منگل 17 فروری 2026 - 00:27
مولانا سید عزیز الحسن عابدی کی یاد میں حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ (س) قم المقدس میں ایصال ثواب کی مجلس منعقد کی گئی

حوزہ/ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید عزیز الحسن عابدی صاحب کی یاد میں ایران کے مقدس شہر قم میں منعقدہ مجلسِ ایصالِ ثواب نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ اس پُروقار اجتماع میں علماء، فضلاء، طلابِ حوزہ اور مؤمنین کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور مرحوم کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید عزیز الحسن عابدی صاحب کی یاد میں ایران کے مقدس شہر قم میں منعقدہ مجلسِ ایصالِ ثواب نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ اس پُروقار اجتماع میں علماء، فضلاء، طلابِ حوزہ اور مؤمنین کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور مرحوم کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

مولانا سید عزیز الحسن عابدی کی یاد میں حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ (س) قم المقدس میں ایصال ثواب کی مجلس منعقد کی گئی

مجلس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد حوزہ علمیہ قم کے فعال مبلغ و خطیب مولانا عامر عباس عابدی نے خطاب کرتے ہوئے مرحوم کی حیاتِ علمی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا سید عزیز الحسن عابدی صاحب نے اپنی زندگی دینِ اسلام کی تبلیغ، تدریس اور تربیتِ طلاب کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی سادگی، انکساری اور اخلاصِ عمل انہیں دیگر اہلِ علم سے ممتاز بناتا تھا۔

خطاب کے دوران حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب عليه السلام کا ایک بامعنی قول بھی پیش کیا گیا، جس میں آپؑ نے فرمایا کہ “جو عالم علم چھوڑ کر جاتا ہے وہ کبھی مرتا نہیں”۔ خطیب محترم نے اس قول کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی زندگی جسم کی نہیں بلکہ علم اور کردار کی ہوتی ہے۔ ایک عالمِ دین اگر اپنے پیچھے علم، شاگرد اور فکری ورثہ چھوڑ جائے تو وہ اپنے آثار کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ مولانا سید عزیز الحسن عابدی صاحب کی شخصیت بھی اسی مصداق کی حامل تھی۔

مولانا سید عزیز الحسن عابدی کی یاد میں حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ (س) قم المقدس میں ایصال ثواب کی مجلس منعقد کی گئی

خطیب مجلس عامر عابدی نے مزید کہا کہ مرحوم کا تعلق ہندوستان کی زرخیز اور علمی بستی نوگواں سادات سے تھا اور انہوں نے ہندوستان و ایران کے علمی مراکز میں خدمات انجام دیں۔ ان کے دروس اور بیانات سے بے شمار افراد مستفید ہوئے اور آج بھی ان کے شاگرد مختلف علاقوں میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو ان کے علمی تسلسل کی روشن دلیل ہے۔

مولانا سید عزیز الحسن عابدی کی یاد میں حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ (س) قم المقدس میں ایصال ثواب کی مجلس منعقد کی گئی

مجلس کے اختتام پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے اجتماعی دعا کی گئی، ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت کی التجا کی گئی، جبکہ اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت اور صبرِ جمیل کی دعا بھی کی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مرحوم کے علمی و تبلیغی مشن کو جاری رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں گے، تاکہ ان کا علمی چراغ ہمیشہ روشن رہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha