تحریر: محمد جواد پاروی
حوزہ نیوز ایجنسی| عالمی سیاست میں حالیہ کشیدگی کے غیر متوقع اثرات اس حقیقت کو عیاں کر رہے ہیں کہ طاقت کا وہ یک طرفہ تصور، جو مدتوں سے رائج تھا، اب بدل رہا ہے۔ ایران کی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی نے خطے میں روایتی طاقت کے توازن کو للکارا ہے۔ اسی تناظر میں، امریکی بیانات کی شدت اور ان کے بدلتے لہجے میں وہ اضطراب صاف محسوس کیا جا سکتا ہے جو کسی پیچیدہ اور غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنے پر طاری ہوتا ہے۔
یہ امر قابلِ غور ہے کہ ایران، شدید اقتصادی پابندیوں، سماجی دباؤ اور بلند افراطِ زر کے باوجود، داخلی انتشار سے مکمل طور پر محفوظ رہا ہے۔ اس کے برعکس، دنیا کے کئی دیگر ممالک میں نسبتاً کم دباؤ کے باوجود بڑی سیاسی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ اس پس منظر نے خطے میں ایک نئی صورتِ حال کو جنم دیا ہے، جہاں مزاحمتی گروہوں، علاقائی اتحادوں اور خود مختاری پر مبنی بیانیہ زیادہ نمایاں ہو رہا ہے۔
عالمی استعماری خواہش کے برخلاف بنتے اس بیانیے اور ایران کی استقامت کے باعث، امریکہ کے موقف میں بار بار تبدیلی، دھمکی کی شدت اور اس کے نتائج میں واضح تضاد نظر آتا ہے۔ اسی غیر متوقع صورتحال سے بوکھلا کر، ایران کو "عصرِ حجر" (پتھر کے دور) میں بھیجنے کی دھمکی دی گئی۔ یہ محض ایک معمولی دباؤ نہیں، بلکہ ایک ایسی جامع اور فیصلہ کن دھمکی ہے جو کسی ملک کے جدید بنیادی ڈھانچے، توانائی کے نظام، صنعتی صلاحیت اور معاشرتی ترقی کو نشانہ بنانے کے تصور سے جڑی ہے۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جس میں وحشت اور بربریت کی جھلک ملتی ہے، جہاں محض طاقت کی نمائش کی جاتی ہے اور کمزور، مگر آزاد ملک کو تہذیبی طور پر تباہ کرنے کی رچی بسی عادت نظر آتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکہ نے کسی ملک کو اتنی شدید دھمکی دی ہو، البتہ ڈونلڈ ٹرمپ وہ پہلے امریکی صدر ہیں جنھوں نے عالمی سطح پر کھلے عام ایسے الفاظ استعمال کیے۔ ماضی میں بھی ایسی زبان عالمی سیاست میں استعمال ہوتی رہی ہے، جیسا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کو دی جانے والی دھمکی، جس کا ذکر سابق صدر پرویز مشرف نے اپنی کتاب In the Line of Fire میں کیا ہے کہ اگر پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تعاون نہ کیا تو اسے "عصر حجر" پتھر کے دور میں بھیج دیا جائے گا۔
تاہم، اب "سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی روایت" دم توڑ چکی ہے۔ آج، "عصرِ حجر" کی دھمکی کے تناظر میں، امریکہ پہلی بار ایسے حریف کا سامنا کر رہا ہے جو نہ صرف اس کی پالیسیوں کو چیلنج کرتا ہے، بلکہ کئی خطوں میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود بھی کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے، طاقت کے استعمال کی سابقہ حکمتِ عملی پہلے جیسی مؤثر نہیں رہی، اور علاقائی سیاست میں نئے کردار اور نئے محور ابھر رہے ہیں۔ امریکہ آج اپنی غرور کی دیوار گرتی دیکھ رہا ہے۔ وہ امریکہ جسے جھکے سروں کی عادت تھی، اب بلند آوازوں سے ٹکرانے پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ جہاں مغرب کی ہیبت اور استعمار کے رعب کے سامنے بولتی بند ہوتی تھی، وہاں انقلابِ ایران نے نہ صرف خود آواز بلند کی، بلکہ دوسروں کو بھی بولنے کا ہنر سکھایا۔ حزب اللہ، انصار اللہ اور حشد الشعبی جیسے گروہوں کا ابھرتا ہوا سیاسی و عسکری کردار اسی بدلتی حقیقت کی واضح مثالیں ہیں۔
عالمی منظر نامے میں بھی یہ تصور ابھر رہا ہے کہ نئے اتحاد، علاقائی طاقتیں اور خود مختاری پر مبنی پالیسیاں روایتی عالمی نظام کو تبدیل کر رہی ہیں۔ ایسے تاریخ ساز مرحلے پر، مسلم ممالک کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی تاریخ، موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں۔ دست نگر بنے رہنے کی بجائے، خود انحصاری، باہمی تعاون، معاشی استحکام اور اجتماعی خود مختار پالیسی ہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی قوم یا خطے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ قوموں کی استقامت ان کے عزم، اتحاد اور اپنی شناخت کے دفاع پر منحصر ہوتی ہے۔ اقوام محض دباؤ یا دھمکی سے نہیں ٹوٹتیں؛ بلکہ عزم، استقامت اور بہتر حکمتِ عملی انہیں نئے راستے دکھا سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال نہ صرف ایک آزمائش ہے، بلکہ ایک موقع اور فرصت بھی ہے کہ خطے کے ممالک اپنے اجتماعی مفاد اور پائیدار امن کے لیے بہتر قومی فیصلے کریں اور مستقبل کی سمت خود متعین کریں۔ اگر اس فرصت اور موقع کو غنیمت سمجھ کر عرب و عجم کے مسلمان، اسلامی اخوت، بھائی چارگی، ایثار، فداکاری اور ہمت و جرأت کا مظاہرہ کریں تو بعید نہیں کہ "عصرِ حجر" کی یہ دھمکی "امیدِ فجر" کا سبب بنے اور اسلام و مسلمین کی عظمتِ رفتہ کی بحالی ہو۔۔۔









آپ کا تبصرہ