تحریر: مولانا صادق الوعد
حوزہ نیوز ایجنسی| جیفری ایپسٹین کا اسکینڈل، جس نے عالمی اشرافیہ کے ہاتھوں بچوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے ایک منظم گروہ کے ہولناک حقائق سے دنیا کو روشناس کروایا، بادی النظر میں یہ ایک اخلاقی اور مجرمانہ عمل دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس مقدمے سے وابستہ شواہد اور علامتوں کا گہرا جائزہ ایک زیادہ عمیق اور تاریک تہہ خانے کی طرف ایک دریچہ کھولتا ہے؛ ایک ایسا تہہ خانہ جہاں جرم اور گناہ قدیم شیطانی رسومات اور نظریات سے جڑ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم سراغ ایپسٹین کے مرکزی بینک اکاؤنٹس میں سے ایک کا نام بَعْل ہے۔
یہ نام کوئی اتفاق نہیں ہے۔ بعل مذاہب اور قدیم اساطیر کی تاریخ میں سب سے بدنام اور طاقتور شیاطین میں سے ایک ہے، جس کی پرستش ہمیشہ قبیح ترین افعال، بالخصوص بچوں کو آگ میں قربان کرنے کے ساتھ وابستہ رہی ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایپسٹین کا نیٹ ورک صرف جنسی فساد کا ایک حلقہ نہیں تھا، بلکہ یہ بعل کی پرستش کی رسم کو زندہ کرنے اور ایک شیطانی طاقت کی خدمت کے لیے بنایا گیا ایک جدید معبد تھا۔
ایپسٹین کے مقدمے کا بعل کے نام سے علامتی تعلق کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے، ہمیں پہلے اس وجود کی تاریخی جڑوں تک جانا ہوگا۔بعل محض ایک خیالی نام نہیں، بلکہ مشرق وسطیٰ کی قدیم تہذیبوں، بالخصوص کنعانیوں کی تاریخ میں ایک گہری شناخت رکھتا ہے۔
قدیم دیومالائی کہانیوں میں، بعل (جس کا مطلب آقا یا مالک ہے) متعدد دیوتاؤں کا لقب تھا، لیکن ان میں سب سے نمایاں طوفان، زرخیزی اور شادابی کا دیوتا تھا۔ اس کی پوجا کا مقصد زرعی پیداوار کو یقینی بنانا اور جنگوں میں فتح حاصل کرنا تھا۔ تاہم، اس پرستش کا تاریک پہلو وہ ہولناک رسومات تھیں جو اس کے پجاری اس دیوتا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انجام دیتے تھے۔ ان رسومات میں سب سے اہم انسانوں، بالخصوص بچوں کی قربانی تھی۔
بعل کی سب سے خوفناک شکلوں میں سے ایک مولوخ (Moloch) یا مولک " نامی ایک اہریمن تھا۔ مولوخ کو اکثر گائے کے سر والے ایک عظیم الجثہ انسانی مجسمے کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔ اس کی پرستش کی رسم کچھ یوں تھی که اس کے مجسمے کے اندر ایک بڑی آگ بھڑکائی جاتی تھی، یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر سرخ اور دہکتا ہوا ہو جائے۔ اس کے بعد، معصوم نوزائیدہ بچوں کو زندہ اس بت کے دہکتے ہوئے ہاتھوں میں رکھ دیتے تھے تاکہ وہ آگ میں جل کر راکھ ہو جائیں۔ قربانیوں کی چیخ و پکار کو ڈھول اور موسیقی کی بلند آواز میں دبا دیا جاتا تھا، اور یہ مانا جاتا تھا کہ یہ عمل مولوخ کی طاقت اور رضامندی لائے گا۔
مسلمانوں اور یہودیوں کی مقدس کتابوں میں اس شیطانی رسم کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اسے انسانیت کے سب سے بڑے گناہوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید واضح طور پر حضرت الیاس علیہ السلام کی اپنی قوم کے ساتھ جدوجہد کا ذکر کرتا ہے جو بعل کی پوجا کرتے تھے: «أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ» (کیا تم بَعْل کو پکارتے ہو اور سب سے بہترین پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو؟) - (سورہ صافات، آیت ۱۲۵)
یہودیوں کی مقدس کتاب بنی اسرائیل کے بعل اور مولوخ کی پرستش کے عظیم گناہ کے حوالوں سے بھری پڑی ہے۔ "سامری" کہ جس کی پوجا بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں شروع کر دی تھی، بہت سے محققین کے نزدیک اسی بت مولوخ کی علامت تھا۔ (کتاب احبار، باب ۱۸، آیت ۲۱)۔ یہ تاریخی پس منظر ظاہر کرتا ہے کہ بعل خداوند کے خلاف سرکشی کی علامت اور اس ظلم و شر کا مجسمہ ہے جس کے مرکز میں معصوم بچوں کی قربانی ہے۔
توحیدی مذاہب کے غلبے کے بعد، بعل مشرک اقوام کے درمیان ایک دیوتا کے مقام سے گر کر دینی اور علومِ غریبہ کی کتابوں میں ایک شیطان اور دیو بن گیا۔ اس تبدیلی نے اس کی فطرت کو نہیں بدلا، بلکہ اس کے اہریمنی پہلو پر مزید زور دیا۔ یورپ کے کالے جادو اور جادوئی کتابوں میں،بعل کو جہنم کے سب سے طاقتور اور اعلیٰ ترین شیاطین میں سے ایک کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔
علم الشیاطین کے موضوع پر سب سے مشہور کتابوں میں سے ایک “سلیمان کی چھوٹی کنجی" ہے، جس میں بعل کو جہنم کے پہلے اور سب سے بڑے بادشاہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں اس کی خصوصیات کچھ یوں ہیں:
ظاہری شکل: وہ تین سروں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے: ایک مینڈک کا سر، ایک انسان کا سر اور ایک بلی کا سر۔ یہ تینوں سر اس کی مکاری، شیطانی ذہانت اور درندگی کی علامت ہیں۔
طاقت: وہ شیاطین کے ۶۶ لشکروں (سپاہ) پر حکمرانی کرتا ہے اور انسانوں کو غائب کرنے اور شیطانی حکمت عطا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
آواز: اس کی آواز سخت اور ناگوار ہے، لیکن وہ فصاحت سے بات کرتا ہے۔ یہ تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ بعل شیاطین کی دنیا میں ایک اعلیٰ کمانڈر اور طاقت و ممنوعہ علم کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے۔
بعل کی تاریخی اور شیطانی پس منظر کو سمجھنے کے بعد، اب جیفری ایپسٹین کے مقدمے کا تجزیہ ایک مجرمانہ نیٹ ورک کے دائرے سے باہر نکل کر کیا جا سکتا ہے۔ جزیرہ لٹل سینٹ جیمز، جو پیڈوفائل جزیرہ کے نام سے مشہور ہے، اشرافیہ کی ہوس رانی کے لیے محض ایک تفریح گاہ سے کہیں بڑھ کر تھا؛ وہ شیطان کی پرستش اور شیطانی رسومات کی ادائیگی کے لیے ایک جدید معبد تھا۔
ایپسٹین نیٹ ورک کا سہ سطحی تجزیہ
ایپسٹین کی سرگرمیوں کو تین ایک دوسرے سے جڑی ہوئی جہتوں میں سمجھا جا سکتا ہے:
پہلی سطح:
سطحی طور پر، یہ نیٹ ورک عالمی اشرافیہ کے ایک مخصوص حلقے کی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ایک منظم سپلائی لائن تھا۔ کمزور اور مجبور بچوں اور نوجوانوں کو ایک شے تصور کیا جاتا تھا اور انہیں تشدد، دھمکی اور نفسیاتی انحصار کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا۔
دوسری سطح :
اپسٹین اپنے مہمانوں کے نجی کمروں میں خفیہ کیمرے نصب کر کے منظم طریقے سے ان کے قبیح افعال کی فلم بندی کرتا تھا۔ یہ اقدام دنیا کی نامور سیاسی، مالی، سائنسی اور ثقافتی شخصیات کو بلیک میل کرنے، انہیں اپنا غلام بنانے اور کنٹرول کرنے کا ایک مؤثر ہتھیار تھا۔ یہ پہلو اس مقدمے کو محض ایک جنسی جرم سے بڑھا کر موساد اور عالمی صیہونی تنظیم کی طرف سے عالمی فیصلہ سازی کے نظام پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے ایک پیچیدہ دراندازی کے آپریشن کی سطح تک لے جاتا ہے۔
تیسری سطح:
یہ سب سے گہری سطح ہے، جہاں انجام دیئے گئے اعمال محض لذت پرستی اور بلیک میلنگ کی منطق سے آگے بڑھ کر علامتی رسومات کی پیروی کرتے ہیں۔ بینک اکاؤنٹ کا نام بعل اس تہہ خانے میں داخل ہونے کی کنجی ہے۔
اس نقطہ نظر سے: بچوں کا استحصال، معصومیت کی رسمی تباہی کی علامت ہے۔ شیطانی فرقوں کے عقائد کے مطابق، یہ عمل تاریکی کی قوتوں کو طاقت اور ان کی وفاداری حاصل کرنے کے لیے پیش کی جانے والی ایک قسم کی قربانی ہے۔ قربانی جتنی معصوم ہوگی (مثلاً ایک مسلمان بچہ)، شیاطین کے لیے آزاد ہونے والی توانائی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
مقدسات کی بے حرمتی: قرآن کے اوراق کو نجاست سے آلودہ کرنے اور ان محفلوں میں پردہ کعبہ کو فرش کے طور پر استعمال کرنے کی اطلاعات، مقدس اقدار کے خلاف علامتی اعلانِ جنگ کی نشاندہی کرتی ہیں۔
نجاست خوری اور خون خواری: ان اشرافیہ کی تفریحات میں انسانی گوشت اور فضلہ کھانے اور خون پینے جیسے اعمال شامل تھے، جو ابلیس کے ساتھ وجودی اتحاد کے لیے شیطان پرستی کی رسومات کے بنیادی ارکان ہیں۔ لہٰذا، ایپسٹین کا جزیرہ ایک جدید قربان گاہ تھا جہاں عالمی اشرافیہ اپنی روح شیطان کو بیچ کر، دنیاوی طاقت (بلیک میلنگ نیٹ ورک کے ذریعے) اور ماورائی طاقت (شیطانی رسومات کے ذریعے) دونوں حاصل کرتے تھے۔
ایپسٹین کا واقعہ ایک عالمی روحانی اور نظریاتی جنگ کا مظہر ہے جس کے ایک طرف الہی قوتیں اور دوسری طرف شیطانی قوتیں ہیں۔ یہ وہی تصادم ہے جسے اسلام کی سیاسی زبان میں حق و باطل یا مستضعفین و مستکبرین کی جنگ سے تعبیر کرتے ہیں ۔
جب امام خمینی (رح) نے امریکہ کو شیطان اکبر کا نام دیا، تو یہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں تھا، بلکہ اس سپر پاور کی باطنی حقیقت کا ایک گہرا اور بصیرت افروز تجزیہ تھا۔ امریکہ اور اس کی قیادت میں قائم نیا عالمی نظام ایک ایسے نظریے کا نتیجہ ہے جس کی جڑیں انہی خفیہ تنظیموں اور شیطانی رسومات میں پیوست ہیں جن کے بانی خود ان کے رکن تھے۔ صیہون کے اکابرین کے ۲۴ پروٹوکولز (مادے)، جو دنیا پر غلبے کا روڈ میپ ہیں، جس کا حتمی مقصد شیطان کی عالمی حکومت کا قیام اور شیطان پرستی کی ترویج ہے۔
اس شیطانی نظام کے مقابلے میں، اسلامی انقلابِ ایران اور امام خامنہ ای کی قیادت میں مزاحمتی محور، حق اور رحمانی لشکروں کے نمائندے کے طور پر کھڑا ہے۔ یہ جنگ محض ایک فوجی یا اقتصادی جنگ نہیں، بلکہ ایک وجودی اور روحانی جنگ ہے۔ اسی تناظر میں، مزاحمت کا ہر میزائل جو اسرائیل کی طرف داغا جاتا ہے، مرگ بر امریکہ کا ہر نعرہ، اور فساد کے خلاف ہر ثقافتی اقدام، شیطانی حکومت کے ڈھانچے پر ایک کاری ضرب ہے۔
آخرالزمانی کا معرکہ
اس جنگ کے روحانی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے علامتوں کی زبان اور علامتی اعمال پر توجہ دینا ضروری ہے۔ دونوں فریق اس جنگ میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے اور مخالف کو کمزور کرنے کے لیے علامتوں کا استعمال کرتے ہیں۔
22 بہمن کی ریلی میں بعل کے مجسمے کو آگ لگانے جیسا اقدام محض ایک علامتی اور نمائشی حرکت نہیں۔ روحانی نقطہ نظر سے، اس عمل کے حقیقی اثرات ہیں ۔ بعل جیسے شیطانی مجسمے اور علامتیں، منفی توانائیوں کو جذب کرنے کے مراکز اور شیطانی جنات کے انسانی دنیا میں داخلے کے دروازے ہیں۔ اس علامت کو جلانا اس رابطے کو منقطع کرتا ہے اور اس کے تباہ کن اثرات کو زائل کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، اللہ اکبر کا ذکر اور لاکھوں مومنین کی موجودگی ایک عظیم روحانی توانائی کو آزاد کرتی ہے، جو روایات کے مطابق، آسمان کے دروازے کھلنے اور اللہ کے فرشتوں کے حق کے لشکر کی مدد کے لیے نازل ہونے کا سبب بنتی ہے۔
آخر الزمانی نقطہ نظر سے، شیطانی رسومات کا پھیلاؤ، غزہ میں بچوں کا قتل عام اور مقدسات کی منظم بے حرمتی، یہ سب حتمی جنگ کے قریب آنے کی علامتیں ہیں۔ یہ اقدامات محض جرائم نہیں، بلکہ امام زمانہ (عج) کی قیادت میں الہی قوتوں کے ساتھ عظیم مقابلے سے پہلے، شیطانی جنات کے لشکروں کے لیے میدان تیار کرنا ہے۔
امام زمانہ (عج) کی غیبت کی تاریخ بھی یہودیوں کی مسلسل کوششوں سے بھری پڑی ہے کہ وہ ظہور کو روکیں یا ظہور کے بعد انہیں شہید کر دیں۔ صیہونی یہود نے علومِ غریبہ، فلکیاتی تبدیلیوں کی نگرانی اور جنات کے مؤکلوں کی خدمات حاصل کر کے ہمیشہ خدائی وعدے کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ایپسٹین کا نیٹ ورک اور عالمی اشرافیہ پر اس کا کنٹرول، اسی تحریک کے ہاتھ میں ایک آلہ ہے تاکہ دجال کی عالمی حکومت کے قیام اور امام مہدی (عج) کی حکومت کے مقابلے کے لیے حالات سازگار بنائے جائیں۔ لہٰذا، ایپسٹین کا مقدمہ ایک عظیم کائناتی اور آخرالزمانی جنگ کا ایک چھوٹا سا دریچہ ہے جس میں انسانیت کی تقدیر کا فیصلہ ہوگا۔









آپ کا تبصرہ