تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| آج مشہدِ مقدس کی فضا سوگوار ہے۔ لاکھوں آنکھیں اشکبار ہیں، ہزاروں دل غم سے نڈھال ہیں۔ حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کے روضۂ اقدس کے سایۂ رحمت میں ایک ایسا مجاہد سپردِ خاک ہوا ہے جس نے اپنی پوری زندگی اسلام، انقلاب، امت اور مظلوم انسانیت کی خدمت میں بسر کر دی۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک عمر تک طوفانوں سے لڑنے والا مسافر آخرکار اپنے مولا کی پناہ میں پہنچ گیا ہو۔
یہ صرف ایک انسان کی رخصتی نہیں، صبر کا ایک باب بند ہو رہا ہے، استقامت کا ایک مینار نگاہوں سے اوجھل ہو رہا ہے، اور تاریخ اپنے ایک ایسے کردار کو الوداع کہہ رہی ہے جس نے اپنی ہر سانس خدا کے دین، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشن اور اہلِ بیت علیہم السلام کے مکتب کی پاسبانی کے لیے وقف کر دی۔
ان کا بچپن آسائشوں میں نہیں، آزمائشوں میں گزرا۔ جوانی سکون سے نہیں، شاہی آمریت کے ظلم کے سائے میں پروان چڑھی۔ طالب علمی کے دن کتاب، قلم اور درس کے ساتھ گزرے، مگر ان کے ہم سفر قید و بند، نگرانی، جلاوطنی، پابندیاں اور مسلسل دربدری بھی رہیں۔ انہوں نے علم صرف کتابوں سے نہیں، بلکہ مصائب کی بھٹی میں حاصل کیا، اور کردار صرف درس سے نہیں، بلکہ قربانی سے تعمیر کیا۔
انہوں نے ملتِ ایران کی محرومی کو اپنا درد بنایا، امت کی بے بسی کو اپنی بے خوابی بنایا، اور اسلام کی سربلندی کو اپنی زندگی کا مقصد۔ وہ جانتے تھے کہ حق کا راستہ پھولوں سے نہیں، کانٹوں سے آراستہ ہوتا ہے؛ اس لیے انہوں نے شکایت کے بجائے استقامت کو، خاموشی کے بجائے قیام کو، اور مصلحت کے بجائے حق گوئی کو اپنا شعار بنایا۔
وہ جہاں بھی پہنچے، حق کا پیغام لے کر پہنچے۔ ہر اجتماع، ہر محفل اور ہر طبقۂ فکر میں انہوں نے یہی آواز بلند کی کہ ظلم ہمیشہ باقی نہیں رہتا، اگر ایمان زندہ ہو، اگر غیرت بیدار ہو، اور اگر اللہ اور اولیاء اللہ کی محبت دلوں میں زندہ ہو۔ ان کی دعوت صرف سیاسی انقلاب کی دعوت نہیں تھی، بلکہ انسان کے ضمیر، ایمان، عزت اور خود اعتمادی کو بیدار کرنے کی دعوت تھی۔
انقلاب کامیاب ہوا تو بہت سے لوگوں کی منزل آ گئی، مگر ان کی ذمہ داری شروع ہوئی۔ ایک طرف جنگ، دوسری طرف پابندیاں؛ ایک طرف عالمی استکبار کی سازشیں، دوسری طرف شہداء کے لہو کی امانت؛ ایک طرف ملت کی امیدیں، دوسری طرف پوری امت کی نظریں۔ انہوں نے ہر آزمائش کو عبادت سمجھ کر قبول کیا، ہر زخم کو امانت سمجھ کر اٹھایا، اور ہر مشکل کو خدا کی رضا کی طرف ایک قدم جانا۔
انہوں نے قوم کو خود اعتمادی دی، علم کو عزت دی، ایمان کو قوت دی اور استقلال کو زندگی بخشی۔ انہوں نے ایک نسل کو یہ یقین عطا کیا کہ جو قوم خدا پر بھروسا کرے، محمد و آلِ محمد علیہم السلام کے راستے پر ثابت قدم رہے، اور شہداء کے خون سے وفاداری نبھائے، اسے دنیا کی کوئی طاقت غلام نہیں بنا سکتی۔
عمر گزرتی رہی، ذمہ داریاں بڑھتی رہیں، جسم کمزور ہوتا گیا، مگر عزم کبھی کمزور نہ ہوا۔ برسوں کی جدوجہد، شہداء کی جدائیاں، امت کے غم، مظلوموں کی آہیں اور ملت کی امیدیں یقیناً اس جسم کو تھکا چکی تھیں، مگر ان کی روح ہمیشہ جوان رہی۔ وہ خود زخم سہتے رہے، مگر قوم کے حوصلے کو کبھی زخمی نہ ہونے دیا۔
پھر دشمن نے ایک بار پھر اپنی بزدلی کا ثبوت دیا۔ جس رہبر کو میدانِ فکر میں شکست نہ دے سکا، جس کے عزم کو زندانوں سے نہ توڑ سکا، جس کی آواز کو دھمکیوں سے خاموش نہ کر سکا، اس کے جسم کو نشانہ بنایا۔ مگر وہ یہ بھول گیا کہ اہلِ حق کی زندگی ان کے جسم سے نہیں، ان کے پیغام سے پہچانی جاتی ہے۔ شہداء کا خون زمین پر نہیں گرتا، قوموں کی رگوں میں دوڑنے لگتا ہے، اور ہر قطرہ نئی نسلوں کو حق پر ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
پھر اس مجاہد کے نصیب میں وہ سعادت آئی جس کی آرزو ہر عاشقِ اہلِ بیت علیہم السلام اپنے دل میں لیے دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔ حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنے اس وفادار خادم کو اپنے جوار میں جگہ عطا فرما دی۔ یوں لگتا ہے جیسے عمر بھر کی مشقتیں، قید و بند کی صعوبتیں، جلاوطنی کی محرومیاں، قیادت کی بھاری ذمہ داریاں، امت کے غم اور شہادت کے زخم سب ایک لمحے میں سکون پا گئے ہوں، اور امامِ مہربان اپنے اس سچے وفادار سے فرما رہے ہوں: “آؤ، تم نے اپنے عہد کی امانت پوری کر دی، اب ہمارے جوار میں آرام کرو۔"
جس نے ساری زندگی اہلِ بیت علیہم السلام کے مکتب کی پاسبانی کی، وہ آخرکار اسی مکتب کے آٹھویں امام حضرت علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کے جوار میں ابدی آرام پا گیا۔ شاید اس سے زیادہ خوبصورت انجام کسی مجاہد کے لیے ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کی زندگی راہِ خدا میں گزرے، اس کی موت شہادت بنے، اور اس کی آخری منزل امامِ رضا علیہ السلام کے حرم کا سایہ ہو۔
کچھ لوگ دنیا سے رخصت نہیں ہوتے، تاریخ میں اتر جاتے ہیں۔ کچھ قبریں مٹی کے نیچے نہیں ہوتیں، قوموں کے دلوں میں بن جاتی ہیں۔ رہبرِ شہید بھی اب انہی زندہ انسانوں میں شامل ہیں جن کا سفر موت پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ ہر آنے والی نسل کو یہ پیغام دیتا ہے کہ حق کی حفاظت تلوار سے پہلے ایمان، اور ایمان سے پہلے اخلاص مانگتی ہے۔
سلام ہو اس مردِ مؤمن پر، جس نے بچپن میں صبر سیکھا، جوانی میں ظلم سے ٹکرانا سیکھا، بڑھاپے میں امت کا بوجھ اٹھایا، اور آخرکار اپنی جان خدا کی راہ میں نچھاور کر دی۔ سلام ہو اس راہِ حق کے مجاہد پر، جس کی زندگی جہاد بنی، جس کی موت شہادت بنی، اور جس کا آخری ٹھکانا حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کے جوار میں قرار پایا۔
اللّٰہم صلِّ علیٰ محمد و آلِ محمد، واحشرہ مع محمدٍ وآلِ محمد، واجعل دمہ نوراً للإسلام، وذخرًا للمؤمنین، وسببًا لعزۃِ الحقِّ إلی یوم الدین









آپ کا تبصرہ