بدھ 1 اپریل 2026 - 13:47
ٹارگٹ کلنگ کا تسلسل؛ ایپسٹن قبیلے کا فرعونی مزاج

حوزہ/تاریخِ انسانی وہ آئینہ ہے جس میں استکبار کے مدعیان اور علمبردار ہمیشہ اپنی شکست کا نقش پڑھتے رہے ہیں۔ خوفِ موسیٰ میں فرعون نے بنی اسرائیل کے ہر نوزائیدہ بچے کو قتل کروانا شروع کر دیا۔ مگر تدبیرِ الٰہی کچھ اور تھی؛ وہ خود اپنے ہی گھر میں پلنے والے موسیٰ کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوا۔ یہ الٰہی قدرت کا وہی کرشمہ ہے کہ ظالم اپنی نادان حکمتِ عملی اور طاقت کے زعم میں مبتلا رہتا ہے، مگر اس کا انجام عبرت ناک اور ترس ناک ہوتا ہے۔

تحریر: محمد جواد پاروی

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخِ انسانی وہ آئینہ ہے جس میں استکبار کے مدعیان اور علمبردار ہمیشہ اپنی شکست کا نقش پڑھتے رہے ہیں۔ خوفِ موسیٰ میں فرعون نے بنی اسرائیل کے ہر نوزائیدہ بچے کو قتل کروانا شروع کر دیا۔ مگر تدبیرِ الٰہی کچھ اور تھی؛ وہ خود اپنے ہی گھر میں پلنے والے موسیٰ کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوا۔ یہ الٰہی قدرت کا وہی کرشمہ ہے کہ ظالم اپنی نادان حکمتِ عملی اور طاقت کے زعم میں مبتلا رہتا ہے، مگر اس کا انجام عبرت ناک اور ترس ناک ہوتا ہے۔

صدرِ اسلام میں معاویہ نے منبرِ رسول سے امام علیؑ علیہ السلام پر سب و شتم کو معمول بنا کر اور ان کے اصحاب کو سرِ دار سے لٹکا کر گمان کیا کہ حکومت کی بنیادیں ہمیشہ کے لیے مضبوط ہو گئیں۔ یزید نے کربلا میں امام حسینؑ کے ذبحِ عظیم کو فتح سمجھ لیا، مگر تاریخ میں یہ استکباری مہریں نہ صرف اپنی اخلاقی منزل کھو بیٹھیں بلکہ اوراقِ تاریخ میں ننگ و عار کی علامت بن کر رہ گئیں۔

یہی فریبِ طاقت، عراق پر مسلط صدام کی اپنی حکومت کی وسعت کا سبب بنا۔ اس نے کردارِ یزید کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دو قدم آگے بڑھ کر اسلامِ ناب محمدیؐ کے علمبردار شہید صدر کو ان کی ہمشیرہ سمیت شہید کر دیا، تاکہ کوئی زینبی لہجہ اس کے محلِ حکومت کی بنیادیں ہلا نہ سکے۔ مگر الٰہی سنت نے اس کی تمام سعی کو بے ثمر کر دکھایا۔ کیونکہ ظلم و بربریت کی رات جتنی کالی ہوتی ہے، حق و انصاف کی صبح اتنی ہی روشن ہوتی ہے۔

آج وقت کا فرعون امریکہ و اسرائیل بھی اسی خوش گمانی میں مبتلا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ایران میں پلتے عصرِ حاضر کے "عمران کے بچوں" (رہبرِ شہید کے باوفا کمانڈر اور نظام کے مخلص لوگوں) کو یکے بعد دیگرے شہید کر کے نظام سے افراد کا فقدان پیدا کر دیا جائے تو انقلاب کی لہر تھم جائے گی۔ مگر شاید نادان دشمن تشیع کی تاریخ سے انجان ہے اور نظریۂ ولایت و امامت سے ابھی تک آشنا نہیں۔ طاقت کا نشہ نظامِ ولایت کی شناخت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اور یہی نشہ وقت کے ظالموں کو یہ باور کروانے میں ناکام رہا کہ نظامِ تشیع افراد کا مجموعہ نہیں، بلکہ مرکزیتِ ولایت و امامت سے مزین ہے۔ یہ نظام افراد محور نہیں، ولایت محور ہے۔ جس کا ہر قدم مکتبِ کربلا سے گزرتا ہے اور ہر شہید اپنے خون سے اس نظام کو جاوید کر دیتا ہے۔ یوں یہ شجرۂ طیبہ جتنا دبایا جاتا ہے، اتنا ہی بلند ہوتا ہے۔

عصرِ حاضر میں یہ حقیقت 7 اکتوبر 2023ء کے طوفان الاقصیٰ کے بعد مزید عیاں ہو گئی۔ اسرائیل نے حزب اللہ کے صف اول کے تمام کمانڈر شہید کر دیے۔ جون 2025ء کی بارہ روزہ ایران اسرائیل جنگ میں ایران کی پوری ملٹری قیادت سمیت بیس کے قریب اہم کمانڈر شہید ہوئے۔ اور جنگِ رمضان میں حالیہ امریکی جارحیت کے نتیجے میں ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ ولی امر مسلمین، سپریم لیڈر بھی جامِ شہادت نوش کر گئے۔

مگر یہ نظامِ انقلابِ اسلامی ایران آج بھی اپنے انقلابی آب و تاب کے ساتھ دنیا کے افق پر چمک رہا ہے۔ بلکہ اس انقلابی چراغ کے سامنے دنیا کی باقی روشنیاں دھندلی پڑتی جا رہی ہیں۔ شہید پرور قوم کو کوئی قوت شکست نہیں دے سکتی۔ شہید کا خون نہ صرف تاریخ کا رخ موڑتا ہے بلکہ الٰہی تدبیر کو نئی جہت عطا کرتا ہے۔

آج ایک طرف ایپسٹن قبیلے کا پورا خاندان اپنی طاقت کے نشے میں مست ہے، تو دوسری طرف ایک باایمان، غیرت مند اور باشعور قوم ہے جو کئی دہائیوں سے دنیوی محاصرے میں ہونے کے باوجود سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ظلم و بربریت کے اس مغربی بلاک کے بالمقابل کھڑی ہے۔

دشمن کے گفتار و کردار میں شکست کے آثار نمایاں ہیں۔ ہر روز بدلتے بیانات، سراسیمگی، ہر لمحہ کمک کی درخواست، ٹوٹتے الفاظ اور بکھرتے جملے، سب چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ فرعونیت اور یزیدیت کا یہ ٹولہ اتنی بہیمانہ قتل و غارتگری کے باوجود کل بھی نامراد تھا اور آج بھی نامراد ہے۔

یہ تاریخ، جو زمینی خدا کے مدعیوں کی سرگزشت اور برے انجام سے مزین ہے، آج امریکہ و اسرائیل کی فرعونیت اور بربریت کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔ یہ حکایتِ روزگار بتا رہی ہے کہ کس طرح قدرت کا قانون ظلم کے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے، باطل کے جلوؤں کو زمانے کی نگاہ میں رسوا کر کے رکھ دیتا ہے اور حق و صداقت کے پرچم کو سربلند رکھتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha