تحریر: شازیہ بتول جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی|
کائنات کی ہر مخلوق اپنی ایک خاص ھیئت و شکل رکھتی ہے۔جب ہم آئینے میں نگاہ کرتے ہیں تو آئینہ ہمارے ظاہر کی عکاسی کرتا ہے۔ آئینے میں موجود صورت ہمارا عکس ہوتی یے۔
اسی طرح ہمارے باطن کا بھی عکس ہوتا ہے جو ہماری سیرت، اخلاق، طور طریقوں اور عادتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ عکس ممکن ہے کسی انسان کی صورت میں ہو۔
رہبر شہید سید علی الحسینی خامنہ ای کا خوبصورت، جذاب اور دلچسپ عکس جو ان کے ظاہر و باطن کی بہ طور کامل عکاسی کرتا ہے وہ رہبر جدید آیت اللّہ سید مجتبی الحسینی خامنہ ای ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللّٰہ سید مجتبیٰ الحسینی خامنہ ای 8 ستمبر 1969 کو شہر مشہد کے خامنہ ای خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ رہبر شہید آیت اللّہ سید علی الحسینی خامنہ ای کے دوسرے فرزند ہیں جو چار دہائیوں تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔
آپ نے ابتدائی تعلیم سردشت اور مہاباد میں حاصل کی۔ ثانوی تعلیم کے لئے تہران کے مدرسہ علوی میں کسب فیض کیا۔ اس کے بعد اپنے والد گرامی اور محمود ہاشمی شاہرودی کی رہنمائی میں اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کی۔
خامنہ ای خاندان کے اس گوہر نایاب نے 1987ء میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔ مزید دینی تعلیم کے لئے حوزہ علمیہ قم میں داخلہ لیا اور کئی برجستہ اساتید جیسے آیت اللہ مصباح یزدی، محسن خرازی، لطف اللہ صافی گلپائیگانی کے زیر نگرانی کسب فیض کیا۔
آپ ایرانی سیاستدان غلام علی حداد عادل کے داماد ہیں، ان کی نور چشم زھراء خانم کے ساتھ زوجیت کے رشتے سے منسلک ہیں۔
آپ کو ایران کے سیکیورٹی اداروں اور بسیج میں خاصہ اثر و رسوخ حاصل رہا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللّہ سید مجتبیٰ الحسینی خامنہ ای اپنے والد کے دور حکومت میں اپنے والد گرامی کے شانہ بشانہ سیاسی میدان میں آگے بڑھے اور وہ تہران میں سپریم لیڈر کے دفاتر میں کام کرنے لگے۔ 2000ء کی دہائی کے آخر میں وکی لیکس کی جانب سے شائع امریکی سفارتی مراسلوں میں انہیں ''چوغے کے پیچھے اصل طاقت‘‘ قرار دیا گیا۔
ایک مراسلے میں الزام لگایا گیا کہ آیت اللّہ سید مجتبیٰ الحسینی خامنہ ای نے اپنے والد کا فون تک سننے کا انتظام کیا، وہ ان کے ''اہم دربان‘‘ کے طور پر کام کرتے رہے اور ملک کے اندر اپنی طاقت کا مرکز قائم کرتے رہے۔
2008ء کے ایک مراسلے میں کہا گیا کہ آیت اللّہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو نظام کے اندر ایک قابل اور مضبوط منتظم سمجھا جاتا ہے جو کسی بھی وقت قومی قیادت کے کسی حصے کے وارث بن سکتے ہیں حالانکہ ان کے پاس مکمل مذہبی اہلیت نہیں اور وہ نسبتاً کم عمر ہیں۔
مراسلے میں کہا گیا کہ ان کی مہارت، دولت اور طاقتور اتحادوں کی وجہ سے بعض اندرونی حلقے انہیں اپنے والد کی موت کے بعد مشترکہ قیادت کے قابل امیدوار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
امریکی وزارت خزانہ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی آیت اللّٰہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کی پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی روابط رکھے، جن میں ان کی بیرون ملک کاروائیوں کی قدس فورس اور رضاکار بسیج فورس شامل ہیں، جنہوں نے مختلف مواقع پر ملک گیر احتجاج کا سد باب کیا۔
امریکہ نے 2019ء میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت کے دوران ان پر پابندیاں عائد کیں اور کہا کہ وہ اپنے والد کے علاقائی عزائم اور اندرونی سخت پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے پس پردہ رہ کر 2005ء میں سخت گیر صدر محمود احمدی نژاد کے انتخاب اور 2009 میں ان کی دوبارہ متنازع جیت کی حمایت کی، جس کے بعد گرین موومنٹ کے احتجاج بھڑک اٹھے تھے۔
2005 اور 2009 کے صدارتی امیدوار مہدی کروبی نے رہبر انقلاب سید مجتبیٰ خامنہ ای کو آقا کا بیٹا قرار دیتے ہوئے دونوں انتخابات میں مداخلت کا الزام لگایا تھا جبکہ اس وقت ان کے والد کے بارے میں کہا گیا کہ وہ 'خود آقا ہیں، کسی آقا کے بیٹے نہیں۔
اپنے والد گرامی رہبر شہید سید علی الحسینی خامنہ ای کے اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہو جانے اور 2026ء کی ایران جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بعد مجلس خبرگانِ رہبری نے انہیں ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔ آپ 8 مارچ 2026ء کو ایران کے تیسرے سپریم لیڈر قرار پائے۔
آپ ایک باہوش، شجاع اور سیاسی بصیرت اور شعور رکھنے والے لیڈر ہیں۔ آپ کی سیاسی میدان میں مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رہبر شہید سید علی الحسینی خامنہ ای آپ کو اپنا دایاں بازو کہا کرتے تھے۔
ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی آپ ایک مثالی شخصیت ہیں، ایران میں موجود آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی سرپرستی رہبر انقلاب اسلامی آیت اللّٰہ سید مجتبیٰ الحسینی خامنہ ای انجام دے رہے ہیں، جو جدید دور کے تقاضوں میں آپ کی قابلیت کی نمایاں اور روشن مثال ہے۔
اگرچہ آپ باقاعدہ طور پر ابھی منظر عام پر نہیں آئے ہیں لیکن غائبانہ طور پر پوری مملکت ایران کا نظام بہ نحوہ احسن سنبھالے ہوئے ہیں اور اپنے والد گرامی کی طرح دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے جمھوری اسلامی ایران کی بامشرف عوام کے آگے ایک مضبوط چٹان کی مانند ڈھال بنے ہوئے ہیں۔
ملک و قوم کے لئے آپ کا ہر فیصلہ، ہر قدم، ہر پیغام نہایت حکیمانہ اور مدبرانہ اور عمیق فلسفہ رکھتا ہے جو جمھوری اسلامی ایران کی غیور عوام کے نفع میں قرار پاتا ہے۔
ابھی حالیہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کی جنگ میں مزاکرت سے متعلق آپ کی طرف سے جاری ہونے والے بیانیے نے بہت سے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا کہ آپ تفرقہ اندازی کی طرف مائل ہیں۔
اس اعتراض کو غلام علی حداد عادل نے بہت خوبصورت انداز میں رد کیا ہے۔
حداد عادل کا کہنا ہے:
اس جنگ سے قبل رہبر انقلاب اسلامی آیت اللّٰہ سید مجتبی خامنہ ای سے میرا کوئی خاص رابطہ نہیں تھا، یہ میری اپنی ذاتی رائے ہے میری اپنی بات ہے، میں رہبر معظم سید مجتبیٰ کا سخنگو نہیں ہوں؛
ایک ایسا انسان جو جب سے رہبری کی مسند پر پہنچا ہو لوگوں کو وحدت کی نصیحت کر رہا ہو، کیسے ممکن ہے وہ ایک ایسا بیانیہ پیش کرے جو تفرقہ کا باعث ہو؟؟؟
لازم ہے اس بیانیہ کو ہر طرف سے دیکھا جائے پھر نتیجہ اخذ کیا جائے۔
مثلاً قرآن پاک کی آیہ کریمہ "لا تقربوا الصلاۃ" کو لے لیا جائے اور آگے کی آیت "وَ أنتم سُکٰرٰی" کو نظر انداز کر دیا جائے تو اس سے ہم درست مطلب اور مقصود متکلم تک نہیں پہنچ سکتے۔
بلکل اسی طرح ضروری ہے رہبر معظم کے بیانیے کو مکمل پڑھا جائے۔ وہ اپنے بیانیے میں بہت واضح الفاظ میں فرمارہے ہیں کہ: "رئیس جمھور نے انہیں قول دیا ہے کہ وہ ملک کے منافع کا دفاع کریں گے اور اگر امریکہ نے زیادہ چاہنے کی کوشش کی تو ہم ان کی بات ہرگز نہیں مانیں گے۔میں جب مطمئن ہوا تو مذاکرات کی اجازت دی۔
رہبر معظم مزید فرماتے ہیں، مذاکرت حضوری کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دشمن جو کہیں ہم ان کی ہر بات چشم کہہ کر قبول کریں گے۔۔۔۔ہرگز نہیں! میں خادمِ ناچیز اور ملتِ با مشرفِ ایران منتظر ہیں کہ خود مشاہدہ کریں کہ یہ شرطیں پوری ہوتی ہیں یا نہیں۔
پس اس بیانیے سے واضح ہوتا ہے رہبر معظم نے نہایت حکیمانہ اور مدبرانہ طرز سے مذاکرات کے لئے حامی بھری ہے، جو عوام کے نفع اور باہمی وحدت اور اتفاق کا بے نظیر نمونہ ہے۔









آپ کا تبصرہ