ہفتہ 14 فروری 2026 - 17:44
ڈیجیٹل غلامی: مسلمان نوجوان اور سوشل میڈیا الگورتھم کی نفسیاتی قید

حوزہ/ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بذاتِ خود برائی نہیں، بلکہ اس کا غیر شعوری اور بے قابو استعمال نوجوانوں کو ایک نفسیاتی قید میں مبتلا کر رہا ہے۔ مسلمان نوجوان اگر ہوش مندی سے سوشل میڈیا کا استعمال کریں، اپنی فکری آزادی کی حفاظت کریں اور دینی و اخلاقی اقدار سے جڑے رہیں تو وہ اس “ڈیجیٹل غلامی” سے نجات پا سکتے ہیں۔

تحریر: مولانا علی عباس حمیدی

حوزہ نیوز ایجنسی | اکیسویں صدی کو اگر “ڈیجیٹل عہد” کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس دور میں موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا انسانی زندگی کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔ نوجوان نسل خصوصاً مسلمان نوجوان اس ڈیجیٹل دنیا کے سب سے زیادہ سرگرم صارف ہیں۔ بظاہر یہ دنیا آزادی، اظہارِ رائے اور معلومات تک فوری رسائی کی علامت دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں اس کے پسِ پردہ ایک خاموش مگر طاقتور نظام کارفرما ہے جسے الگورتھم کہا جاتا ہے۔ یہی الگورتھم آہستہ آہستہ انسان کی سوچ، پسند و ناپسند، ترجیحات اور حتیٰ کہ عقائد و اقدار پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ اس صورتِ حال کو بجا طور پر “ڈیجیٹل غلامی” کہا جا سکتا ہے، جہاں انسان زنجیروں کے بغیر قید ہو جاتا ہے۔

الگورتھم کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مثلاً Meta Platforms (جس کے تحت Facebook اور Instagram شامل ہیں)، Google کی ذیلی سروس YouTube اور TikTok جیسے پلیٹ فارمز اپنے صارفین کو زیادہ سے زیادہ وقت تک اسکرین سے جوڑے رکھنے کے لیے خصوصی الگورتھم استعمال کرتے ہیں۔

یہ الگورتھم صارف کے کلکس، لائکس، دیکھے گئے ویڈیوز، تبصروں اور سرچ ہسٹری کی بنیاد پر یہ طے کرتے ہیں کہ آئندہ صارف کو کون سا مواد دکھایا جائے۔ بظاہر یہ سہولت ہے، مگر درحقیقت یہ ایک نفسیاتی جال ہے جو انسان کو ایک محدود “ڈیجیٹل دائرے” میں قید کر دیتا ہے۔

نفسیاتی قید: آزادی کا سراب

مسلمان نوجوان سمجھتے ہیں کہ وہ آزادانہ طور پر سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے سامنے آنے والا مواد پہلے سے منتخب شدہ ہوتا ہے۔ الگورتھم آہستہ آہستہ نوجوان کی ذہنی ساخت کو تشکیل دیتا ہے۔

ایک مخصوص نظریہ، طرزِ زندگی یا ثقافتی رجحان بار بار دکھا کر ذہن میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں نوجوان کی فکری آزادی محدود ہو جاتی ہے اور وہ غیر محسوس طریقے سے ایک مخصوص سوچ کا عادی بن جاتا ہے۔

شناخت کا بحران اور فکری انتشار

مسلمان نوجوان پہلے ہی شناخت کے بحران کا شکار ہیں۔ ایک طرف اسلامی اقدار، دینی روایات اور خاندانی تربیت ہے، تو دوسری طرف مغربی ثقافت، صارفیت (Consumerism) اور سوشل میڈیا پر مقبول “لائف اسٹائل”۔ الگورتھم چونکہ زیادہ تر وہی مواد آگے بڑھاتا ہے جو جذباتی، سنسنی خیز اور فوری لطف فراہم کرے، اس لیے سنجیدہ فکری و دینی مواد پیچھے رہ جاتا ہے۔

نتیجتاً نوجوان مذہب کو “پرانا” اور مغربی طرزِ زندگی کو “جدید” سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈیجیٹل غلامی ایک تہذیبی غلامی میں بدلنے لگتی ہے۔

ڈیجیٹل لت اور ذہنی صحت کے مسائل

مسلسل اسکرین پر موجود رہنا، لائکس اور فالورز کی دوڑ، اور خود کو دوسروں سے موازنہ کرنا نوجوانوں میں احساسِ کمتری، بے چینی اور ڈپریشن کو جنم دیتا ہے۔

سوشل میڈیا الگورتھم ایسے مواد کو ترجیح دیتے ہیں جو زیادہ جذباتی ردِعمل پیدا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ منفی خبریں، اشتعال انگیز ویڈیوز اور اخلاقی انحطاط پر مبنی مواد زیادہ وائرل ہوتا ہے۔ مسلمان نوجوان اس ماحول میں رہ کر نہ صرف روحانی سکون سے دور ہوتے جا رہے ہیں بلکہ ذہنی صحت کے سنگین مسائل کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔

دینی شعور پر اثرات

ڈیجیٹل دنیا میں دین بھی ایک “کانٹینٹ” بن چکا ہے۔ مختصر کلپس میں دین کی سطحی تشریح، متنازعہ بیانات اور بعض اوقات گمراہ کن معلومات نوجوانوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ الگورتھم چونکہ “ویوز” اور “انگیجمنٹ” کو ترجیح دیتا ہے، اس لیے علمی، متوازن اور گہرے دینی مباحث پیچھے رہ جاتے ہیں۔

اس سے دینی شعور میں گہرائی کے بجائے سطحیت پیدا ہو رہی ہے۔ نوجوان دین کو ایک سنجیدہ طرزِ زندگی کے بجائے محض جذباتی نعروں اور وائرل کلپس تک محدود سمجھنے لگتے ہیں۔

ڈیجیٹل غلامی اور استعمارِ نو

ماضی میں استعمار فوجی طاقت کے ذریعے قوموں کو غلام بناتا تھا، آج ڈیجیٹل استعمار ذہنوں کو غلام بنا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے صارفین کے ڈیٹا سے اربوں ڈالر کمائے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی ان کی فکری سمت متعین کی جا رہی ہے۔

مسلمان معاشروں میں سیاسی شعور، سماجی رویے اور حتیٰ کہ مذہبی مباحث بھی انہی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے متاثر ہو رہے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ڈیجیٹل غلامی دراصل جدید دور کی خاموش غلامی ہے۔

حل اور راہِ نجات

ڈیجیٹل شعور (Digital Literacy):

نوجوانوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا الگورتھم کیسے کام کرتے ہیں اور وہ کس طرح ذہن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اعتدال اور وقت کی تنظیم:

سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے وقت مقرر کیا جائے اور غیر ضروری اسکرولنگ سے بچا جائے۔

معیاری دینی و فکری مواد کی ترویج:

علماء، دانشوروں اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ معیاری، مدلل اور گہرے مواد کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پیش کریں تاکہ نوجوانوں کو متوازن رہنمائی مل سکے۔

خاندانی اور تعلیمی کردار:

والدین اور اساتذہ نوجوانوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں حقیقی دنیا کی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔

روحانی تعلق کی مضبوطی:

نماز، تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی کے ذریعے نوجوانوں کو اندرونی سکون اور روحانی استحکام فراہم کیا جائے، تاکہ وہ ڈیجیٹل شور میں اپنی شناخت نہ کھو بیٹھیں۔

نتیجہ

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بذاتِ خود برائی نہیں، بلکہ اس کا غیر شعوری اور بے قابو استعمال نوجوانوں کو ایک نفسیاتی قید میں مبتلا کر رہا ہے۔ مسلمان نوجوان اگر ہوش مندی سے سوشل میڈیا کا استعمال کریں، اپنی فکری آزادی کی حفاظت کریں اور دینی و اخلاقی اقدار سے جڑے رہیں تو وہ اس “ڈیجیٹل غلامی” سے نجات پا سکتے ہیں۔

آج کا اصل جہاد تلوار سے نہیں بلکہ شعور سے ہے—اور یہ شعور ہی مسلمان نوجوان کو ڈیجیٹل الگورتھم کی زنجیروں سے آزاد کر سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha