حوزہ نیوز ایجنسی کے نامہ نگار سے گفتگو میں ماہر نفسیات اطفال و نوجوانان جناب امین براتی نے بچپن سے نوجوانی کی طرف منتقلی کے دوران نمایاں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بہت سے والدین شکایت کرتے ہیں کہ کل تک جو بچہ فرمانبردار اور خوش اخلاق تھا آج وہ ان کی خواہشات کے خلاف موقف اختیار کر رہا ہے اور جلدی غصے میں آ جاتا ہے۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے جو استقلال اور رشد کی راہ میں ہوتا ہے اور اس پر صرف مناسب انداز میں قابو پانا ہی ممکن ہے۔
انہوں نے نوجوانی کا موازنہ ٹیکنالوجی سے کرتے ہوئے کہا: ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) بہت کارآمد ہیں لیکن مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہم نے ان کے استعمال کی ثقافت نہ سیکھی ہو۔ نوجوان بھی ایک انسان ہے جو بچپن کی دنیا سے نکل کر روشن مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے لہٰذا والدین کو اس طاقتور انسانی آلے سے نمٹنے کا طریقہ سیکھنا چاہیے تاکہ وہ اس کے غصے پر قابو پا سکیں۔
امین براتی نے تعلقات میں ذہنی پختگی کی ضرورت کو واضح کرنے کے لیے ایک حقیقی مثال دیتے ہوئے کہا: اگر آپ کا قریبی دوست بہت بڑی رقم قرض مانگے تو آپ اعتماد اور دوستی کی وجہ سے اسے ہاں کر دیتے ہیں لیکن منطق اور پختگی یہ کہتی ہے کہ آپ اس سے رسید ضرور لیں۔ یہ رسید بے اعتمادی کی علامت نہیں بلکہ حساب کتاب اور تعلق کو منظم رکھنے کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا: خاندانی تعلقات میں نوجوان کے ساتھ بھی منطقی حدود کا ہونا اور غلط رویوں کے نتائج سے آگاہی اسی رسید کی طرح کام کرتی ہے جو مالی یا جذباتی اختلافات کے وقت گہرے تعلقات کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔
اس ماہر نفسیات اطفال نے کہا: نوجوان کا گھر میں "نہ کہنا" مستقبل میں معاشرے میں اپنے تحفظ کی مشق ہے۔اگر نوجوان گھر کے محفوظ ماحول میں والدین کے سامنے "نہ کرنے" کی طاقت نہ پائے تو مستقبل میں معاشرے میں بھی اپنے حقوق کے تحفظ کی صلاحیت نہیں رکھے گا۔
انہوں نے خاندانی ماحول میں باہمی فہم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: جب نوجوان غصے میں آتا ہے تو درحقیقت وہ ایک دفاعی طریقہ کار استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ باشعور والدین چیخنے چلانے کے بجائے "میں تمہیں سمجھتا ہوں" جیسے جملوں سے ماحول کو پر سکون کر سکتے ہیں اور مسائل کی جڑ اور بنیاد کے بارے میں گفتگو کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔
براتی نے تربیت میں والدین کے ایک غلط خیال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: کچھ والدین توقع رکھتے ہیں کہ نوجوان ان کی ہر خواہش پر "جی" کہے اور کوئی مخالفت نہ کرے لیکن ان والدین سے پوچھنا چاہیے کہ اگر آپ کا نوجوان گھر کے ماحول میں نہ کرنا نہ سیکھے تو یہ ضروری مہارت کہاں سیکھے گا۔
انہوں نے کہا: نوجوان کا بعض امور میں مخالفت کرنا اور اختلاف رائے کا اظہار کرنا ضروری نہیں کہ اس کی برائی یا بدتمیزی کی علامت ہو بلکہ یہ شخصیت کے تشکیل پانے اور ایک ایسی مہارت سیکھنے کی علامت ہے جو اسے معاشرتی خطرات سے محفوظ رکھے گی۔ والدین کو ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں نوجوان بغیر دبائے اپنی اختلاف رائے کا اظہار کر سکے تاکہ مستقبل میں وہ معاشرے میں ایک باوقار اور پراعتماد انسان بن سکے۔









آپ کا تبصرہ