حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی یاد میں مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ ہریانہ کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار درسِ اخلاق کا انعقاد کیا گیا، جس میں علماء، اساتذہ، طالبات نے بھرپور شرکت کی۔
پروگرام کا مقصد رہبرِ شہید کی علمی، اخلاقی اور انقلابی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور نئی نسل کو ان کی سیرت سے روشناس کروانا تھا۔

پروگرام کا آغاز طالبہ سیدہ کریمہ بتول نے تلاوتِ کلامِ مجید سے کیا، جبکہ طالبہ آفریدہ بتول نے رہبرِ شہید کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے منقبت پڑھی، جسے حاضرین نے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ سماعت کیا۔
بعد ازاں مہمانِ خصوصی حجۃ الاسلام والمسلمین عالی جناب مولانا سید حیدر مہدی صاحب قبلہ (قمی بستی) نے "رہبرِ شہید کی سیرت سے اخلاق، بصیرت اور استقامت کا درس" کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ شہید کی پوری حیاتِ مبارکہ ایمان، اخلاص، تقویٰ، بصیرت، شجاعت اور استقامت کا روشن نمونہ ہے۔
انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اسلامِ نابِ محمدیؐ، ولایتِ اہلِ بیتؑ، مظلوموں کی حمایت اور امتِ مسلمہ کی عزت و سربلندی کے لیے وقف رکھا۔ آج امتِ مسلمہ خصوصاً نوجوان نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے افکار، کردار اور سیرت کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور فکری یلغار، اخلاقی انحطاط اور ثقافتی چیلنجز کا دور ہے۔ ایسے حالات میں رہبرِ شہید کی تعلیمات ہمیں دینی بصیرت، فکری استقلال، وحدتِ امت اور ظلم کے خلاف ثابت قدمی کا درس دیتی ہیں۔ اگر معاشرہ اخلاقِ اسلامی، علم اور تقویٰ کو اپنی بنیاد بنالے تو ہر قسم کی فکری اور سماجی گمراہی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
مولانا سید حیدر مہدی نے مزید کہا کہ طالباتِ علومِ دینیہ مستقبل کی مربیات، معلمات اور معاشرے کی فکری معمار ہیں۔ لہٰذا انہیں چاہیے کہ وہ علم کے ساتھ ساتھ حسنِ اخلاق، عفت، حجاب، خدمتِ خلق، اخلاص اور تقویٰ کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ مدارسِ دینیہ صرف تعلیم گاہیں نہیں بلکہ انسان سازی، کردار سازی اور صالح معاشرے کی تشکیل کے مراکز ہیں، جہاں سے علم و عمل سے آراستہ افراد تیار ہوکر امت کی رہنمائی کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رہبرِ شہید کی یاد منانا صرف تعزیتی اجتماع منعقد کرنے کا نام نہیں، بلکہ ان کے افکار، اہداف، دینی غیرت، استقامت اور خدمتِ اسلام کے جذبے کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا ہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔
اس موقع پر مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ ہریانہ کی طالبات کے علاوہ مولانا سید محمد ثقلین قمی، مولانا عقیل رضا ترابی (سربراہِ مدرسہ)، مولانا سید ندیم عباس مشہدی، مولانا محمد رضوان صاحب، قاری محمد اسجد صاحب، خواہر سیدہ علی فاطمہ (ناظمۂ تعلیم) اور خواہر علقمہ بتول بھی موجود رہیں۔
پروگرام کے اختتام پر رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے ایصالِ ثواب، امتِ مسلمہ کے اتحاد، عالمِ اسلام کی سربلندی، مظلومانِ عالم کی نصرت اور وطنِ عزیز میں امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ بعد ازاں شرکائے محفل میں تبرک و تبرکات تقسیم کی گئیں۔

شرکائے پروگرام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے علمی، فکری اور اخلاقی اجتماعات کا تسلسل جاری رکھا جائے گا تاکہ معاشرے میں دینی شعور، اخلاقی اقدار اور سیرتِ اکابر کی روشنی عام ہو اور نئی نسل کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔









آپ کا تبصرہ