حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے معروف اہل سنت عالم دین مفتی مکرم قادری نے کراچی میں رہبر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی یاد میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رہبر معظم شہید سید علی خامنہ ای نے ایسی قوم کی تربیت کی تھی جو طویل عرصے سے امریکہ کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہی تھی۔ یہ جو آج ایران میں میزائلوں کے زیر زمین شہر آباد نظر آ رہے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے امریکہ کو سبق سکھانے کی تیاری عرصے سے جاری تھی۔ آج رہبر شہید ہو گئے لیکن ان کے فرزند سید مجتبی خامنہ ای نے اب یہ علم تھام لیا ہے، یہ پوری امت کے رہبر ہیں۔
مفتی مکرم قادری نے کہا کہ اج اس جنگ میں جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ ہم ایمان کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم اسلام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر فرقہ واریت کو ہوا دینے والے عناصر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج سوشل میڈیا پر بدبخت فرقہ پرست عناصر سرگرم ہیں جو ایران کے خلاف مسلسل مسلکی پروپیگنڈہ کر رہے ہیں جو مسلکی منافرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں جو اپنے عمل سے امریکہ اور اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں۔۔۔ حالانکہ حقیقت میں دیکھا جائے تو شیعہ سنی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے یہ س اور ش کی طرح ساتھ ہیں۔
مفتی مکرم قادری نے کہا کہ امام بخاری شیعہ راویوں سے روایت لیتے ہیں، یعنی امام بخاری کے نزدیک شیعہ اہل ایمان میں سے ہیں، جب امام بخاری شیعوں کو ایمان والے سمجھتے ہیں تو آج کے فرقہ پرست لوگوں کی کیا حیثیت ہے۔
مفتی مکرم قادری نے فرقہ پرستوں کو اہل سنت علم کلام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے اہل سنت علم کلام کے دو اہم۔ائمہ گزرے ہیں؛ ابو منصور ماتریدی اور ابو الحسن اشعری، لہذا اہل سنت کلامی اور اصولی اعتبار سے یا ماتریدی ہیں یا اشعری۔ ان دونوں ائمہ نے ایمان اور اسلام کے لیے جن عقائد کو گنا ہے ان میں ایمان باللہ، ایمان بالرسول، ایمان بالآخرہ، ایمان بالملائکہ، ایمان بالخیر و الشر من اللہ، ان تمام پر اہل تشیع بھی مکمل ایمان رکھتے ہیں ۔
مفتی مکرم قادری نے کانفرنس کے شرکاء سے ان تمام ایمانی اصولوں سے متعلق سوال کیا اور جواب دریافت کرنے کے بعد کہا کہ اسلام اور ایمان کے دائرے میں شمولیت کے لیے ائمہ نے جن اعتقادات کو ضروری قرار دیا ہے ان سب پر شیعہ بھی مکمل ایمان رکھتے ہیں لہذا فرقہ پرستوں کے پاس فرقہ واریت پھیلانے کا کوئی بہانہ نہیں بچتا۔
مفتی مکرم قادری نے اتحاد وحدت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جب اللہ اپنے محبوب کو قرآن میں حکم دیتا ہے کہ اے حبیب آپ اہل کتاب کو مشترکہ کلمہ یعنی توحید اور شرک سے دوری پر مل بیٹھنے کی دعوت دیں تو ہم مختلف مسالک میں ہونے کے باوجود کیوں مشترکات پر مل کر بیٹھ نہیں سکتے؟! انہوں نے کہا کہ در اصل تفرقے کی یہ آگ فرقہ پرستوں نے اپنے مفادات کے لیے لگائی ہوئی ہے۔ آج ہمیں ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے جو در اصل ایمان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔









آپ کا تبصرہ