بدھ 8 جولائی 2026 - 11:14
فکرِ رہبر کا تحفظ: ہر غیور انسان کی ذمہ داری

حوزہ/فکر حسینی میں پروان چڑھنے والے فرزندِ زہراء سید علی حسینی خامنہ ای نے تقریباً پینتالیس برس اقتدار کے اعلیٰ مقام پر رہنے کے باوجود اپنے پیچھے دنیاوی اثاثہ میں ایک معمولی گاڑی، فرنیچر اور محدود گھریلو سامان کے علاوہ کوئی ذاتی جائیداد یا نجی دولت نہیں چھوڑی۔

تحریر: مولانا سید قمر عباس قنبر نقوی

حوزہ نیوز ایجنسی|

28 فروری 2026 تلاوت قرآن کے دوران ربِ کریم سے شہادت کا عظیم تحفہ حاصل کرنے والے حضرت ولی فقیہ، مرجع عالیقدر، مفکر و مدبر، خطیبِ و ادیب، مصنف و محقق، بے باک و نڈر رہبر و رہنما آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رحمتہ اللہ علیہ ملّت اسلامیہ کو بیدار و متحرک اور قوت و طاقت عطا کرتے ہوئے 9 جولائی کو حرم امامِ علی رضا ع مشہد کی مقدس خاک کی آغوش میں چلے گے ۔ لیکن اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قبر میں جسم جاتا ہے فکر کی نہیں ۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے ارشاد گرامی کی روشنی میں رقمطراز ہوں کہ ظالمین جو چاہیں کرلیں نظامِ ولایت اور انقلابِ اسلامی کو مٹا نہیں سکتے ـ

رہبرِ شہید رح کی فکر اور کردار کی چند جھلکیاں

فکر حسینی میں پروان چڑھنے والے فرزندِ زہراء سید علی حسینی خامنہ ای نے تقریباً پینتالیس برس اقتدار کے اعلیٰ مقام پر رہنے کے باوجود اپنے پیچھے دنیاوی اثاثہ میں ایک معمولی گاڑی، فرنیچر اور محدود گھریلو سامان کے علاوہ کوئی ذاتی جائیداد یا نجی دولت نہیں چھوڑی۔

تاریخِ سربراہانِ مملکت کی فہرستِ میں ایسے بلند کردار اور عادل رہنماء کا ملنا نا ممکن نہیں تو مُشکِل ضرور ہے ۔

ایک موقع پر اِس مردِ استقامت کے گردے میں انفیکشن ہونے پر ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ چند روز غذا میں صرف کیلے استعمال کرنے ہیں، کیلے پیش کیے گئے ۔رہبرِ انقلاب نے فرمایا کیلوں کا موسم نہیں ہے، اِن ایام میں کیلے مہنگے ہوتے ہیں۔ جنھیں عام آدمی نہیں خرید سکتا تو میں انھیں کیسے استعمال کر سکتا ہوں ۔ یہ ہے رہبر کا ذاتی کردار اور یہ ہیں رہبریت کا تقاضہ زمانہ کوئی دوسری مثال پیش کر سکتا ہے ؟

شہیدِ فقیہ اہلبیت ع سے اعلیٰ حکّام نے حالات کے مدنظر گزارش کی کہ دُشمن آپ کو نشانہ بنا سکتا ہے لہذا آپ محفوظ مقام (بنکر) پر تشریف لے چلیں، بہادر اور نڈر رہبرِ ملّت نے فرمایا کیا ملک کی تمام عوام کے لیے بنکرس کا بندوبست ہو گیا، جواب ملا ابھی نہیں تب اِس جیالے رہبر نے فرمایا جب تک پوری ملّت کے لیے محضوظ مقام تیار نہ ہو جائے حسینی خامنہ ای یہاں سے منتقل نہیں ہو سکتا ۔ شہادت قبول کرنا گوارا کیا مگر عوام کو تنہا نہ چھوڑا ۔ تاریخ ایسی مثالیں کم ہی پیش کر سکتی ہے ۔

حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تشیع جنازہ میں بڑی تعداد میں سربراہانِ مملکت اور اُن کے نمائندوں کی شرکت اِس بات کی گواہ ہے کہ شہید رہبر رح کا موقف حق اور مد مقابل گناہ گار تھا ۔

حضرت آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای رح نے اپنے عمل سے یہ ثابت کردیا وہ حسینی ہیں اور حسینی یزید کی بیعت نہیں کر سکتا اُس کا بس ایک ہی نعرہ ہوتا ہے ـ حسینؑ کی طرح جیو ۔ حسینؑ کی طرح مرو ۔

شہید رہبرِ معظم کے پیغامات

1ـ آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای رح کا پہلا پیغامِ اللہ پر توکل اور بھروسہ ہے ۔ شہیدِ رح فرماتے تھے کہ مشکل ترین اوقات میں بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ پر کامل یقین اور استقامت ہی کامیابی کی کنجی ہے، اللہ کی مدد اور نصرت ان لوگوں کے ساتھ ہے جو دین کی راہ میں ثابت قدم رہتے ہیں۔ آپ رح اکثر اس بات پر زور دیتے کہ حالات کتنے ہی دشوار کن ہوں، مایوس نہ ہو، ظالم اور بڑی طاقتوں کا خوف بے بنیاد ہے ـ اللہ سبحانہ پر توکل اور بھروسہ کریں، کیونکہ حقیقی طاقت صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کے پاس ہے، لیکن توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں، بلکہ اپنی پوری کوشش و جدوجہد کریں اور فیصلہ اللہ سبحانہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں ۔

2 ـ شہید رہبر رح، ملّت اسلامیہ کو ہمیشہ متحد اور اسلامی اقدار پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے ہیں۔ آپ فرماتے کہ ایمان اور اتحاد کی مضبوطی سے ہر قسم کی ظالمانہ سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

3 ـ رہبرِ انقلاب ولایت

امیرالمومنین اور اہلبیت اطہار کی ولایت اور اُن سے وابستگی کو ایمان کا جُز اور اتحاد اُمت کا اہم ترین وسیلہ قرار دیتے ۔ آیت اللہ خامنہ ای رح عزاداری امامِ حسینؑ کو مکتبِ اہلبیت ع کی بقا اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا سب سے مؤثر ہتھیار مانتے ہیں۔ شہید رہبرِ عزاداری کی روایتی اور جذباتی شکل جیسے سینہ زنی، نوحہ خوانی، اور جلوس کی بھرپور حمایت و تائید کرتے تھے ـ

4 ـ شوق شہادت میں بچے رہبر سے شہادت کی دُعا کرانے آتے تو آپ فرماتے بیٹا پہلے بڑے ہو جاو، خوب علم حاصل کرو، شادی کرو، اہل و عیال اور ملک و ملت کی خدمت کرو، 90/80 سال کو پہنچ جاؤ تو شہادت کی تمنا کرو ۔

5 ـ حصول علم اور مطالعہ کی ہمیشہ ہدایت دیتے

عمر مبارکہ کی آٹھ دہائیان گزارنے اور رہبریت کی بے شمار ذمہ داریوں کے باوجود شہید رہبرِ انقلاب مسلسل مختلف علوم میں ماہر اور معتبر مصنفین کی جدید، اعلیٰ اور بنیادی کتابوں کا گہرا اور باریک بینی سے مطالعہ کرتے تھے ۔ شہید فرماتے تھے کہ ہمارے گھر میں ہر شخص رات کو کتاب پڑھتے پڑھتے سو جاتا ہے، میں خود بھی ایسا ہی کرتا ہوں۔ شاید ہی کوئی علمی شعبہ ایسا ہو جس میں رہبرِ انقلاب نے مطالعہ نہ کیا ہو۔

6 - رہبر عظیم الشان اور غلام شیر خُدا حیدر کرار ہمیشہ بہتر صحت، مضبوط جسم، ورزش اور کوہ پیمائی ( پہاڑ پر چڑھنے/ سربلندی کا سفر) کی نصحیت فرماتے، پہاڑوں پر چڑھنا مضبوط صحت کے ساتھ خدا کی وحدانیت و قدرت کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہے ـ

دنیا کے انصاف پسند لوگوں بتاؤ ایسے عادل، منصف، علم دوست، انسان دوست رہبر و رہنماء کے ساتھ اقتدار کے بھوکے ظالموں نے جو برتاؤ کیا وہ لائقِ مذمت و ملامت نہیں ہے ۔

دنیا گواہ ہے کہ آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای رح شہید ہو کر اور مضبوط و قوی ہوگئے ۔ زندگی میں وہ صرف ایران کے رہبر تھے شہادت کے بعد دینا کا ہر انصاف پسند اور مظلوم آپ کو اپنا رہبر و رہنماء تسلیم کر رہا ہے ۔ تشییع جنازہ میں بڑی تعداد میں سربراہانِ مملکت اور اُن کے نمائندوں کی شرکت اِس بات کی گواہ ہے کہ شہید رہبر رح کا موقف حق اور مد مقابل گناہ گار تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha