حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ عبداللہ جوادی آملی نے ولایت و امامت کے موضوع پر سال ۱۳۸۶ کی نشست نمبر ۳۱ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: بقیع میں ائمۂ اطہارؑ کے مبارک مزارات کی دردناک اور دلخراش مسماری، جو وہابیوں کے ہاتھوں انجام پائی، اس حوالے سے یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ اس عمل میں ابرہہ کا لشکر اور ان وہابیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں؛ کیونکہ وہ (ابرہہ کا لشکر) کعبہ کو گرانے آیا تھا اور یہ لوگ امامت سے برسرِ پیکار ہوئے، مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ خدا انہیں رسوا کرے۔
یہ درست ہے کہ انہوں نے چند اینٹیں گرا دیں، لیکن امامت اپنی جگہ محفوظ رہی۔ آج مشرق و مغربِ عالم میں امام باقرؑ، امام صادقؑ، امام سجادؑ اور امام حسن مجتبیٰؑ کی تعلیمات پھیل چکی ہیں۔
ان شاء اللہ، اسلامِ ناب کے فروغ اور اہلِ حجاز کے شعور کے بیدار ہونے کے ساتھ، وہابیت کا یہ منجمد اور خیالی دھارا بھی ختم ہو جائے گا، اور ان کے لیے توسل اور شفاعت کا مفہوم واضح ہو جائے گا۔
اہلِ بیتؑ؛ رحمتِ الٰہی کے سرچشمے
اہلِ بیتؑ، خداوندِ متعال کی "وسیع رحمت" کے کامل مظاہر اور "رحمت للعالمین" کے وارث ہیں۔ اسی لیے ان کے گھروں سے رحمت کے چشمے پھوٹتے ہیں اور وہاں سے بہہ کر دوسروں تک پہنچتے ہیں۔
لہٰذا رحمت، شفقت، درگزر اور بے لوث محبت کا درس انہی کے مکتب سے سیکھنا چاہیے؛ کیونکہ عام طور پر انسان ایک دوسرے کے ساتھ احسان کرتے وقت بدلے، شکریے یا کسی ردِعمل کی توقع رکھتے ہیں۔
لیکن اہلِ بیتؑ کی عطا اور مہربانی صرف خدا کے لیے ہوتی ہے، اور وہ کسی سے کوئی توقع نہیں رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی عام رحمت کے تحت مخلوقات کو پیدا کیا اور ان کی ضروریات پوری کیں، اسی طرح اہلِ بیتؑ بھی، چونکہ رحمتِ الٰہی کے مظاہر ہیں، مخلوق کی مادی و معنوی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
وہ نہ صرف رسالت کے معاملے میں یہ شعار رکھتے ہیں: قل لا أسئلکم علیه أجراً﴾ "کہہ دیجئے! میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا"
بلکہ اطعام و احسان کے بارے میں بھی فرماتے ہیں: ﴿إنما نُطْعمکم لوجه الله لا نرید منکم جزاءً ولا شکوراً﴾ "ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ"
جس طرح وہ خدا کی عبادت "حبّاً للہ" (خدا کی محبت میں) کرتے ہیں، اسی طرح ان کے تمام اعمال بھی صرف خدا کے لیے ہوتے ہیں۔
اہلِ بیتؑ کی محبت کی ضرورت اور اس کا طریقہ
اللہ تعالیٰ نے انسان سے فرمایا کہ اس کے مقابل تمہاری ذمہ داری عبادت ہے، اور اس کے خلفاء و جانشینوں کے مقابل تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ ان سے محبت رکھو:
"میں تم سے اپنی رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا، سوائے قرابت داروں کی محبت کے"
یعنی میری رسالت اور دینی خدمات کا اجر یہ ہے کہ تم ان سے محبت کرو۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم ان سے محبت کیسے کریں؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ مظلوم ہیں، ہم ان پر گریہ کریں؟ یہ کام تو دوسرے لوگ بھی کر سکتے ہیں!
حقیقت یہ ہے کہ محبت کے کچھ علمی اسباب ہوتے ہیں۔ اگر انسان ان اسباب تک پہنچ جائے تو محبت خود بخود پیدا ہو جاتی ہے، ورنہ نہیں۔
محبت بغیر معرفت کے ممکن نہیں، اور معرفت کے بھی مختلف درجے ہوتے ہیں:
اگر معرفت عقلی ہو تو محبت بھی عقلی ہوگی
اگر وہمی ہو تو محبت بھی وہمی ہوگی
اگر خیالی ہو تو محبت بھی خیالی ہوگی
اگر حسی ہو تو محبت بھی حسی ہوگی
گہری اور حقیقی محبت، کمزور معرفت (وہمی، خیالی یا حسی) سے حاصل نہیں ہو سکتی۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے نورانی خطبے کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہماری معرفت کو عقلی بنایا جائے، تاکہ ہماری محبت بھی عقلی اور پائیدار ہو جائے۔
آخر میں امید ظاہر کی گئی کہ ہم اہلِ بیت عصمت و طہارتؑ کی صحیح معرفت حاصل کر کے ان کے سچے پیروکار بن سکیں۔
حوالہ: ادبِ فنائے مقربان، جلد ۱، صفحہ ۱۶۰
(مبحث ولایت و امامت، نشست ۳۱، سنہ ۱۳۸۶)









آپ کا تبصرہ