بدھ 18 فروری 2026 - 05:00
فکری انحراف؛ نوجوانوں پر سوشل میڈیا کا سب سے بڑا حملہ

حوزہ/ نوجوانوں کی تربیت کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ جب نوعمروں میں سوشل میڈیا کا استعمال حد سے بڑھ کر لت کی صورت اختیار کر لیتا ہے تو والدین محض ایک سادہ عادت کا سامنا نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ وہ ایک ایسے رویّے کے بگاڑ سے دوچار ہوتے ہیں جس کے لیے باقاعدہ اور تخصصی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آج کے دور میں سوشل میڈیا نوعمروں کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ لیکن بعض اوقات یہ مسلسل استعمال ایک سادہ ذریعہ نہیں رہتا بلکہ ایسی لت میں تبدیل ہو جاتا ہے جس کے گہرے اور سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔ ایسے حالات میں والدین پریشان اور بے چین ہو کر کوئی ایسا قابلِ اعتماد حل تلاش کرتے ہیں جس سے نہ صرف اولاد کی ذہنی و اخلاقی صحت محفوظ رہے بلکہ گھر کا سکون بھی بحال ہو۔

نوجوانوں کی تربیت کے ماہر اور دفتر تبلیغات اسلامی اصفہان کے مبلغِ تخصصی جناب یزدان رضوانی نے اس مسئلے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ آج کے معاشرے کا ایک اہم موضوع سوشل میڈیا اور نوعمروں کا اس سے تعلق ہے۔ بعض اوقات معاملہ اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ اسے بحرانی کیفیت کہا جا سکتا ہے اور باقاعدہ علاج کی ضرورت پیش آتی ہے۔

بچے موبائل فون اور سوشل میڈیا کے عادی ہو چکے ہیں۔ جب وہ چیز جس سے انہیں وابستگی ہو، ان سے چھین لی جائے تو چونکہ یہ وابستگی نشے جیسی ہو جاتی ہے، اس لیے ان کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ چاہے وہ چیز منشیات ہو یا موبائل فون، اگر انسان کسی چیز کا عادی ہو جائے اور اسے اچانک اس سے محروم کر دیا جائے تو وہ شدید ردِعمل دکھاتا ہے۔ ایسے حالات میں جب مسئلہ باقاعدہ ایک نفسیاتی عارضے کی شکل اختیار کر لے تو ماہرِ مشاورت سے رجوع کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

دو بنیادی ذمہ داریاں: پیشگیری اور قانون سازی

ان کے مطابق اگر کوئی بچہ واقعی کئی کئی گھنٹے موبائل اور سوشل میڈیا پر گزار رہا ہو تو اس لت کو چھوڑنے کے لیے ماہرِ نفسیات یا مشیر سے رجوع کرنا چاہیے۔ تاہم عمومی طور پر خاندان اور مربی کی دو بنیادی ذمہ داریاں ہیں:

احتیاطی تدابیر

سوشل میڈیا کے استعمال کو قانون کے تحت لانا

پیشگیری کے حوالے سے دو پہلو اہم ہیں:

ایک فکری، دوسرا عملی۔

فکری تحفظ: تنقیدی سوچ کی تربیت

فکری اعتبار سے حتیٰ کہ وہ بچہ جو سوشل میڈیا کا عادی نہیں بھی ہو، پھر بھی اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ آج کل بچوں کو جو سب سے بڑا نقصان پہنچ رہا ہے وہ ہے:

فکری انحراف

اخلاقی بگاڑ

نازیبا رویّے

لیکن ان سب میں سب سے زیادہ خطرناک فکری انحراف ہے۔

یہ فضا بچوں کے ذہن میں ملک، نظام اور مختلف سماجی و سیاسی مسائل کے بارے میں بدگمانی پیدا کر سکتی ہے۔ اس کا واحد مؤثر حل بچوں میں تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کو مضبوط کرنا ہے۔

یعنی بچے یہ سیکھیں کہ جب وہ سوشل میڈیا پر کوئی بات دیکھیں یا سنیں تو سوال کریں:

یہ بات کس نے کہی؟

اس کا ماخذ کیا ہے؟

اس کا مقصد کیا ہے؟

اس کے پیچھے نیت کیا ہے؟

یہی تنقیدی شعور انہیں فکری انحراف سے بچا سکتا ہے۔

عملی پہلو: وقت بندی اور اصول سازی

دوسرا سوال یہ ہے کہ بچے اس فضا کے عادی نہ ہوں اور نقصانات کم سے کم رہیں، تو کیا کیا جائے؟

اس کا حل مکمل پابندی نہیں ہے، بلکہ وقت کی تعیین اور باقاعدہ اصول و قوانین بنانا ہے۔ بچوں کو کب، کتنی دیر اور کس حد تک سوشل میڈیا تک رسائی حاصل ہوگی، یہ پہلے سے طے ہونا چاہیے۔

مزید یہ کہ خاص طور پر نو عمری اور ہائی اسکول کے زمانے میں کوشش کی جائے کہ موبائل فون ذاتی نہ ہو بلکہ مشترکہ استعمال کے لیے ہو۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک منظم اور قانون کے تحت ہو۔

مثلاً: رات کے وقت سونے سے پہلے انٹرنیٹ بند کر دیا جائے۔ گھر کے تمام افراد، والدین سمیت، ان قوانین کی پابندی کریں۔ خود نوجوان سے گفتگو کر کے باہمی رضامندی سے استعمال کا وقت طے کیا جائے۔

یہ بھی طے ہو کہ وہ کن اوقات میں سوشل میڈیا استعمال کرے گا۔ اگر ابتدا ہی سے سوشل میڈیا کو نظم و ضبط کے ساتھ گھر میں لایا جائے تو اسے قابو میں رکھنا ممکن ہے۔ لیکن اگر ابتدا میں آزادی دے دی جائے اور بعد میں اچانک چھیننے کی کوشش کی جائے تو بچہ شدید ردِعمل دکھائے گا۔ خصوصاً نو عمری میں دھمکی اور جبر سے معاملہ مزید خراب ہو جاتا ہے۔ اگر لت پیدا ہو چکی ہو تو باقاعدہ علاج ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha