منگل 7 جولائی 2026 - 20:32
کربلا سے آج تک: معصومیت کی ایوانوں کو للکار

حوزہ/کائنات کا نظام صرف مادی وسائل اور ظاہری طاقتوں کے تابع نہیں، بلکہ اس کے پسِ پردہ ایک ایسی قادرِ مطلق ہستی کی مشیت کارفرما ہے جو کبھی اسباب سازی کرتی ہے اور کبھی اسباب سوزی۔

یادداشت: رینا گیس

حوزہ نیوز ایجنسی|

کائنات کا نظام صرف مادی وسائل اور ظاہری طاقتوں کے تابع نہیں، بلکہ اس کے پسِ پردہ ایک ایسی قادرِ مطلق ہستی کی مشیت کارفرما ہے جو کبھی اسباب سازی کرتی ہے اور کبھی اسباب سوزی۔

اسباب سازی کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بظاہر کمزور اور معمولی وسائل کو تاریخ کا دھارا بدلنے کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ غارِ ثور کے دہانے پر عنکبوت کے نازک تار اس حقیقت کی روشن مثال ہیں، جہاں ایک نہایت کمزور وسیلہ حق کے تحفظ کا سبب بنا اور باطل کی پوری قوت بے بس ہو کر واپس لوٹ گئی۔

اس کے برعکس اسباب سوزی وہ مرحلہ ہے جب اللہ تعالیٰ دنیا کی مضبوط ترین مادی طاقتوں کو بے اثر کر دیتا ہے، تاکہ انسان جان لے کہ حقیقی اثر نہ آگ میں ہے، نہ ہتھیار میں اور نہ ہی ظاہری قوت میں، بلکہ ہر شے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تابع ہے۔ اسی لیے آگ حضرت ابراہیمؑ پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن گئی اور چھری حضرت اسماعیلؑ کے گلے پر بے اثر ہو گئی۔

تاریخِ حق و باطل پر نگاہ ڈالیں تو ایک حقیقت بار بار نمایاں ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بظاہر کمزور وجودوں کو باطل کی شکست کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ کربلا میں حضرت علی اصغرؑ کی چھ ماہ کی معصوم شہادت اس حقیقت کی ابدی مثال ہے۔ ظاہری اعتبار سے وہ ایک بے بس شیر خوار تھے، مگر انہی کی مظلومیت نے ظلم کے ایوانوں کو لرزا دیا، یزیدی اقتدار کے چہرے کو ہمیشہ کے لیے بے نقاب کر دیا اور تاریخ کا رخ بدل دیا۔ وہ معصوم وجود، جو سب سے کمزور دکھائی دیتا تھا، باطل کے لیے سب سے بڑی شکست ثابت ہوا۔

آج بھی تاریخ اسی حقیقت کی گواہی دے رہی ہے۔ امریکہ کے وحشیانہ حملے میں رہبرِ شہید کی چودہ سالہ نواسی کی شہادت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ حق کی قوت ہتھیاروں اور عسکری برتری سے نہیں، بلکہ مظلومیت، ایمان اور نصرتِ الٰہی سے جنم لیتی ہے۔ بظاہر ایک معصوم بچی کی شہادت نے دشمن کی فوجی، سیاسی اور مادی طاقت کے تمام دعووں کو بے معنی کر دیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ظلم وقتی برتری تو حاصل کر سکتا ہے، مگر تاریخ کا فیصلہ کبھی اپنے حق میں نہیں لکھوا سکتا۔

جس طرح حضرت علی اصغرؑ کی مظلومیت نے کربلا کو ابدی حیات عطا کی، اسی طرح معصوم شہداء کا خون آج بھی باطل کے ایوانوں کو لرزا رہا ہے۔ یہی سنتِ الٰہی ہے کہ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ بظاہر کمزور ترین وجودوں کو حق کی ابدی فتح اور باطل کی دائمی رسوائی کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha