حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین سید ریاض حکیم نے ہیئت خادمالرضا (ع) کی جانب سے قم میں منعقدہ معنوی فیسٹیول «حبّ الحسین علیہ السلام» سے خطاب کرتے ہوئے دینی اجتماعات کی فضیلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مؤمنین کا اہل بیت علیہم السلام کے ذکر کی مجلس میں جمع ہونا بذاتِ خود ایک قیمتی نعمت ہے جو بہت سے معاشروں میں آسانی سے میسر نہیں اور حتیٰ کہ ماضی کے ادوار میں بھی ہمیشہ دستیاب نہیں رہی۔
انہوں نے کہا: امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی فضیل سے پوچھا: کیا تم آپس میں نشستیں کرتے ہو اور حدیث و گفتگو کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: مجھے ایسے اجتماعات پسند ہیں پس ہمارے امرِ امامت کو زندہ رکھو اور اللہ اس شخص پر رحم کرے جو ہمارے امر اور ہمارے راستے کو زندہ کرے۔
حجت الاسلام والمسلمین ریاض حکیم نے مزید کہا: یہ بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مؤمنین کا جمع ہونا اور دینی و سماجی مباحث پر گفتگو کرنا بذاتِ خود ایک پسندیدہ عمل ہے اور اہل بیت علیہم السلام کو محبوب ہے۔
اس استادِ حوزۂ علمیہ قم نے ماہِ مبارک رمضان کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ مہینہ صرف انفرادی عبادات جیسے روزہ، تلاوتِ قرآن اور مناجات تک محدود نہیں بلکہ اس کا سماجی پہلو بھی نہایت اہم ہے جو بعض معاشروں میں کم توجہ کا شکار رہتا ہے حالانکہ اس مہینے کے اہم ثمرات میں سے ایک سماجی یکجہتی کا فروغ اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین حکیم نے کہا: وہ نوجوان جنہوں نے سال بھر میں اپنے والدین یا خاندان کے بزرگوں کی طرف بہت کم توجہ دی ہو وہ رمضان المبارک کے معنوی ماحول سے فائدہ اٹھا کر اس کمی کی تلافی کر سکتے ہیں اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ محبت، احترام اور خلوص کا اظہار کر سکتے ہیں اور اسی طرح وہ والدین جو اولاد کی جذباتی ضروریات پر کم توجہ دیتے رہے ہوں انہیں بھی اس مہینے کو نوجوان نسل کے ساتھ بہتر تعلق کی ازسرِ نو تعمیر کا موقع سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: آج کے نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ محبت اور توجہ کے محتاج ہیں اور انہیں خاندان کے ماحول میں تنہا محسوس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اگر ان کا جذباتی خلا قریبی افراد کی جانب سے پُر نہ ہوا تو غلط راستوں کی طرف رجحان اور دشمنوں کے سوءاستفادے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین حکیم نے کہا: مختلف ادوار کے تلخ تجربات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ نوجوان نسل کی ان ضروریات سے غفلت سنگین نقصانات کا سبب بن سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ