تحریر: جواد پاروی
حوزہ نیوز ایجنسی|40 دن کی استقامت کے بعد آج جب تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک ایسا دلکش اور حیرت انگیز منظرنامہ سامنے آتا ہے جو حق و باطل کی صدیوں کی کشمکش کا آئینہ دار ہے۔ ایک طرف "امریکی مشینری" اپنی تمام تر عسکری شوکت اور جدید جنگی مشینری کے باوجود " خاکِ ذلت" میں لتھڑا پڑا ہے تو دوسری طرف ایران کا "عزمِ آہنی" روحانیت اور سائنس کے حسین امتزاج سے فولاد بن کر ابھرا ہے۔
یہ جنگ جو بظاہر ایران کو تسلیم کرانے کے دعوے کے ساتھ شروع ہوئی تھی بالآخر ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کے باعث ایران کی اپنی شرائط پر رک گئی۔ اس جنگ نے نہ صرف خطے میں ایران کی عسکری برتری کو ثابت کیا بلکہ آبنائے ہرمز پر بھی ایران کی اسٹریٹجک بالا دستی کو تسلیم کروایا، عالمی سطح پر امریکی فوجی طاقت کے رعب و دبدبے اور ناقابل تسخیر ہونے کے دعوے کی قلعی کھول دی۔ متضاد بیانات اور کردار کی دورویی اور اپنے ہی اتحادی ملکوں کے انکار کے باعث تاریخ کے آئینے میں امریکہ بی اعتماد ترین ملک بن کر سامنے آیا۔
یہ محض 40 روزہ جنگ نہیں، بلکہ تاریخ کا وہ فیصلہ کن معرکہ تھا جہاں "شمشیرِ حق" نے باطل کی ریشمی چادر کو چاک چاک کر دیا۔ امریکہ اپنے "ٹوٹے ہوئے غرور" کا ملبہ اٹھائے، ندامت کے اندھیروں میں گم ہے، جبکہ ایران "طلوعِ صبحِ آزادی" کی مانند دنیا کے افق پر چمک رہا ہے۔
"رہبرِ معظم" کی دوراندیش قیادت نے ثابت کیا کہ "عقاب کی نگاہ" ہمیشہ دور تک دیکھتی ہے۔ ابتدائی حملے میں فوجی قیادت کی شہادت کے باوجود، محض دو گھنٹوں میں منتشر قوتوں کو منظم کر کے "زخمی شیر کی طرح" پلٹ کر جوابی حملہ کیا گیا اور پورے مشرق وسطی میں موجود امریکہ کی 72 سال کی محنت اور عربوں کی امید کو توڑ کر رکھ دیا۔ یہ وہ حکمت عملی تھی جس نے دشمن کے "فتح کے خواب" اور "رجیم چینج آپریشن" کو ناکام و نامراد بنا دیا۔ چار دہائیوں کی معاشی پابندیوں نے ایران کو کمزور کرنے کی بجائے ایران کے انقلابی "خنجر کو تیز تر کر دیا تھا اسی لئے میزائل ٹیکنالوجی میں حاصل کی گئی مہارت کے سامنے دشمن کے "چھ مضبوط ترین دفاعی طبقات" بشمول آئرن ڈوم، پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹم سب بے اثر نظر آئے۔ ایران کے میزائل "ابابیل کے پرندوں" کی مانند مشرق وسطی میں اپنے اہداف پر برستے رہے اور ہر روز امریکی و صہیونی ہاتھی کی سونڈ کو کچلتے رہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کا خواب بھی"راکھ کا ڈھیر" بن کر رہ گیا۔ اگرچہ جزوی نقصان ہوا، تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا لیکن "۴۰۰ کلوگرام یورینیم" آج بھی ایران کے محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ یہ نہ صرف سائنسی عظمت کا ثبوت ہے، بلکہ "استکباری طاقتوں کی ناکامی" کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان سب سے بڑھ کر عوامی یکجہتی دیوارِ برلن جیسا مضبوط اتحاد بن کر سامنے آئی۔ دشمن کی "تفرقہ اندازی" کی تمام تر کوششیں ایرانی قوم کے "فولادی اتحاد" کے آگے بے اثر ثابت ہوئیں۔ عوام نے ایک ایسی "دیوارِ ایمان" کھڑی کر دی جو برلن کی دیوار سے کہیں زیادہ مضبوط تھی۔ یہی وہ طاقت تھی جس نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا اور ہر روز دشمن کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ امریکہ کا انتشار اور افتراق کا پروپیگنڈا بھی ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں تار تار ہو گیا۔ عظیم شھداء نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا لیکن بے لگام استعماری کتوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالا۔ گویا "چراغِ ولایت" کی روشنی میں خیانت کے تمام پردے چاک ہو گئے۔ یوں ایران میں خارجی و داخلی منافقین اور خائنین کی مدد سے چار دہائیوں سے پنپنے والے جاسوسی نیٹ ورکس کا صفایا بھی ان چالیس دنوں میں ہو گیا اور یہ ایران کی "عقابی بصیرت" اور سیکیورٹی فورسز کے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
خلاصہ یہ جنگ محض فوجی تصادم نہیں تھی، بلکہ دو "تہذیبوں کا تصادم" تھا جس میں ایران نے ثابت کیا کہ "حق کی تلوار" ہمیشہ باطل کے خنجر پر بھاری ہوتی ہے۔"عزمِ ملت" کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔ اور "حکیمانہ قیادت " ہی درحقیقت سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
آج امریکہ "زخمی کتے" کی مانند اپنی شکست فاش پر گریاں ہے اور ذلت آمیز سیز فائر کے لئے تیار ہو گیا ہے، جبکہ ایران "طلوعِ آفتاب" کی مانند نئی امیدوں کے ساتھ ابھر رہا ہے اور عالم اسلام کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کا علمبردار بنا ہوا ہے۔ یہ نہ صرف ایران کی فتح ہے، بلکہ پورے عالم اسلام کی عظمت رفتہ کی بحالی کا آغاز ہے۔ انشاءالله ۔۔۔۔









آپ کا تبصرہ