منگل 17 فروری 2026 - 07:00
اپسٹین سکینڈل نے جدید مغربی تہذیب کے اصل چہرے سے نقاب اتار دیا

حوزہ / جیفری ایپسٹین کا سکینڈل مغرب کی بنیادی بدعنوانی اور اخلاقی زوال کی عکاسی کرتا ہے جس میں سیاسی اور شاہی اشرافیہ بھی شامل ہے جبکہ ایرانی-اسلامی تہذیب انسانی کرامت، علم، اخلاق اور عرفان پر قائم ہے اور ایک انسانی و اخلاقی نمونہ پیش کرتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | جیفری ایپسٹین، وہ امریکی سرمایہ دار جس نے اپنے جزیرے کو بچوں کی اسمگلنگ اور ان پر جنسی تشدد کا مرکز بنا دیا تھا، یہ ہرگز کوئی سادہ مجرمانہ واقعہ نہیں تھا۔ اس مقدمے نے مغربی تہذیب کے اصل چہرے سے نقاب اٹھا دیا۔ جب دستاویزات یہ ظاہر کریں کہ نہ صرف خود اپسٹین بلکہ برطانوی شاہی خاندان کے افراد سے لے کر امریکہ کے صدور اور یورپی وزرائے اعظم تک اس نیٹ ورک میں کردار ادا کرتے رہے ہیں، تو سوال اٹھتا ہے: کیا یہی وہ تہذیب نہیں جو انسانی حقوق اور آزادی کی دعویدار ہے؟ جب امریکہ کے اٹارنی جنرل کھلے عام ہزاروں کی تعداد میں کمسن بچیوں سے زیادتی کی ویڈیوز کے وجود کی بات کریں، تو پھر کسی توجیہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ جدیدیت کے لبادے میں لپٹی یہ درندگی دکھا دیتی ہے کہ مغربی تہذیب کے قلب میں طاقت اور دولت کی ہوس حکمران ہے۔

یہ وحشیانہ ماہیت صرف اپسٹین کے جزیرے تک محدود نہیں۔ مغرب کی کئی صدیوں پر محیط تاریخ منظم جرائم سے بھری پڑی ہے۔ یورپ بالخصوص انگلستان اور فرانس نے صدیوں تک افریقہ اور ایشیا کو لوٹا اور اپنی دولت استحصال اور غلامی کی بنیاد پر اکٹھی کی۔ ان جرائم کو جائز ثابت کرنے کے لیے سفید فام برتری کا نظریہ گھڑا گیا اور حتیٰ کہ کلیسا کو بھی اس تجارت کی خدمت میں لگا دیا گیا۔ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ غلاموں کی ایک بڑی تعداد بچے تھے، وہی تہذیب جو آج آمریت کے خلاف جدوجہد کے نعروں کے ساتھ اقوام پر تسلط کا سایہ تانے ہوئے ہے۔

اس تباہی کے مقابلے میں ایرانی-اسلامی تہذیب ہے جو انسانی کرامت، علم دوستی اور عرفان پر استوار رہی ہے۔ یہ تہذیب تلوار کے زور پر نہیں پھیلی بلکہ قلم اور حکمت کے ذریعے عالمگیر بنی۔ ابن سینا اور بیرونی سے لے کر فارابی، خیام، عطار اور حافظ تک، علم، اخلاق اور معنی ایک دوسرے میں پیوست نظر آتے ہیں۔ اس ثقافت نے حتیٰ کہ اسیران اور غلاموں کے ساتھ بھی انسانی سلوک اختیار کیا۔

وہ مغرب جو خود کو تہذیب کا قطب سمجھتا ہے، اپسٹین کے امتحان میں رسوا ہو گیا کیونکہ اس کی بنیاد بے لگام لذت پرستی اور مفاد پرستی پر ہے، جبکہ ایرانی-اسلامی تہذیب انسانِ کامل اور اخلاق پر زور دیتی ہے۔ اسلامی فکر میں علم اور دین ایک دوسرے کے معاون ہیں اور یہی ربط اخلاقی انہدام کو روکے رکھتا ہے۔ مغربی اشرافیہ کے ہاتھوں بچوں پر تشدد اس تہذیب کے روحانی بحران کی علامت ہے۔

اپسٹین کا جزیرہ اس تہذیب کی علامت ہے جو بین الاقوامی میدان میں بھی اسی تسلط پسند اور بے اخلاق روش کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ امریکہ جو ایک تفریحی جزیرے میں بچوں کو قربان کرتا ہے، ہمارے خطے میں بھی جنگ افروزی اور تباہی کے سوا کوئی تاریخ نہیں رکھتا۔ ۲۸ مرداد ۱۳۳۲ شمسی / 19 اگست 1953ء کی بغاوت میں CIA کی حمایت سے قانونی مصدق حکومت کا تختہ الٹنے سے لے کر ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ میں صدام کی ہمہ جہت حمایت اور افغانستان و عراق پر قبضے تک جن کے نتیجے میں لاکھوں بے گناہ انسان مارے گئے، یہ سب اس تہذیب کی اصل ماہیت کو آشکار کرتے ہیں۔ آج بھی امریکہ خطے میں فوجی یلغار اور ایران کو مسلسل دھمکیوں کے ذریعے آزاد اقوام پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے۔ جون ۲۰۲۵ء میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی ٹرمپ کی دھمکی اور خلیج فارس میں جنگی بیڑے کی تعیناتی، اسی تسلطی منطق کا تسلسل ہے جس نے اپسٹین کے جزیرے میں بچوں کو قربان کیا۔ جو مغرب اندرونِ ملک قانون اور اخلاق کو پامال کرتا ہے، وہ بیرونِ ملک بھی زبردستی اور تباہ کن مداخلت کے سوا کچھ نہیں جانتا۔

اپسٹین کی رسوائی محض ایک فوجداری مقدمہ نہیں بلکہ ایک دعوے کا خاتمہ ہے؛ اس تہذیبی برتری کے دعوے کا جو آج طاقت اور ہوس کے دلدل میں پھنس چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں ایرانی-اسلامی تہذیب اپنی گہری علمی اور معنوی پشت پناہی کے ساتھ اب بھی اس دنیا کے لیے ایک انسانی نمونہ پیش کر سکتی ہے جو مغرب کی جدید درندگی سے تھک چکی ہے، ایک ایسی تہذیب جس کے چراغِ راہ حافظ، سعدی اور ابن سینا ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha