حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ المصطفی العالمیہ نے مصر کی یونیورسٹی جامعہ الازہر کے حالیہ موقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ الازہر سے توقع ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری صحیح طریقے سے ادا کرے اور میڈیا کے ماحول اور سیاستدانوں کی چالوں سے متاثر ہونے کے بجائے قرآن و سنت کو معیار بنائے۔
جامعۃ المصطفی کے بیان میں پانچ اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی:
پہلا – دفاع مشروع: ایران نے اپنی تاریخ میں کبھی جنگ شروع نہیں کی۔ حالیہ فوجی کارروائیاں ان حملوں کے خلاف ایک قانونی دفاعی ردعمل تھیں جو متحدہ عرب امارات جیسے ہمسایہ ممالک کی سرزمین سے ایران کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کی گئیں۔
دوسرا – شرعی حکم: اسلامی ملک کے خلاف استکبار کی مدد کرنا شرعی طور پر "بغی" ہے۔ امارات کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں شرکت اور سہولت فراہم کرنا قطعاً حرام ہے۔
تیسرا – عقلانیت: ایران نے بارہ روزہ جنگ اور حالیہ چالیس روزہ جنگ میں کبھی بھی عقلانیت، سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ نہیں چھوڑا۔
چوتھا – علماء کی ذمہ داری: الازہر کو چاہیے کہ وہ میڈیا اور مغرب کے تابع سیاستدانوں کی چالوں سے بچتے ہوئے صرف علمی اور دینی دلائل پر انحصار کرے۔
پانچواں – جنگی اخلاقیات: ایران نے صہیونی حکومت کے برعکس، جوابی کارروائیوں میں مکمل اسلامی اخلاقیات کا خیال رکھتے ہوئے عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا۔
آخر میں جامعۃ المصطفی نے تمام اسلامی ممالک سے امریکی-صہیونی دشمن کے خلاف اتحاد کی اپیل کی ہے۔









آپ کا تبصرہ