جمعہ 10 جولائی 2026 - 12:14
رہبر شہید (ره) رواق دارالذکر میں، حرم مطہر امام رضا (ع) میں ابدی آرام گاہ

حوزہ / رہبر شہید (ره) اور ان کے شہید خاندان کے پاکیزہ پیکر، مراسمِ تشییع اور نمازِ جنازہ کے بعد رواق دارالذکر میں حرم مطہر رضوی (ع) میں سپردِ خاک کر دئے گئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت رضا (ع) کی پائینتی کی جانب روضۂ منورہ کے پہلو میں، جہاں سے رہبر شہید (ره) برسوں عاجزی و خشوع کے ساتھ سے گزرا کرتے تھے تاکہ امام رؤوف علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو سکیں، وہ مقام اب رہبر شہید (ره) اور ان کے شہید خاندان کے پاکیزہ پیکروں کا ابدی مسکن بن گیا ہے۔

رواق دارالذکر حرم مطہر رضوی، رہبر شہید (ره) اور ان کے شہید خاندان کے پیکر کی تدفین کا مقام ہے، ایک ایسا رواق جو معنی و مفہوم سے بھی بھرپور ہے جو زیارت کے آداب سے واقف افراد کے لیے محض ایک مقام نہیں بلکہ امام رؤف (ع) کے محضر میں اور ان کے سامنے ادب کی ایک واضح علامت ہے۔

یہ رواق حضرت کی پائینتی کی جانب واقع ہے، وہی راستہ جس پر رہبر شہید (ره) حرم رضوی میں اپنی حاضریوں کے دوران ہمیشہ پابند رہتے تھے اور اسے روحانی و معنوی لطافت اور عجز و انکساری سے بھرپور طرز عمل کے ساتھ طے کیا کرتے تھے۔

ان کا حرم مطہر امام رضا علیہ السلام میں تشرف خود عاجزی کی ایک علیحدہ داستان تھا، ایک ایسی داستان جو اب دفن کے مقام کا نام سنتے ہی انتہائی معنی خیز پیغام رکھتی ہے۔

رہبر شہید (ره) عموماً دارالزہد کے راستے سے ہی داخل ہوتے تھے لیکن جس چیز نے اس تشرف کو مؤدبانہ زیارت کا ایک پائیدار نمونہ بنا دیا، وہ حضرت کے قدموں تلے ان کا روحانی ٹھہراؤ تھا۔ ان کے نزدیک زیارت صرف ضریح تک پہنچنا نہیں تھی بلکہ اس کے آداب تھے جن کی حددرجہ پابندی کرتے تھے۔

ہر چیز سے پہلے، وہ ضریح مطہر کی پائینتی کی جانب سے روضۂ منورہ کی طرف تشریف لاتے، گویا وہ چاہتے تھے کہ پہلے ادب کے مقام پر کھڑے ہوں اور پھر دل کی اجازت سے حریمِ نور میں قدم رکھیں۔ اس کے بعد، رواق دارالذکر سے گزر کر، وہ اذنِ دخول لیتے اور پھر رواق دارالسرور میں داخل ہوتے۔ جہاں وہ حضور و خشوع کے ساتھ توقف کرتے اور رازونیاز کیا کرتے۔

امتِ اسلامیہ کے رہبر و راہنما، روضۂ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے خود کو ایک ایسے مقام پر لے جایا کرتے تھے جو زیارت میں ادب، فروتنی اور معرفت کی واضح علامت ہے اور اب تقدیر نے اسی ہمیشہ والے راستے کو ان کا ابدی آرام گاہ بنا دیا ہے۔

شاید اب سے ہر زائر جو اس راستے سے گزرے، وہ اس آستانۂ ولایت پر فروتنی کے معنی کو پہلے سے زیادہ درک کرے اور یہ کہ ممکن ہے کہ آپ چاہے جتنے بھی بلند ترین مقام پر ہوں زیارت کا راستہ حضرت کی پائینتی کی جانب سے شروع کیا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha