یادداشت:سیدہ تاج زہراء کاظمی، جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی|
جنازہ سامنے رکھا ہے سفید کفن میں لپٹا ہوا خاموش و ساکت!! مگر یہ خاموشی عام خاموشی نہیں یہ اس شخص کی خاموشی ہے جس نے پوری زندگی وہ بات کہی جو کہنا سب سے مشکل تھا! اور آج جب یہ جسم یہاں پڑا ہے دنیا کی سب سے بڑی طاقتیں اس ایک جنازے کو دیکھ کر سوچ رہی ہیں کہ اب کیا ہوگا ذرا رکیں اور سوچیں یہ وہ شخص ہے جسے امریکہ نے توڑنا چاہا تھا پابندیوں سے، دھمکیوں سے اقتصادی جنگوں سے۔ یہ وہ شخص ہے جس کے سائنس دانوں کو گولیاں ماری گئیں، جس کے جرنیل ڈرون حملوں میں شہید کیے گئے، جس کے ملک کو ہر طرح سے گھیرا گیا مگر!! یہ جھکا نہیں ایک بار نہیں بار بار حربے استعمال کیے گئے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں حق اور باطل کے فرق اور حق کی فتح کے حوالے ارشاد باری تعالی ہے:
وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
"اور فرما دیجیے: حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل مٹنے ہی والا تھا۔" (سورۃ بنی اسرائیل آیت 81)
ایک دوسری جگہ باطل کے سامنے جھکنے کی ممانعت کے حوالے ارشاد خداوند ہے کہ
فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا... وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ."پس (اے نبی!) آپ قائم رہیے (ڈٹے رہیے) جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ توبہ کی ہے، اور سرکشی نہ کرنا... اور ان لوگوں کی طرف ہرگز نہ جھکنا جنہوں نے ظلم (باطل) کیا ہے، ورنہ تمہیں دوزخ کی آگ چھو لے گی۔" ( سورۃ ھود ۰آیت 112'113)
اور انہی آیات کی ترجمانی سفید کفن میں لپٹے شہید سید ہیں آج جب یہ جسم یہاں لیٹا ہے تو اس کے ہاتھ خالی ہیں۔ نہ دولت نہ محل نہ اقتدار کا کوئی نشان بس ایک سادہ کفن ہے یہی تھا۔ یہ شخص جوانی میں شاہ کے قید خانے میں گیا تشدد سہا مگر زبان نہیں بدلی، انقلاب کے بعد جب اقتدار ملا تو اپنے بیٹے کا تعارف ایک غریب نوجوان کے طور پر کروایا تاکہ رشتہ عہدے پر نہیں کردار پر ہو جب پوری دنیا نے کہا جھک جاؤ تو اس نے کربلا کا وہ سبق یاد دلایا جو 1400 سال پہلے ایک اور میدان میں لکھا گیا تھا عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے یہ الفاظ کربلا کی پیاسی زمین پر کہے تھے اور اس شخص نے یہ الفاظ پوری زندگی جی کر دکھائے۔ آج کروڑوں لوگ اس جنازے کے گرد کھڑے ہیں؛ آنکھیں بھیگی ہیں، سینے بھاری ہیں مگر ایک بات ہے جو رونے نہیں دیتی یہ احساس ہے کہ یہ شخص ہارا نہیں یعنی باطل کے سامنے سر تسلیم خم نہیں ہوا۔ جھکے نہیں دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت اس شخص کو نہیں توڑ سکیں، سب سے بڑی اقتصادی پابندیاں اس کا حوصلہ نہیں توڑ سکیں، سب سے جدید خفیہ ایجنسیاں اس کے ایمان کو نہیں پڑھ سکی کیونکہ جو انسان موت سے نہیں ڈرتا اسے کوئی نہیں ڈرا سکتا اور یہی وہ راز ہے جو طاقتور کبھی نہیں سمجھ سکے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر جسم ختم کر دو تو آواز بھی ختم ہو جاتی ہے۔ مگر کربلا نے 1400 سال پہلے ثابت کر دیا تھا کہ جسم مٹتا ہے آواز نہیں مٹتی، خون خشک ہوتا ہے مگر پیغام خشک نہیں ہوتا۔ آج یہ جنازہ یہاں ہے کل یہ تاریخ میں ہوگا اور تاریخ ہمیشہ انہی کو یاد رکھتی ہے جو ڈرے نہیں جھکے نہیں بکے نہیں جو بنیاد ایمان پر کھڑی ہو وہ جسم کے جانے کے بعد بھی قائم رہتی ہے۔
سلام عقیدت اے رہبر شہید









آپ کا تبصرہ