نے کہا کہ آج دنیا میں جو کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں، خصوصاً ایران کی سائنسی و ٹکنالوجی ترقی، وہ نوجوانوں کی محنت اور تحقیق کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم بھی اپنے نوجوانوں کو تعلیم، تحقیق اور ٹکنالوجی کی طرف راغب کریں تو ہم بھی ترقی کی راہ پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے قوم کی تعلیمی پسماندگی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کھانے پینے پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں لیکن کتابوں پر معمولی رقم خرچ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے تاکید کی کہ نوجوان ہماری قوم کا سب سے بڑا سرمایہ اور روشن مستقبل ہیں، لہٰذا اگر ہم ایک بہتر مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی نوجوان نسل کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔









آپ کا تبصرہ