تحریر: جواد پاروی
حوزہ نیوز ایجنسی| امریکہ نے ایران کی رضامندی کے بغیر جنگبندی کی مدت میں توسیع کرکے علاقائی اور عالمی سیاست میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ کیا یہ ٹرمپ کی مجبوری ہے؟ محاصرے کی نئی حکمتِ عملی؟ یا پھر فریب کی کوئی اور چال؟
واشنگٹن سے تہران تک، یہ سوال آج ہر شخص کی زبان پر ہے کہ جس جنگ کو ٹرمپ نے بغیر کانگریس کی اجازت کے شروع کیا، اسے یکطرفہ طور پر روکنے پر وہ کیوں راضی ہو گیا؟
یہ وہی ٹرمپ ہیں جنہوں نے محدود جنگی چال چلائی تھی، لیکن آج اس جنگ کو شروع کئے دو مہینے گزر چکے ہیں اور یہ جنگ خود ٹرمپ کی گردن میں پھندہ اور گلے کی ہڈی بن چکی ہے۔
داخلی محاذ پر، سینیٹ نے ان کی دو سو ارب ڈالر کی جنگی فنڈنگ مسترد کر دی۔ عوام اور قانون، دونوں ان پر بھاری پڑ رہے ہیں۔ بیرونی محاذ پر، محورِ مزاحمت نے ایسا کمرشکن دفاع کیا کہ پینٹاگون بھی حیران رہ گیا۔ عالمی اقتصادی بحران اور فرسائشی جنگ کا بڑھتا ہوا دائرہ، یہ وہ مجبوریاں تھیں جنہوں نے بظاہر ٹرمپ کو ایران کی مرضی کے بغیر جنگبندی کی توسیع پر آمادہ کرلیا۔
لیکن کیا یہ جنگبندی امن کی علامت ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ تو محاصرے کی ایک نئی شکل ہے۔ ٹرمپ نے اب کمخرچ حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ ایران کا دریائی محاصرہ اور آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کو تہس نہس کر سکتی ہے۔ ایران کے تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ محاصرہ خود جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ محاصرہ جہاں ایران کے لیے مسلسل عدم تحفظ پیدا کرتا ہے، وہیں امریکہ کو ایک مکمل اور مہنگی جنگ سے بچاتا ہے۔ ٹرمپ نے اس سیز فائر کی توسیع کے ذریعے جنگ کے سائے کو قائم رکھا، عوام کو اضطراب میں رکھا، اور مختلف دھمکیوں کے ذریعے ممکنہ اچانک حملے کا آپشن بھی کھلا چھوڑ دیا۔
امریکہ نے یہ گیند اب ایران کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ اگر ایران نے جنگبندی توڑی تو وہ جنگجو ثابت ہوگا، اور اگر اسے قبول کیا تو محاصرے کے طویل دباؤ میں دم توڑ دے گا۔ سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ امریکہ خود اس جنگ سے پہلو تہی کرنا چاہتا ہے، مگر اسرائیل کو لبنان میں جنگبندی کی خلافورزی کے بہانے کھیل میں باقی رکھنا چاہتا ہے۔ یہ دوغلے پن کی وہی پرانی چال ہے جو ہمیں ایران امریکہ سیزفائر کے دوران لبنان کے حوالے سے دیکھنے کو ملی۔ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ لبنان میں جنگبندی کے باوجود حملے کیوں ہو رہے ہیں تو انہوں نے کہا: "لبنان اس سیزفائر کا حصہ ہی نہیں ہے۔" اور اگلے دن جب لبنان اسرائیل معاہدہ ہوا تو کہنے لگے: "حزب اللہ بھی اس کا حصہ ہے۔" یہ وہی امریکی فریب اور دھوکےبازی کی پرانی تاریخ ہے جس نے ایران کو برسوں سکھایا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی معاہدہ اگلے دن ہی ٹوٹ سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ رسمی جنگبندی کا مطلب کارروائیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ یہ ٹارگٹ کلنگ، انفارمیشن وارفیئر، اور دوبارہ حملے کی تیاری کے لیے خریدا گیا وقت ہے۔ ٹرمپ نے براہِ راست جنگ سے بچنے کے لیے یہ چال چلی ہے، مگر خطے کی تقدیر اب اس پر منحصر ہے کہ ایران اس خریدے گئے وقت کو کیسے استعمال کرتا ہے۔ اس صورتِ حال سے نمٹنے کی اس میں کتنی صلاحیت ہے، اور وہ ان فرصت کے لمحوں میں دشمن کے اسٹریٹجک اور جنگی محاسبات کو کیسے درہم برہم کر سکتا ہے؟
یہ جنگبندی کسی کے لیے بھی حتمی کامیابی نہیں، امریکہ کی بالادستی کا بھرم ٹوٹا ضرور ہے مگر یہ آنے والے کل کی جنگ کا نقشہ ضرور تیار کر رہی ہے۔ یہ یکطرفہ سیزفائر ٹرمپ کی کھلی شکست ہے، مگر یہ شکست اپنے اندر ایک نئی جنگ کے بیج بھی رکھتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تہران کا ردِعمل کیا ہوتا ہے اور وہ اس تہہ در تہہ میڈمین پالیسی کا کیسے جواب دیتا ہے۔









آپ کا تبصرہ