حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ جاری فوجی کارروائیوں کے سلسلے میں “وعدہ صادق 4” کے 98ویں مرحلے کے تحت مختلف خطوں میں امریکہ اور اسرائیل سے منسلک اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سپاہ کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق، اس آپریشن کا آغاز “یا سید الساجدینؑ” کے مقدس نعرے کے ساتھ کیا گیا، جسے ملک کی باہمت خواتین کے نام منسوب کیا گیا۔ اس کارروائی میں کویت میں واقع “العدیری” فوجی اڈے کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جہاں امریکی فوج کے ہیلی کاپٹروں اور اہلکاروں کے قیام کی جگہوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بغداد میں امریکی “ویکٹوریا بیس” کے کمانڈ اور کنٹرول مراکز کو بھی عراقی مزاحمتی گروہوں نے کامیاب حملوں میں نشانہ بنایا، جبکہ شمالی عراق میں دہشت گرد گروہوں کے پانچ ٹھکانوں کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ڈرون حملوں سے تباہ کیا گیا۔
سپاہ کے مطابق، خلیج فارس میں بحری محاذ پر بھی کارروائیاں جاری رہیں، جہاں ایک اسرائیلی کنٹینر جہاز “SDN7” کو کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
اسی طرح اسرائیل کے مختلف علاقوں میں بھی میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں۔ تل ابیب کے شمال و جنوب، حیفا کے اسٹریٹجک مراکز، بئر السبع میں کیمیائی کارخانے اور “بتاح تکفا” میں فوجی تنصیبات کو ایرانی بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی بحریہ کے ایک بڑے ہیلی کاپٹر بردار جنگی جہاز LHA-7 کو بھی ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ پسپائی اختیار کرتے ہوئے بحر ہند کے جنوبی علاقوں کی جانب منتقل ہو گیا۔
مزید برآں، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مشترکہ ڈرون پروڈکشن مرکز اور کویت کے “علی السالم” اڈے پر موجود کچھ طیاروں کو بھی میزائل اور ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
سپاہ نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں خطے میں موجود دیگر مزاحمتی گروہوں کے تعاون سے جاری ہیں اور دشمن کے خلاف مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
دوسری جانب، سپاہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ کرمانشاہ کی فضاؤں میں ایک غیر ملکی ڈرون (اوربیٹر 4) کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا ہے۔
بیان کے مطابق، آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں تمام نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق، ان مسلسل حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور صورتحال تیزی سے پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔









آپ کا تبصرہ