بدھ 1 اپریل 2026 - 18:49
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کی جانب سے جامعۃ الازہر کے موقف پر تشویش، وحدت امت اور حق کے واضح دفاع کا مطالبہ

حوزہ/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے جامعۃ الازہر کے حالیہ بیان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حساس حالات میں امت مسلمہ ایک عظیم امتحان سے گزر رہی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے جامعۃ الازہر کے حالیہ بیان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حساس حالات میں امت مسلمہ ایک عظیم امتحان سے گزر رہی ہے اور اس موقع پر دینی اداروں کو واضح، جرات مندانہ اور حق پر مبنی موقف اختیار کرنا چاہیے۔ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے جامعۃ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد محمد الطیب کے نام ایک مکتوب میں کہا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلیْمٌ "اور اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ سننے والا، جاننے والا ہے" (سورہ بقرہ: 244)

صہیونی و امریکی جارحیت کے مقابلے میں ایران کے دفاع کو ہدفِ تنقید بنانا باعثِ افسوس ہے جبکہ امت مسلمہ اس تاریخی دینی ادارے سے حق کے واضح اور مضبوط دفاع کی توقع رکھتی ہے۔

اس بیان میں کہا گیا کہ جامعۃ الازہر ہمیشہ سے اعتدال پسند اسلامی فکر کی ترویج اور امت کے مسائل کے دفاع کا مرکز رہا ہے اور اس کے علماء نے تاریخ میں امت کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ الازہر کی بنیاد 972ء میں رکھی گئی اور اس کا نام حضرت فاطمہ الزہراء علیہا السلام سے منسوب ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف علمی مرکز بلکہ اسلامی شناخت اور دفاع کا قلعہ بھی رہا ہے۔

اس مکتوب میں شیخ محمود شلتوت کا بھی ذکر کیا گیا جنہوں نے 1946ء میں مذاہب کے درمیان قربت کے لیے دارالتقریب کی بنیاد رکھی اور 1959ء میں فقہ جعفری کو ایک معتبر اسلامی مذہب کے طور پر تسلیم کیا۔

وفاق المدارس نے اپنے نکات میں کہا:

اول: قرآن مجید نے مومنین کے باہمی ولایت اور اتحاد کو لازم قرار دیا ہے اور دشمنان اسلام سے دوستی سے منع کیا ہے۔ موجودہ حالات میں صہیونی جارحیت کے مقابلے میں ایران کا ردعمل دفاعی نوعیت کا ہے، نہ کہ جارحانہ۔

دوم: الازہر کے بیان میں ایران میں بے گناہ مسلمانوں کے قتل اور مسلسل جارحیت کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ افسوس کے ساتھ ایران کے دفاعی اقدامات کی مذمت کی گئی۔

سوم: ایران پر حملے اور اس کے خلاف کارروائیاں دراصل اس کے فلسطینی کاز کی حمایت کی وجہ سے ہیں۔ ایران کا مقاومتی مؤقف محض سیاسی نہیں بلکہ دینی اور ایمانی فریضہ ہے۔

چہارم: یہ سوال اٹھایا گیا کہ ایک عظیم دینی ادارہ جارح کی مذمت کے بجائے مدافع کو کیوں ہدف بناتا ہے جو اس کے درخشاں تاریخی کردار کے خلاف ہے۔

وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے اس بیان کے آخر میں جامعۃ الازہر سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر امت کے مسائل خصوصاً ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے حوالے سے اپنا شرعی اور تاریخی کردار ادا کرے، امت کی وحدت کو فروغ دے اور فرقہ واریت کے خاتمے میں قائدانہ کردار ادا کرے۔ وامرنا اللہ سبحانہ و تعالیٰ بالجھاد والقتال فی سبیلہ ۔کمال قال اللہ تعالیٰ’’وَ قَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَکُم وَ لَا تَعتَدُوا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ المُعتَدِینَ ‘‘ (سورہ البقرۃ آیت 190)

آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ حق کے راستے میں رہنمائی فرمائے اور امت مسلمہ کو اتحاد و یکجہتی عطا کرے۔ قال اللہ سبحانہ و تعالیٰ ’’ ُ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِیْقِیٓ اِلَّا بِاللّٰہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ ‘‘( سورہ ھود: آیت 88)

والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ

الحافظ سید ریاض حسین النجفی

بانی حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور پاکستان

سرپرست وفاق المدارس الشیعہ پاکستان

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha