جمعرات 2 اپریل 2026 - 16:52
ایران میں اہم حکومتی اور عسکری عہدیداران کا تعلق اہلسنت مسلک سے بھی ہوتا ہے

حوزہ/ امت واحدہ پاکستان کے 40 رکنی وفد نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی نائب صدر اور مجلسِ خبرگان میں اہلسنت علمائے کرام کے نمائندہ ڈاکٹر عبد السلام کریمی سے یونیورسٹی آف مذاہبِ اسلامی تہران میں خصوصی مصاحبہ کیا۔

از قلم: توقیر کھرل

حوزہ نیوز ایجنسی| تین سال پہلے نائب صدر سے پاکستان کے اہلسنت علمائے کے 40 رکنی وفد کی ملاقات بھی ہوئی تھی؛ ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی تھی پیش خدمت ہے۔

امت واحدہ پاکستان کے 40 رکنی وفد نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی نائب صدر اور مجلسِ خبرگان میں اہلسنت علمائے کرام کے نمائندہ ڈاکٹر عبد السلام کریمی سے یونیورسٹی آف مذاہبِ اسلامی تہران میں خصوصی مصاحبہ کیا۔

ڈاکٹر عبد السلام کریمی نے اپنے خصوصی خطاب میں فرمایا کہ ایران آپ سب کا وطن ہے اور پاکستان بھی ہمارا وطن ہے۔

ہم بطورِ اہلسنت بھی آیت اللہ خامنہ ای کو اپنا رہبر قرار دیتے ہیں ۔

ہمارے ملک کا آئین قرآن کریم کے مطابق ہے اور ہم دشمن سے نبرد آزما ہیں کسی بھی ملک و مذہب کی توہین کو حرام سمجھتے ہیں البتہ اختلاف پھیلانے والا شیطان اور اتحاد کو فروغ دینے والا رحمنٰ کا بندہ ہے۔

آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای نے صحابہ کرام اور امہات المومنین کی توہین شرعاً حرام اور قانوناً جرم قرار دیا جو شیعہ تفرقہ پھیلائے وہ برطانوی ایجنٹ ہے اور جو سنی فرقہ واریت کو ہوا دیتا ہے دراصل وہ امریکی ایجنٹ ہے۔

مسلمانوں کے مسالک کی مثال پانچ انگلیوں کے مترادف ہے اگر یہ یکجا ہوجائیں تو دشمن کے خلاف مضبوط مُکا یا طاقت ہے اگر پانچ میں سے کسی ایک انگلی کو نقصان ہوتا ہے گویا یہ خود کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

اتحاد بین المسلمین کے لیے 5 نکات بہت ضروری ہیں:

پہلے نمبر پر تبین یعنی ایک دوسرے کو سمجھیں جس کے لیے معنوی بصیرت ضروری ہے

دوسرے نمبر پر تبلیغ ہے یعنی شیعہ سنی تفکرات سے نکل کر فقط اسلام کی تبلیغ کریں۔

اتحاد بین المسلمین کا تیسرا حل تحمل برداشت ہے ضروری نہیں اگر آپ کسی فکر پہ ہیں تو وہ درست ہے اور آپ اس سے دوسروں کی تکفیر کریں ۔خدا ہاتھ باندھنے یا کھولنے کی طرف نہیں دِلوں کو دیکھتا ہے۔

ایک اور حل جو امت مسلمہ کے مابین اتحاد کو فروغ دے سکتا ہے وہ قرآن و سنت پر عمل کرنا ہے

اور آخری حل مرجع دینی سے آگے نہ بڑھیں آپ اپنے مراجع دینی کے مطابق چلیں اگر آپ جعفری ہیں تو امام جعفر صادقؑ کی تعلیمات پر عمل کریں اگر حنفی ہیں تو امام ابو حنیفہ کی تعلیمات پر۔

عمامے کے رنگ کی بنیاد پر اختلاف مت کیجئے خدا کے رنگ میں رنگ جائیے اسلامی معاشرے کے مختلف رنگ محتسن عمل ہے اور یہ قوس قزح کے مترادف ہے اس حسن کو بدنما نہ کیجیے بلکہ متحد ہوکر ایک امت بنیے۔

اگر کوئی شیعہ کسی مجتہد کی تقلید کرتا ہے تو اسکا ہرگز مطلب نہیں باقی مجتہدین غلط ہیں فقط رائے پر اختلاف ہے۔ ہدف صرف اسلام ہے ایسے ہی مختلف مسالک مطلب یہ نہیں باقی مسالک غلط ہیں۔

نشست کے اختتام پر امت واحدہ پاکستان کے سربراہ حجت السلام والمسلمین علامہ محمد امین شہیدی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha