حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں درخت کاری کی تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ایران کے چیف جسٹس حجت الاسلام والمسلمین غلامحسین محسنی اژہ ای نے رہبرِ شہید انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای قدس سرہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ درخت کاری اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر ان کی مسلسل تاکید ایک قیمتی قومی و دینی میراث ہے، جسے زندہ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ رہبر معظم حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق امسال بھی پودا لگانے کی اس نیک روایت کو آگے بڑھایا جا رہا ہے، اور ضروری ہے کہ یہ عمل صرف ایک موسمی مہم نہ رہے بلکہ پورے سال اور ہر سطح پر ایک عوامی و قومی ثقافت کے طور پر جاری رہے۔
محسنی اژہ ای نے کہا کہ ایرانی قوم صدیوں سے فطرت، ماحولیات اور درختوں سے خاص وابستگی رکھتی آئی ہے۔ ان کے بقول ایران نے اس وقت بھی ایک سرسبز اور فطرت دوست تہذیب کی بنیاد رکھی تھی جب دنیا کے بہت سے موجودہ ممالک وجود ہی نہیں رکھتے تھے، اور اسلامی تعلیمات نے اس تہذیبی شعور کو مزید مضبوط کیا۔
چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں امریکہ پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام ایران اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی باتیں کرتے ہیں، لیکن انہیں جان لینا چاہیے کہ ایران ایک قدیم تہذیب کا گہوارہ ہے، تہذیب یافتہ اور مضبوط قوم ہے، جس کی تاریخی عظمت اور پائیداری کا ایک مظہر اس سرزمین کے صدیوں پرانے درخت بھی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ درخت کاری ایک ایسا نیک عمل ہے جس کے ثمرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ان کے مطابق ہر پودا امید، تعمیر اور روشن مستقبل کی علامت ہے
محسنی اژہ ای نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ایرانی قوم ہر دباؤ اور دھمکی کے باوجود اپنی سرزمین کو مزید آباد، سرسبز اور مضبوط بنائے گی، اور خدا کے فضل سے ظالم و متکبر طاقتوں پر کامیاب ہوگی۔









آپ کا تبصرہ