تحریر: مولانا سیدکرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
تاریخ میں ثبت شدہ بعض جملے صرف الفاظ نہیں ہوتے، وہ زمانوں کا فیصلہ ہوتے ہیں۔ وہ کسی ایک نشست کے لیے نہیں کہے جاتے بلکہ آنے والی صدیوں کے ضمیر کو جگانے کے لیے ادا ہوتے ہیں۔ دربارِ شام میں جنابِ زینب سلام اللہ علیہا کا یہ مختصر مگر آسمان ہلا دینے والا اعلان بھی ایسا ہی ایک جملہ تھا: “لَا تَمْحُوا ذِكْرَنَا... تم ہمارا ذکر ہرگز مٹا نہیں سکو گے۔
یہ ایک اسیر خاتون کی آواز نہیں تھی، یہ حق کی ابدی فتح کا اعلان تھا۔ یہ ایک قیدی قافلے کی فریاد نہیں تھی، یہ باطل کی پیشانی پر ہمیشہ کے لیے لکھی جانے والی شکست تھی۔ یہ صرف یزید کے سامنے کہا گیا جملہ نہیں تھا، بلکہ ہر اس طاقت کے منہ پر طمانچہ تھا جو سمجھتی ہے کہ ظلم تلوار سے تاریخ لکھ سکتا ہے۔
یزید کے پاس سلطنت تھی، زینبؑ کے پاس سچ تھا۔ اس کے پاس تخت تھا، ان کے پاس حق تھا۔ اس کے پاس لشکر تھا، ان کے پاس خدا پر یقین تھا۔ اس نے لاشیں گرائیں، انہوں نے ضمیر جگا دیے۔ اس نے خیمے جلائے، انہوں نے دلوں میں ایسی شمع روشن کی جو آج تک بجھ نہیں سکی۔
یزید سمجھ رہا تھا کہ حسینؑ شہید ہوگئے، اس لیے ان کا نام بھی مٹ جائے گا۔ مگر زینبؑ نے اعلان کر دیا کہ خون کو قتل کیا جا سکتا ہے، لیکن مقصد کو نہیں؛ جسموں کو مٹایا جا سکتا ہے، مگر کردار کو نہیں؛ قیدی بنایا جا سکتا ہے، مگر حق کی آواز کو زنجیروں میں نہیں جکڑا جا سکتا۔
وقت گزر گیا… یزید کہاں ہے؟
اس کا محل کہاں ہے؟
اس کی طاقت کہاں ہے؟
اس کی فوجیں کہاں ہیں؟
اس کے جشن کہاں ہیں؟
سب مٹی میں دفن ہوگئے۔ مگر حسینؑ کا نام آج بھی اذانوں میں زندہ ہے، منبروں پر زندہ ہے، سجدوں میں زندہ ہے، آنسوؤں میں زندہ ہے، دلوں میں زندہ ہے، اور کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کا راستہ بن چکا ہے۔
یہی تو تھا “لَا تَمْحُوا ذِكْرَنَا” کا معنی۔ یہ کوئی دعویٰ نہیں تھا، ایک الٰہی وعدے کا یقین تھا۔ یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں تھا، تاریخ کی سب سے بڑی پیش گوئی تھی، جو ہر محرم میں سچ ثابت ہوتی ہے، ہر اربعین میں دنیا کے سامنے مجسم ہو جاتی ہے، اور ہر اس دل میں دھڑکتی ہے جو ظلم کے مقابلے میں حق کا ساتھ دینے کی ہمت رکھتا ہے۔
کربلا کی تلواریں اپنا کام صرف ایک دن کر سکیں، مگر زینبؑ کے الفاظ چودہ صدیوں سے مسلسل بول رہے ہیں۔ نیزے جھک گئے، تاج بکھر گئے، سلطنتیں مٹ گئیں، مگر اس ایک جملے کی گونج آج بھی باطل کے ایوانوں میں سنائی دیتی ہے: “لَا تَمْحُوا ذِكْرَنَا” — تم ہمارا ذکر کبھی مٹا نہیں سکو گے۔
اور تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں ہر ظالم کا نام اپنے ظلم کے ساتھ زندہ رہتا ہے، مگر اہلِ بیت علیہم السلام کا نام ہدایت، عزت، قربانی، آزادی اور انسانیت کے عنوان سے ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ یہی زینبؑ کے خطبے کی فتح تھی، یہی کربلا کا حقیقی انتقام تھا، اور یہی وہ ابدی انقلاب ہے جسے نہ تلوار روک سکی، نہ تخت دبا سکا، نہ وقت مٹا سکا اور نہ قیامت تک کوئی مٹا سکے گا۔









آپ کا تبصرہ