تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
خطابت صرف بولنے کا نام نہیں، دلوں کو جگانے کا فن ہے۔ خطیب کی عظمت اس کی آواز کی بلندی سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے کہ اس کے الفاظ کتنی گہرائی کے ساتھ سامع کے دل و دماغ میں اترتے ہیں۔ وہ زبان سے نہیں، اپنے علم، فکر، اخلاص، کردار، وقار اور استدلال سے گفتگو کرتا ہے۔
اسی لیے علمائے بلاغت نے کہا ہے کہ بہترین خطیب وہ نہیں جو سب سے زیادہ بلند بولے، بلکہ وہ ہے جس کی بات سب سے زیادہ دیر تک یاد رہے۔
آواز خطابت کا ذریعہ ہے، مقصد نہیں۔
اس کا حسن چیخنے میں نہیں، بلکہ وضاحت، اعتدال، صحیح تلفظ، مناسب وقفوں اور فطری اتار چڑھاؤ میں ہے۔ ایک لفظ اگر اپنے صحیح لہجے میں ادا ہو تو دل پر نقش چھوڑ دیتا ہے، اور اگر شور میں گم ہو جائے تو اپنا اثر کھو بیٹھتا ہے۔
جب مائیک اور لاؤڈ اسپیکر موجود نہیں تھے تو بلند آواز وقت کی ضرورت تھی۔ خطیب کھلے میدانوں، مسجدوں اور بڑے اجتماعات میں اپنی قدرتی آواز کے سہارے ہزاروں افراد تک پیغام پہنچاتا تھا۔
اس زمانے میں آواز بلند کرنا مجبوری تھی، فن نہیں۔
آج حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ ایک چھوٹا سا مائیک آخری صف تک آواز کو صاف اور واضح پہنچا دیتا ہے۔ اب خطیب کی مہارت اس میں نہیں کہ وہ کتنی زور سے بولتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ مائیک کے ذریعے کتنی خوب صورتی سے گفتگو کرتا ہے۔
مائیک آواز کو بڑھانے کے لیے ہے، خطیب کو چیخنے پر مجبور کرنے کے لیے نہیں۔
اس کے باوجود بعض منبروں پر آج بھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خطیب کسی وسیع میدان میں بغیر مائیک کے خطاب کر رہا ہو۔ چار افراد مجلس میں بیٹھے ہوتے ہیں، مگر آواز ایسی بلند ہوتی ہے جیسے ہزاروں کا اجتماع سامنے ہو۔
کبھی تو الفاظ سنائی دینے کے بجائے صرف شور محسوس ہوتا ہے، اور کبھی چہرے کے غیر فطری تاثرات، حد سے زیادہ کھلا ہوا منہ اور بے جا جسمانی حرکات سامع کی توجہ مضمون سے ہٹا دیتی ہیں۔
اس لمحے علم پس منظر میں چلا جاتا ہے اور اندازِ بیان خود موضوع بن جاتا ہے۔
حالانکہ فنِ خطابت کی بنیاد ہی اس کے برعکس ہے۔ علمِ تجوید صحیح مخارجِ حروف سکھاتا ہے، علمِ صوتیات آواز کو متوازن رکھنے کا درس دیتا ہے، اور علمِ بلاغت بتاتا ہے کہ اثر کا راز الفاظ کے انتخاب، جملوں کی ترتیب اور مناسب لہجے میں پوشیدہ ہے۔ ان میں سے کسی علم نے بھی شور کو خطابت کا حسن قرار نہیں دیا۔
رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کی گفتگو اس فن کا کامل نمونہ تھی۔ آپ نہایت واضح، متوازن اور باوقار انداز میں کلام فرماتے تھے۔ ہر لفظ اپنی جگہ پر ہوتا، ہر جملہ اپنے پورے مفہوم کے ساتھ دلوں میں اترتا۔ آپ نے کبھی آواز کی شدت سے نہیں، بلکہ صداقت، حکمت اور حسنِ بیان سے انسانوں کے دل فتح کیے۔
اسی طرح امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے خطبات آج بھی نہج البلاغہ کی صورت میں زندہ ہیں۔ ان کی عظمت آواز کی بلندی میں نہیں، فکر کی بلندی میں ہے۔ اگر شور ہی تاثیر کا معیار ہوتا تو تاریخ استدلال نہیں، صرف بلند آوازوں کو یاد رکھتی۔
اگر بلند آواز ہی خطابت کا معیار ہوتی تو چودہ سو برس بعد دنیا حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبوں کو نہیں، ان کی آواز کی بلندی کو یاد رکھتی؛ مگر تاریخ نے آواز نہیں، فکر، دلیل، شجاعت اور حق گوئی کو محفوظ رکھا۔
نفسیات بھی یہی کہتی ہے کہ مسلسل ایک ہی بلند آواز سامع کو تھکا دیتی ہے، جبکہ متوازن لہجہ، مناسب وقفہ، آواز کا اتار چڑھاؤ اور موقع کی مناسبت سے خاموشی، کلام کو یادگار بنا دیتی ہے۔ بہترین خطیب وہ ہے جو جذبات کو قابو میں رکھے، نہ کہ جذبات اس پر قابض ہو جائیں۔
منبرِ اہلِ بیت علیہم السلام علم کا منبر ہے، تہذیب کا منبر ہے، حکمت کا منبر ہے۔ یہاں سے نکلنے والا ہر لفظ ایمان کو مضبوط کرے، عقل کو روشن کرے اور اخلاق کو سنوارے۔ اس منبر کی عظمت شور سے نہیں بڑھتی؛ علم، دلیل، اخلاص اور کردار سے بڑھتی ہے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہمارے آج ہمارے خطباء اور ذاکرین کو اپنی آواز سے زیادہ اپنے اسلوب پر محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ مائیک کے ہوتے ہوئے چیخنا فن نہیں، کمزوری ہے۔ منہ کو ضرورت سے زیادہ کھولنا اداکاری ہے، خطابت نہیں۔ اصل کمال یہ ہے کہ سامع خاموش بیٹھا رہے، مگر اس کے دل میں قیامت برپا ہو جائے؛ آنکھیں نم ہو جائیں، عقل بیدار ہو جائے اور زندگی کا رخ بدل جائے۔
خطابت کا کمال بلند آواز میں نہیں، بلند فکر میں ہے۔ مؤثر بیان چیخ و پکار سے نہیں، علم، دلیل، حکمت اور اخلاص سے جنم لیتا ہے۔ جب الفاظ دل سے نکلتے ہیں تو وہ مائیک کے سہارے نہیں، براہِ راست دلوں میں اتر جاتے ہیں۔ یہی منبر کا وقار ہے، اور یہی اہلِ بیت علیہم السلام کے پیغام کی حقیقی روح ہے۔









آپ کا تبصرہ