جمعہ 10 جولائی 2026 - 14:14
آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای جھکے نہیں، بکے نہیں

حوزہ/آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای کے حامی ان کی قیادت کو استقامت، استقلال اور مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک طاقت کا اصل معیار صرف عسکری قوت نہیں، بلکہ اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنا بھی ہے۔ اسی وجہ سے "جھکے نہیں، بکے نہیں" ان کے بارے میں ایک فکری اور سیاسی شعار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یادداشت: انتظار مہدی

حوزہ نیوز ایجنسی| عصرِ حاضر کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دنیا کی مادی اور استکباری طاقتوں نے اپنے ظلم، جبر اور سرمائے کے بل بوتے پر کمزور قوموں کو غلام بنانے اور ان کے حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کی، تو تاریخ کے افق پر چند ایسی جرات مند اور الٰہی شخصیات نمودار ہوئیں جنہوں نے مصلحت پسندی پر اصول پسندی کو ترجیح دی۔ ان مایہ ناز رہنماؤں میں آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کا نامِ نامی ایک ایسے فولادی عزم کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے وقت کے فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ انہوں نے اپنی قیادت اور زندگی کے اصولوں سے ثابت کیا کہ حق کی راہ میں کسی بھی مصلحت، خوف یا دنیاوی لالچ کا شکار ہوئے بغیر صرف اور صرف خدا کی ذات پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ ان کی پوری زندگی عالمی استکبار خصوصاً امریکی اور اسرائیلی سامراج کے ناپاک عزائم کے سامنے ایک ایسی ناقابلِ تسخیر دیوار کی مانند ہے جس کو گرانا کسی کے بس میں نہیں رہا۔

استقامت کا بے مثال اور تاریخی سفر

آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت کا دور دراصل مسلسل جدوجہد اور لازوال استقامت کی ایک طویل داستان ہے۔ جب دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے بڑی بڑی حکومتوں کو اپنے اشاروں پر نچا رہی تھیں، اس وقت انہوں نے قرآنی اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے مظلوموں کا ہاتھ تھاما۔ عالمی طاقتوں نے انہیں اور ان کے ملک کو جھکانے کے لیے تاریخ کی سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کیں، فوجی حملوں کی دھمکیاں دیں، اور چوطرفہ نفسیاتی جنگ کا آغاز کیا، لیکن ان کے قدموں میں ایک انچ کی لغزش بھی نہ آئی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک حقیقی مومن اور سچا رہبر کبھی بھی مادی دباؤ کے سامنے سر نہیں تسلیمِ خم کرتا۔ ان کی اس غیر متزلزل جرات نے دنیا بھر کے حریت پسندوں کو یہ حوصلہ دیا کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو دنیا کی کوئی بھی بڑی طاقت آپ کو اپنے فیصلوں سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔

استقامت کی علامت

آیت اللہ خامنہ‌ای کے حامی ان کی قیادت کو استقامت، استقلال اور مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک طاقت کا اصل معیار صرف عسکری قوت نہیں بلکہ اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنا بھی ہے۔ اسی وجہ سے "جھکے نہیں، بکے نہیں" ان کے بارے میں ایک فکری اور سیاسی شعار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

عالمی سودے بازی اور لالچ کو مسترد کرنا

دنیا کی مادی تاریخ میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے بڑے بڑے دعوے دار عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے یا تو جھک جاتے ہیں یا پھر اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کے عوض اپنے اصولوں کا سودا کر لیتے ہیں، یعنی بک جاتے ہیں۔ لیکن سید علی خامنہ ای نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ وہ نہ تو کسی دباؤ کے سامنے جھکنے والے ہیں اور نہ ہی کسی لالچ کے بدلے بکنے والے ہیں۔ انہوں نے دنیا کی بڑی سے بڑی سپر پاور کے سامنے اپنے اسلامی، اخلاقی اور انقلابی نظریات کا سودا کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ خاص طور پر صیہونی ریاست اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف اور مظلومینِ فلسطین و غزہ کی حمایت میں ان کا موقف ہمیشہ دوٹوک اور غیر مبہم رہا ہے۔ انہوں نے ہر فورم پر واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کیا کہ فلسطین کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں امتِ مسلمہ کا سر فخر سے بلند ہوا۔

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی

گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران کے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی دباؤ، سکیورٹی خدشات، خطے میں کشیدگی اور مختلف عسکری واقعات نے اس تناؤ کو مزید بڑھایا۔ ان حالات میں آیت اللہ خامنہ‌ای نے متعدد مواقع پر ایران کی خودمختاری, قومی استقلال اور اپنی پالیسیوں پر قائم رہنے کے مؤقف کا اظہار کیا۔ ان کے حامیوں کے مطابق، یہ مؤقف اس بات کی علامت ہے کہ بیرونی دباؤ کے باوجود انہوں نے اپنے اصولی موقف سے پسپائی اختیار نہیں کی۔

علاقائی اور عالمی اثرات

ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان حالات میں آیت اللہ خامنہ‌ای کے مؤقف کو ان کے حامی خطے میں ایران کی خودمختاری اور سیاسی استقلال کے اظہار کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ ناقدین اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ یہی اختلافِ آرا اس موضوع کو بین الاقوامی سیاست کا اہم حصہ بناتا ہے۔

شہادت کا رتبہ

آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اپنی تقاریر اور بیانات میں متعدد مواقع پر اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ راہِ خدا میں شہادت ایک عظیم سعادت ہے اور مومن کے لیے باعثِ افتخار مقام رکھتی ہے۔ ان کی پوری جدوجہد اس بات کی غماز ہے کہ وہ مکتبِ امام حسین علیہ السلام سے وابستہ رہتے ہوئے حق، عدل اور مظلوموں کی حمایت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ان کی شخصیت اس پیغام کی ترجمان ہے کہ اگر حق کی راہ میں قربانی دینی پڑے تو ایک صاحبِ ایمان اس سے خوف زدہ نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ یہی اعزاز سید علی خامنہ ائ نے حاصل کر دیکھایا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha