جمعہ 8 مئی 2026 - 14:27
شہید امام خامنہ ای کی زبانی پڑھیں بچپن کا وہ واقعہ جب پہلی بار زیارتِ جامعہ حفظ کی

حوزہ/ مشہد میں حرم امام رضا علیہ السلام میں ہر رات اپنے والد کے ہمراہ حاضری دینے والے ایک بچے نے ایک شام باپ کو یہ خوشخبری سنائی کہ اب زیارتِ جامعہ مجھے زبانی یاد ہے۔ والد مسکرائے، بیٹے کو سینے سے لگایا اور کہا: بارک اللہ۔

حوزہ نیوز ایجنسی | آیت اللہ شہید سید علی خامنہ ای کہ جن کا تذکرہ آج بھی علم و تقویٰ کی روشن مثال کے طور پر کیا جاتا ہے، انہوں نے اپنی زندگی کے بارے میں خود ایک واقعہ بیان کیا ہے جو ان کے بچپن کی روحانی تربیت اور والد کے ساتھ گہرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف زیارات کے حوالے سے اہم ہے بلکہ والدین کی اولاد کی تربیت میں محبت و شفقت کے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای خود بیان کرتے ہیں:

میرے والد محترم (آیت اللہ سید جواد خامنہ ای) ہر رات نماز مغرب و عشاء کے بعد حرم مطہر امام رضا علیہ السلام کی طرف روانہ ہوتے تھے۔ وہ تقریباً کوئی رات زیارت چھوڑتے نہ تھے۔ میں بھی ہر رات ان کے ساتھ حرم جایا کرتا تھا۔

جب ہم حرم پہنچتے تو والد صاحب زیارتِ امین اللہ پڑھتے اور زیارتِ جامعہ کبیرہ کو بار بار پڑھتے۔ اس وجہ سے ان کی زیارت کافی لمبی ہو جاتی تھی۔ میں بچہ تھا، لیکن وہیں بیٹھ کر مفاتیح الجنان سے زیارتِ جامعہ پڑھتا رہتا تھا۔

رہبر شہید نے بتایا کہ اتنی بار پڑھنے کے نتیجے میں یہ طویل اور اہم زیارت مجھے زبانی یاد ہو گئی۔ ایک رات جب ہم حرم سے باہر نکلے تو میں نے والد سے کہا: ”بابا جان! میں نے آج رات زیارتِ جامعہ پوری زبانی یاد کر لی ہے۔“

یہ سنتے ہی والد صاحب کے چہرے پر خوشی اور مسکراہٹ پھیل گئی۔ انہوں نے مجھے بہت پیار کیا، سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”بارک اللہ“۔

اس واقعے سے کئی سبق ملتے ہیں۔ اول یہ کہ بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی دینی ماحول اور حرم کی زیارت کی عادت ڈلوانی چاہیے۔ دوم یہ کہ بار بار پڑھنے سے بڑی سے بڑی دعائیں اور زیارتیں حفظ ہو سکتی ہیں۔ سوم یہ کہ جب بچہ کوئی دینی کام کرے تو والدین کو اسے فوراً سراہنا اور دعا دینا چاہیے — جیسا کہ شہید کے والد نے کیا۔

یہ تحریر ”شہید خامنہ ای بہ روایت خود“ چینل سے لی گئی ہے اور اس میں شہید کی اپنی زبان سے ان کی زندگی کے خوبصورت اور سبق آموز پہلوؤں کو پیش کیا گیا ہے۔

آج جب ہم شہید خامنہ ای کی علمی و دینی خدمات کو دیکھتے ہیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کی شخصیت کی بنیاد بچپن کی انہی راتوں میں پڑھی جانے والی دعاؤں اور زیارات پر استوار ہوئی۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ والد کی صحبت اور حرم کی پاکیزہ فضا بچے کے دل پر کیا گہرا نقش چھوڑ سکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha