جمعرات 9 اپریل 2026 - 13:14
جنگ بندی معاہدہ: وقتی مہلت یا اسٹریٹجک فتح؟

حوزہ/جنگوں کی دنیا میں وقفے اکثر امن کے دروازے نہیں کھولتے، بلکہ فریقین کو اپنے زخموں پر مرہم رکھنے اور اپنی حکمتِ عملی نئے سرے سے ترتیب دینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ فریقین کے ماضی کو دیکھتے ہوئے موجودہ جنگ بندی بھی بظاہر اسی زمرے میں آتی ہے۔ پائیدار اور دیرپا معاہدے کے بغیر ایک نازک سانس اور ایک عارضی ٹھہراؤ۔ اس وقفے کی پائیداری اس وقت تک مشکوک رہے گی جب تک قابلِ اعتماد، مضبوط اور ہمہ گیر سمجھوتہ سامنے نہیں آتا۔

تحریر: جواد پاروی

حوزہ نیوز ایجنسی| جنگوں کی دنیا میں وقفے اکثر امن کے دروازے نہیں کھولتے، بلکہ فریقین کو اپنے زخموں پر مرہم رکھنے اور اپنی حکمتِ عملی نئے سرے سے ترتیب دینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ فریقین کے ماضی کو دیکھتے ہوئے موجودہ جنگ بندی بھی بظاہر اسی زمرے میں آتی ہے۔ پائیدار اور دیرپا معاہدے کے بغیر ایک نازک سانس اور ایک عارضی ٹھہراؤ۔ اس وقفے کی پائیداری اس وقت تک مشکوک رہے گی جب تک قابلِ اعتماد، مضبوط اور ہمہ گیر سمجھوتہ سامنے نہیں آتا، خصوصاً تب، جب فریق مخالف میں وہ ممالک شامل ہوں جن کا سابقہ، سفارتی بدعہدی، بی اعتمادی اور دھوکہ دہی سے عبارت رہی ہو۔

اس پس منظر میں قابلِ توجہ موڑ اُس وقت آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ابتدائی سخت گیر اور غیرعملی مطالبات سے آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے دکھائی دیے۔ نظام کی تبدیلی، یورینیم افزودگی کا کامل خاتمہ، اور ایران کی غیرمشروط تسلیم جیسے مطالبات اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، اور مذاکرات کا رخ ایران کے پیش کردہ فریم ورک کی جانب مڑ چکا ہے۔ یوں ایران کے دس نکات عملی طور پر مذاکرات کی بنیاد بن گئے ہیں جبکہ امریکہ کے پندرہ نکات پس منظر میں دھندلا گئے ہیں۔

اس جنگ بندی کا ایک نمایاں اور فیصلہ کن پہلو یہ ہے کہ ایران اپنی بنیادی ریڈ لائنز جیسے یورینیم افزودگی کا حق، دفاعی میزائل پروگرام، اور خطے میں اپنی حفاظتی حصار کی پالیسی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ مزید یہ کہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت پر محصول کے حق کو بھی محفوظ رکھا گیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایران کی بڑی اسٹریٹیجک فتح قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی کی ناکامی بھی اب زبان زد عام حقیقت بن چکی ہے۔ وہ پوزیشن جس سے امریکہ اپنی یکطرفہ شرائط مسلط کرنا چاہتا تھا، اب اس کے پاس باقی نہیں رہی۔ مذاکرات کی میز پر امریکہ دفاعی اور کمزور حیثیت میں ہے جبکہ ایران پراعتماد اور منظم حکمت عملی کے ساتھ گفتگو کا حصہ ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف سفارتی منظرنامے پر اثر انداز ہوئی ہے بلکہ اس سے نفسیاتی طور پر بھی فریقین کی پوزیشنز بھی بدل چکی ہیں۔

خطے کی سیاست بھی اسی تبدیلی کا عکس بن چکی ہے۔ ایران کو زیرِ اثر لانے کی کوشش اب ایک ایسی مہم میں بدل گئی ہے جو خود امریکہ کے لیے اضطراب اور پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ مذاکرات کے دوران حملے، دوبارہ سیزفائر، اور پھر مذاکرات کی جانب واپسی، ان تمام مراحل نے امریکی عزت و وقار اور عالمی ساکھ کو دھچکا پہنچایا ہے اور طاقت کے توازن کو ایران کی جانب جھکا دیا ہے۔ تنگہ ہرمز کی صورتحال میں مغربی بلاک کا محتاط طرز عمل بھی اسی بدلتی حقیقت کا اظہار ہے۔

اگرچہ ایران روایتی معنوں میں کوئی فیصلہ کن فوجی کامیابی حاصل نہیں کر سکا، مگر وہ عالمی رائے عامہ کے سامنے امریکی برتری کے تصور کو چیلنج کرنے میں ضرور کامیاب ہوا ہے۔ اس نے اپنی سیاسی، نظریاتی اور اسٹریٹیجک قوت کو برقرار رکھا، اپنی قومی خودداری اور ملکی خودمختاری پر آنچ آنے نہیں دیا اور اس سے کہیں زیادہ مضبوط موقف کے ساتھ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔

پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آنے والی یہ جنگ بندی اب کئی عوامل سے مشروط ہے: اسرائیل کے ممکنہ یکطرفہ اقدامات، امریکہ کی سابقہ روش کی تکرار، فریقین کا جنگ بندی پر عملی عملدرآمد، اور دونوں ممالک کے اندرونی سیاسی دباؤ یہ تمام عناصر اس معاہدے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

اصل فیصلہ بہرحال آنے والے دنوں کے واقعات کریں گے۔ اگر ماضی کی طرح وعدہ خلافی، مکاری یا جارحانہ حکمتِ عملی دہرائی گئی جیسے سیز فائر کے بعد لبنان اور ایرانی جزائر پر تازہ حملے جس کی وجہ سے 300 کے قریب معصوم لبنانی شہید ہوئے، تو خطہ ایک بار پھر کسی بڑے المیے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

بہت سے عالمی عسکری و سیاسی تجزیہ کار اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ یہ معاہدہ بلاشبہ تہران کے لیے ایک اسٹریٹیجک کامیابی ہے جس کے لئے ایرانی عوامی استقامت، ایرانی قیادت کی حکمت، دفاعی قوت کی جرات مندانہ کارکردگی اور سپاہ پاسداران کی بے مثال جرائت واقعاً خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha