حضرت قاسمؑ کا تصورِ سعادت اور آج کا ڈیجیٹل جوان!

حوزہ/ہر دور کا نوجوان سعادت، خوشی اور کامیابی کی تلاش میں رہتا ہے۔ البتہ ہر زمانے میں خوشی کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔ آج کا نوجوان ڈیجیٹل دنیا میں زندگی گزار رہا ہے؛ اس کی تفریح سوشل میڈیا میں، اس کی معلومات انٹرنیٹ میں، اس کے تعلقات چیٹ ایپلی کیشنز میں اور اس کے بہت سے فیصلے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تشکیل پا رہے ہیں۔

تحریر: ثمن رباب رضوی جامعہ المصطفیٰ کراچی

حوزہ نیوز ایجنسی|

تمہید

ہر دور کا نوجوان سعادت، خوشی اور کامیابی کی تلاش میں رہتا ہے۔ البتہ ہر زمانے میں خوشی کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔ آج کا نوجوان ڈیجیٹل دنیا میں زندگی گزار رہا ہے۔ اس کی تفریح سوشل میڈیا میں، اس کی معلومات انٹرنیٹ میں، اس کے تعلقات چیٹ ایپلی کیشنز میں اور اس کے بہت سے فیصلے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تشکیل پا رہے ہیں۔

ایسے ماحول میں جب وہ قرآن میں جنت کے باغات، نہروں اور پھلوں کا ذکر پڑھتا ہے تو بعض اوقات اس کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے:

"مجھے تو پیزا، برگر، چائنیز اور اطالوی کھانے پسند ہیں، جنت میں صرف پھل ہی کیوں بیان ہوئے ہیں؟"

"مجھے Wi-Fi کے بغیر بے چینی ہوتی ہے، جنت میں انٹرنیٹ ہوگا یا نہیں؟"

"اگر روبوٹ، AI اور جدید ٹیکنالوجی نہ ہوئی تو کیا جنت بورنگ نہیں ہوگی؟"

یہ سوالات دراصل جنت کے بارے میں نہیں، بلکہ انسان کی اپنی محدود سوچ کے بارے میں ہیں۔ ہم جنت کو دنیا کے پیمانوں سے ناپنے لگتے ہیں، جبکہ قرآن جنت کو ایک ایسی حقیقت قرار دیتا ہے جو انسانی تصور سے بھی بلند ہے۔

جنت: ہماری سوچ سے بلند ایک حقیقت

قرآن فرماتا ہے:﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ "کوئی جان نہیں جانتی کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان چھپا کر رکھا گیا ہے۔"(سورۂ سجدہ: 17)

امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ جنت کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جن کا انسان اس دنیا میں مکمل تصور بھی نہیں کر سکتا۔

لہٰذا یہ سوال کہ "جنت میں Wi-Fi ہوگا یا نہیں؟" حقیقت میں ایسا ہی ہے جیسے ایک بچہ پوچھے:"اگر یونیورسٹی میں میرے کھلونے نہیں ہوں گے تو میں وہاں خوش کیسے رہوں گا؟"

بچہ یونیورسٹی کی حقیقت نہیں سمجھتا، اسی طرح ہم بھی جنت کی حقیقت کو اپنی دنیاوی دلچسپیوں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پھل یا فاسٹ فوڈ؟

آج کا نوجوان اکثر قدرتی غذا سے زیادہ فاسٹ فوڈ کو پسند کرتا ہے۔

برگر، پیزا، فرائیڈ چکن، چائنیز اور اطالوی کھانے اس کی پسندیدہ غذائیں بن چکی ہیں۔

جبکہ قرآن جنت کے پھلوں کا ذکر کرتا ہے:﴿وَفَاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ﴾"اور ایسے پھل جو وہ پسند کریں گے۔"(الواقعہ: 20)

یہاں اصل نکتہ پھل نہیں بلکہ لذت ہے۔

قرآن جنت کی نعمتوں کو محدود نہیں کرتا بلکہ اصول بیان کرتا ہے: ﴿وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ﴾ "تمہارے لیے وہاں وہ سب کچھ ہوگا جو تمہارے دل چاہیں گے۔"(فصلت: 31)

یعنی جنت کی نعمتیں انسانی خواہشات کی تکمیل کا اعلیٰ ترین نمونہ ہیں، لیکن ان کی حقیقت دنیاوی اشیاء سے کہیں بلند تر ہے۔

AI، روبوٹ اور انسانی شعور

جدید انسان روز بروز مشینوں پر زیادہ انحصار کرتا جا رہا ہے۔

کیلکولیٹر حساب کرتا ہے۔

GPS راستہ بتاتا ہے۔

AI مضامین لکھتی ہے۔

روبوٹس کارخانے چلاتے ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان خود سوچنے کے بجائے مشینوں سے سوچنے لگا ہے۔

لیکن اسلام انسان کو صرف سہولت کا طالب نہیں بناتا، بلکہ معرفت کا طالب بناتا ہے۔

امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں: "قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُهُ" "ہر انسان کی قدر اس چیز سے ہے جسے وہ اچھی طرح جانتا ہے۔"(نہج البلاغہ)

اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان کا کمال صرف آسائشوں میں نہیں بلکہ شعور، معرفت اور قربِ خدا میں ہے۔

Wi-Fi اور روح کی پیاس

آج بعض نوجوان چند گھنٹے انٹرنیٹ بند ہونے پر بے چین ہو جاتے ہیں۔

مگر کیا واقعی Wi-Fi سکون فراہم کرتا ہے؟

اگر انٹرنیٹ سکون کا ذریعہ ہوتا تو دنیا کے سب سے زیادہ Connected معاشرے سب سے زیادہ مطمئن ہوتے۔

قرآن سکون کا ایک مختلف راستہ دکھاتا ہے:﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ آگاہ رہو! دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر سے ہے۔(الرعد: 28)

یہ آیت بتاتی ہے کہ انسان کی اصل ضرورت صرف معلومات نہیں بلکہ اطمینانِ قلب ہے اور یہ اطمینان روحانی تعلق سے حاصل ہوتا ہے۔

کربلا کے زائرین: جنت کی ایک جھلک

اگر کوئی پوچھے کہ روحانی لذت کیا ہوتی ہے تو کربلا کے زائرین اس کی بہترین مثال ہیں۔

اربعین میں لاکھوں افراد طویل فاصلے پیدل طے کرتے ہیں۔

گرمی برداشت کرتے ہیں۔

تھکن اٹھاتے ہیں۔

پاؤں زخمی ہو جاتے ہیں۔

لیکن حرمِ امام حسینؑ پہنچ کر ان کے چہروں پر جو سکون اور خوشی نظر آتی ہے وہ مادی آسائشوں سے حاصل نہیں ہوتی۔

یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ انسان صرف جسم نہیں بلکہ روح بھی ہے، اور روح کی خوشی بعض اوقات جسمانی تھکن پر غالب آ جاتی ہے۔

حضرت قاسمؑ کا تصورِ سعادت

کربلا میں نوجوانوں کا سب سے روشن نمونہ حضرت قاسم بن الحسنؑ ہیں۔

شبِ عاشور امام حسینؑ نے فرمایا کہ کل شہادت کا دن ہے۔

حضرت قاسمؑ نے سوال کیا: "أَوَأَنَا فِي مَنْ يُقْتَلُ؟"

"کیا میں بھی شہید ہونے والوں میں شامل ہوں گا؟"

امامؑ نے فرمایا:"كَيْفَ الْمَوْتُ عِنْدَكَ؟"

"بیٹے! تمہارے نزدیک موت کیسی ہے؟"

حضرت قاسمؑ نے جواب دیا:"أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ "شہد سے زیادہ شیریں۔"(بحار الأنوار، ج 44)

یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ سعادت کا ایک مکمل نظریہ ہے۔

آج کا نوجوان خوشی کو زیادہ رفتار، زیادہ سہولت، زیادہ تفریح اور زیادہ آسائش میں تلاش کرتا ہے۔

لیکن حضرت قاسمؑ خوشی کو رضائے خدا، نصرتِ امامِ وقتؑ اور قربِ الٰہی میں تلاش کرتے ہیں۔

یہی فرق ڈیجیٹل نوجوان اور قاسمی نوجوان کے درمیان بنیادی فرق ہے۔

جنت: حضرت قاسمؑ کی نگاہ سے

حضرت قاسمؑ نے موت کو اس لیے شہد سے زیادہ شیریں کہا کیونکہ ان کی نگاہ دنیا کے پار تھی۔

وہ جانتے تھے کہ حق کے راستے میں قربانی دائمی سعادت کا راستہ ہے۔

قرآن فرماتا ہے:﴿وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾"اور اللہ کی رضا ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔"(التوبہ: 72)

یہ آیت دراصل حضرت قاسمؑ کے جواب کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔

جنت کی سب سے بڑی نعمت نہ محلات ہیں، نہ باغات، نہ نہریں؛ بلکہ رضائے الٰہی ہے۔

نتیجہ

ڈیجیٹل دور کے نوجوان کو جنت اس وقت بورنگ محسوس ہوتی ہے جب وہ اسے صرف دنیاوی پیمانوں سے دیکھتا ہے۔

لیکن حضرت قاسمؑ ہمیں سکھاتے ہیں کہ حقیقی سعادت مادی آسائشوں سے بلند ایک حقیقت ہے۔

Wi-Fi ختم ہو سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی پرانی ہو سکتی ہے۔

روبوٹس بدل سکتے ہیں۔

AI کے ماڈلز تبدیل ہو سکتے ہیں۔

لیکن قربِ خدا، محبتِ اہل بیتؑ، رضائے الٰہی اور روحانی سکون ایسی نعمتیں ہیں جو کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔

جنت دراصل اسی ابدی سعادت کا نام ہے، اور حضرت قاسمؑ کا "أحلى من العسل" ہمیں اسی جنت اور اسی حقیقی خوشی کا راستہ دکھاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha