اتوار 15 فروری 2026 - 13:30
مغرب کے ساتھ عظیم تہذیبی معرکے میں علماء صفِ اوّل میں ہیں: آیت اللہ اعرافی

حوزہ/ حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت‌الله علی رضا اعرافی نے کہا ہے کہ انقلاب اسلامی اور جدید مغربی تہذیب کے درمیان جاری “بڑا تہذیبی معرکہ” ایک حقیقت ہے اور اس میدان میں علماء صفِ اوّل میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس فکری و تمدنی جدوجہد کی درست پہچان ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے، ورنہ ہماری پیش رفت ادھوری رہے گی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت‌الله علی رضا اعرافی نے کہا ہے کہ انقلاب اسلامی اور جدید مغربی تہذیب کے درمیان جاری “بڑا تہذیبی معرکہ” ایک حقیقت ہے اور اس میدان میں علماء صفِ اوّل میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس فکری و تمدنی جدوجہد کی درست پہچان ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے، ورنہ ہماری پیش رفت ادھوری رہے گی۔

ملکی سطح پر حوزوی اداروں کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ اعرافی نے 22 بہمن کی عوامی ریلی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ماہِ شعبان کے اختتام کے ساتھ ماہِ رمضان کی تیاری کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے رمضان کو “دینداری اور تبلیغ کا پشت پناہ مکتب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ اعمال کی قدر و قیمت میں کئی گنا اضافہ کر دیتا ہے۔ روایات کے مطابق اس مہینے میں ایک آیت کی تلاوت بھی غیر رمضان کے مکمل قرآن کے برابر اجر رکھتی ہے، جبکہ بعض اعمال کا ثواب بے شمار گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ رمضان کی تیاری صرف انفرادی عبادات تک محدود نہ ہو بلکہ ادارہ جاتی اور تنظیمی سطح پر بھی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ معاشرے کے روحانی ماحول میں حقیقی تبدیلی لائی جا سکے۔ انہوں نے تبلیغی اعزام میں حوزوی اداروں کے باہمی اشتراک کو “نعمتِ الٰہی” قرار دیتے ہوئے اس ہم آہنگی کو صوبائی سطح تک وسعت دینے پر زور دیا۔

آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ مغربی تہذیب کے بنیادی فکری ستونوں میں معرفت کی نسبیت، مادّیت، انسان مرکزیت، انفرادی آزادی کا مطلق تصور، لذت و افادیت پسندی، لبرل ازم اور سیکولر ازم جیسے نظریات شامل ہیں، جو انسانی علوم، تعلیم، فنون اور طرزِ زندگی پر اثرانداز ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی ترقی سے فائدہ اٹھانا عقلی امر ہے، مگر اس کے پس منظر میں موجود فکری سانچے کو نظرانداز کرنا درست نہیں۔

انہوں نے نئی نسل کی نفسیات کو سمجھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کا نوجوان تیز رفتار اور متنوع اطلاعاتی یلغار میں گھرا ہوا ہے، جس کے باعث فکری انتشار اور شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے میں تبلیغ کو محض معلومات کی ترسیل نہیں بلکہ تربیت، تحقیق اور دلوں میں اثر پیدا کرنے کے عمل کے طور پر ازسرِ نو متعین کرنا ہوگا۔

انہوں نے نظامِ تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اساتذہ کی معاشی حالت بہتر بنانے کو بھی ضروری قرار دیا اور کہا کہ تربیتی اہداف وسائل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے۔

آیت اللہ اعرافی نے انقلاب اسلامی کی بڑی کامیابیوں میں نظامِ شہنشاہیت کے خاتمے کو اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس انقلاب نے جبر پر قائم غیر مشروع نظام کو ختم کر کے ملک کی خودمختاری بحال کی۔ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے معاصر تاریخ کی مستند اور مدلل بازخوانی کو ناگزیر قرار دیا تاکہ انقلاب کے کارناموں کو عصری زبان میں مؤثر انداز سے پیش کیا جا سکے۔

انہوں نے آخر میں حوزوی و ثقافتی اداروں کے درمیان مسلسل رابطے، درست اعداد و شمار، اسٹریٹجک تجزیے اور مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آنے والا رمضان فکری و روحانی محاذ کو مضبوط بنانے کا سنہری موقع ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha