حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو بلتستان پاکستان میں نائب امام جمعہ علامہ شیخ محمد جواد حافظی نے نمازِ جمعہ کے خطبوں میں عالمِ کفر کے مقابلے میں جمہوریہ اسلامی ایران کی استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہادت مؤمن کے لیے نقصان نہیں، بلکہ باعثِ فخر ہے، کیونکہ مؤمن ہمیشہ شہادت کی تمنا رکھتا ہے اور نظریہ ہی دراصل کامیاب ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی نظام کے تحفظ کے لیے قربانی دینا عظیم اعزاز ہے اور آج ایران اسلامی نے اپنے استقامت بھرے کردار سے عالمی طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔
نائب امام جمعہ سکردو نے کہا کہ جو قوتیں خود کو سپر پاور کہتی تھیں آج وہ امن کی بھیک مانگتی نظر آرہی ہیں، جبکہ ایران نے عالمِ کفر کو ذلیل و رسوا کر دیا ہے۔
علامہ شیخ جواد حافظی نے تاریخی تناظر میں واقعہ کربلا کا حوالہ دیا اور کہا کہ جس طرح حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبے کے بعد یزید کو اپنی شکست تسلیم کرنا پڑی، آج بھی عالمی قوتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا کر اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات اس شکست کا واضح ثبوت ہیں۔
شیخ جواد حافظی نے کہا کہ رہبرِ معظم شہید کے افکار کے مطابق باطل قوتوں کا انجام نمرود، شداد اور فرعون جیسا ہوگا اور آج کے حالات اسی حقیقت کی عکاسی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی حکمت عملی نے نیو ورلڈ آرڈر کے غرور کو غرق کر دیا ہے اور یہ اسلام کی فتح اور مظلومینِ غزہ و ایران کے خون کی تاثیر کا نتیجہ ہے۔
امام جمعہ سکردو نے کہا کہ اگرچہ رہبرِ معظم کی شہادت ایک بڑا نقصان ہے، تاہم اس کے نتیجے میں عالمِ اسلام میں اتحاد پیدا ہوا ہے اور پاکستان سمیت تمام مکاتبِ فکر ایرانِ اسلامی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے اس جدوجہد کو اسلام اور کفر کے درمیان فیصلہ کن معرکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس راہ میں ہر قربانی دی جا سکتی ہے۔
علامہ جواد حافظی نے ایرانی عوام خصوصاً ماؤں کے جذبۂ قربانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظام کے تحفظ کے لیے مائیں اپنے بیٹے قربان کر رہی ہیں اور صبر و استقامت کی اعلیٰ مثالیں قائم کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ جذبۂ شہادت اور اخلاص اسلامی نظام کی اصل طاقت ہے۔
علامہ شیخ جواد حافظی نے بلتستان کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ براہِ راست میدانِ جنگ میں شریک نہیں ہو سکتے، تاہم جہادِ اموال کے ذریعے عالمی استعمار کو مؤثر جواب دے سکتے ہیں۔
انہوں نے انجمنِ امامیہ بلتستان کی جانب سے جاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوام اپنی استطاعت کے مطابق مالی تعاون، زمین، دکان یا دیگر وسائل پیش کریں۔
شیخ محمد جواد حافظی نے مقامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے صدرِ انجمنِ امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی کے اس مؤقف کی مکمل حمایت کی کہ چھوٹے ملازمین کو نشانہ بنا کر اصل ذمہ داران کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ شفاف تحقیقات کے ذریعے اصل مجرموں کو بے نقاب کیا جائے جبکہ اختیار نہ رکھنے والے ملازمین کے ساتھ نرمی برتی جائے۔
امام جمعہ سکردو نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر اس قدر بوجھ ڈالنا ناقابلِ برداشت ہے۔
انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دے کر تیل و گیس سستے داموں حاصل کیے جائیں اور امریکی دباؤ سے نکل کر قومی مفاد میں فیصلے کیے جائیں۔









آپ کا تبصرہ