حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ دنوں اور ہفتوں میں میڈیا اور سوشل میڈیا کے دائرے میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے جیفری اپسٹین کا نام نہ سنا ہو یا اس بدعنوان امریکی سرمایہ دار اور اس کے جزیرے پر پیش آنے والے سانحے کے بارے میں کوئی خبر یا تحریر نہ پڑھی ہو۔
رہبر معظم انقلاب نے بھی چند روز قبل اس معاملے کے بارے میں کہا کہ "جزیرۂ بدنام کے واقعے میں حیران کن بدعنوانیوں کا آشکار ہونا مغربی تہذیب اور لبرل جمہوریت کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ مغربی سربراہوں کی بدعنوانیوں کے بارے میں جو کچھ ہم نے سنا تھا وہ ایک طرف اور اس جزیرے کا معاملہ ایک طرف ہے۔ یقیناً یہ ان کی بے شمار بدعنوانیوں میں سے صرف ایک نمونہ ہے اور جس طرح یہ معاملہ پہلے پوشیدہ تھا اور پھر ظاہر ہو گیا اسی طرح بہت سے دوسرے معاملات بھی بعد میں سامنے آئیں گے"۔
مغربی لبرل جمہوریت کا منحوس ثمرہ
معروف صحافی مرتضیٰ مفیدنژاد کے مطابق مغربی ذرائع ابلاغ اس کیس کے منظم اور بنیادی پہلو سے نظریں چرا کر اسے محض ایک افسوسناک واقعے تک محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صحافی نے کہا: اس کے باوجود اپسٹین کیس کے بارے میں بین السطور اور وسیع تناظر پر مبنی نظر کو محدود اور سطحی نظر کی جگہ لینی چاہیے۔ جیفری اپسٹین کے مقدمے کو محض ایک اخلاقی رسوائی یا فردی انحراف قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ دراصل مغربی لبرل جمہوریت کے اس ڈھانچے میں طاقت، دولت، بدعنوانی اور سیاسی مصونیت کے باہمی امتزاج کی ایک نہایت عیاں مثال ہے جو برسوں سے شفافیت، قانون کی بالادستی اور سیاسی اخلاقیات کے نعروں کے ساتھ خود کو عالمی نمونہ بنا کر پیش کرتا رہا ہے لیکن ایسے کیس کے سامنے یا تو بے بس دکھائی دیتا ہے یا ارادۂ عمل سے محروم نظر آتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: جیفری اپسٹین کوئی حاشیہ نشین کردار نہیں تھا بلکہ ایسا شخص تھا جسے امریکہ اور یورپ کی سیاسی، مالی اور میڈیا اشرافیہ تک وسیع رسائی حاصل تھی۔ اعلیٰ سطح کے سیاست دانوں، ارب پتی افراد، علمی شخصیات اور بااثر چہروں کی اس کے گرد موجودگی نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ طاقت کا ایک ایسا نیٹ ورک برسوں تک قانون کے محفوظ حصار میں سرگرم عمل رہا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اس بنیادی سوال کی جڑوں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ آخر اتنے برسوں تک اور اس قدر افراد کے ملوث ہونے کے باوجود یہ معاملہ کیسے دبایا گیا اور کسی انجام تک کیوں نہ پہنچ سکا۔
مفیدنژاد نے مزید کہا: ایک اہم اور بنیادی حقیقت یہ ہے کہ برسوں تک جب کچھ لوگ مغربی تہذیب کے زوال پزیر ہونے کی بات کرتے تھے تو بعض حلقوں کی جانب سے ان کی کردار کشی اور فکری حملے کیے جاتے تھے اور پوری قوت کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی تھی کہ مغربی تہذیب بدستور شان و شوکت کے ساتھ اپنی طاقت برقرار رکھے ہوئے ہے لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ اس قدیم درخت کا باطن اس حد تک دیمک زدہ اور کھوکھلا ہو چکا ہے کہ اس کی تباہی اور انہدام کے امکانات بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔
اپسٹین کیس پر مغربی میڈیا کا تضاد
ڈاکٹر معصومہ نصیری جو میڈیا لٹریسی کی مدرس اور محقق ہیں، نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اپسٹین کے معاملے کا میڈیا کے زاویے سے دقیق تجزیہ اور گہری جانچ پڑتال ضروری ہے۔
انہوں نے کہا: ایسی دنیا میں جہاں معمولی واقعات بھی بڑے خبروں کے موضوع بن جاتے ہیں یہ بنیادی سوال پوری طرح اٹھتا ہے کہ اتنی وسعت رکھنے والا یہ کیس کس طرح میڈیا سنسرشپ اور پردہ پوشی کے سائے میں رہا۔ اس مقدمے سے متعلق بعض معلومات کے افشا کے باوجود اب بھی وہ میڈیا شفافیت اور آزاد اطلاعاتی بہاؤ نظر نہیں آتا جس کا مغربی دنیا ہمیشہ دعویٰ کرتی رہی ہے۔ مزید یہ کہ ان معلومات کا سامنے آنا درحقیقت چند ممالک کے درمیان سیاسی اور سیکیورٹی کشمکش کا نتیجہ ہے جسے اس وقت اور عوامی رائے کی سمت متعین کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اصل بحث یہ ہے کہ مغربی نظام جو برسوں سے انسانی حقوق اور آزاد اطلاعاتی گردش جیسے تصورات کا علمبردار رہا ہے وہ کس طرح ایسے اہم معاملے کو اپنی میڈیا سنسرشپ اور مواد و پلیٹ فارم پر مبنی آمریت کی تہوں میں چھپائے رکھتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں اس بات پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ آیا میڈیا بالادستی کا نظام یہ طے کرتا ہے کہ ہم کیا دیکھیں کب دیکھیں اور کس زاویے سے دیکھیں؟
انہوں نے مزید کہا: میڈیا کے نقطۂ نظر سے اس مقدمے کو صرف انسانی حقوق یا بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے پہلو تک محدود نہیں کرنا چاہیے اگرچہ یہ پہلو بھی نہایت اہم ہیں۔ اگر ایسا واقعہ کسی مسلمان ملک میں پیش آیا ہوتا تو مغربی میڈیا اسے عالمی رسوائی بنا دیتا لیکن اب جبکہ مغربی بڑوں کا نام اس میں شامل ہے نہ تو شرمندگی کا کوئی احساس دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی مرکزی دھارے کے میڈیا کی جانب سے سنجیدہ سوال اٹھتے نظر آتے ہیں۔
جنسی زیادتی سے بڑھ کر ایک مسئلہ
میڈیا لٹریسی کی مدرس اور محقق نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: اس معاملے کی گہری میں دیکھیں تو یہ بچوں کے ساتھ جنسی استحصال سے بھی آگے ہے کیونکہ اصل مسئلہ اس جزیرے میں شیطان پرستی کی رسومات کا وجود اور ایک نئے قسم کے دین کی تشکیل کی کوشش ہے لہٰذا تمام آسمانی اور الٰہی ادیان کو اس رجحان کے مقابلے میں عالمی سطح پر سنجیدہ اور ہم آہنگ ردعمل ظاہر کرنا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ